شہدا نے خون دے کر دین کی آبیاری کی

شہدائے اسلام نے اپنا خون دیکر دین کی آبیاری کی جس سے اسلام کے گلشن میں بہار آئی اگر یہ لوگ مصلحت کا شکار ہو کر حالات سے سمجھوتہ کرلیتے تو آج اسلام کا دنیا پر یہ نقشہ نہ ہوتا جو آج موجود ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا صاحبزادہ امداد الحسن نعمانی’ مولانا سید غضنفر الرحمن’ مولانا محمد اقبال تنکاروی’ مولانا علی انور’ مفتی سیف اﷲ ‘ علامہ اسماعیل حقانی و دیگر علماء کرام نے مسجد نور ختم نبوت فارسٹ گیٹ لندن میں منعقدہ شہدائے اسلام کانفرنس میں کیا۔ مولانا صاحبزادہ امداد الحسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ذوالحجہ اور محرم الحرام شہادتوں کے مہینے ہیں کیونکہ اسلامی سال کے آخری مہینے ذوالحجہ میں داماد مصطفےٰ شہید مدینہ الرسول سیدنا عثمان غنی مظلومانہ انداز میں شہید ہوتے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیدنا عثمان پر اس کنویں کا پانی بند کیا گیا جو آپ نے سرور کائنات صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم پر خرید کر مسلمانوں پر وقف کیا اور مدینہ منورہ کی اس مسجد نبوی میں داخلہ بند کیا گیا جس میں مسجد کے ساتھ والی زمین خرید کر مسجد نبوی میں شامل کی اور حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ کو بار بار جنت کی بشارت عطا کی۔ مولانا نعمانی نے کہا کہ آپ نے مدینہ منورہ کے تقدس میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کردیا مگر مدینہ منورہ کا تقدس پامال نہیں ہونے دیا مگر اس مظلوم کو وہ حیثیت نہیں دی جاتی جو دینی چاہئے حالانکہ تمام انباء کرام کی امتوں میں حضرت عثمان غنی وہ خوش قسمت امتی ہیں جن کے نکاح میں پے درپے آپۖ کی دو بیٹیاں آئیں جب دوسری بیٹی کا انتقال ہوا تو آپ نے اعلان فرمایا کہ میرے پاس اس وقت صرف دو ہی بیٹیاں تھیں جو یکے بعد دیگرے میں نے عثمان کے نکاح میں دیں اگر میرے پاس چالیس بیٹیاں ہوتیں تو ایک کا انتقال ہوتا جاتا دوسری میں عثمان کے نکاح میں دیتا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ الحمدﷲ ہم اہل سنت و الجماعت جہاں شہدائے کربلا کی لازوال قربانیوں کا ذکر کرکے اپنے ایمانوں کو تازہ کرتے ہیں وہاں شہدائے مدینہ و دیگر شہدائے اسلام کی عظیم قربانیوں کا تذکرہ کرکے اپنے ایمان کی کھیتی کو پانی دیکر اسے ترو تازہ کرتے ہیں۔ مولانا نعمانی نے مزید کہا کہ اس وقت دنیا کے حالات کے پیش نظر اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو صحابہ کرام اور اہل بیت کی ان عظیم قربانیوں اور کارناموں سے روشناس کراکے ان کی ذہن سازی کریں تاکہ ان کے اندر صبر و تحمل اور بردباری کا مادہ پیدا ہوسکے اور ہر اس بات سے بچ سکیں جس سے تخریب کاری یا دہشت گردی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ مولانا سید غضنفر الرحمن نے کہا دس محرم الحرام کو خانوادہ نبوت نے سیدنا حسین ابن علی کی قیادت میں قربانیوں کا وہ باب رقم کیا ہے جس کا قیامت تک تذکرہ ہوتا رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ زبان سے میدان کربلا کے واقعات بیان کرنا بہت آسان ہیں مگر ان جیسا حوصلہ اور جذبہ پیش کرنا بڑا مشکل ہے اس لئے کہ نواسہ رسول نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بچوں’ بھانجوں’ بھتیجوں اور رفقاء کا کردار شہید ہوتے ہوئے دیکھا اور پھر خود ہی اپنی جان دیکر جام شہادت نوش کرلیا مگر باطل کو قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا ان حضرات کی شہادتیں دراصل خلفاء ثلاثہ کی خلافت پر مہر ثبت ہے کیونکہ اگر ان کی خلافتیں برحق نہ ہوتیں تو پھر یہ پہلی کربلا نہیں بلکہ چوتھی کربلا ہوتی اگر بیٹا باطل کو قبول نہیں کرتا تو باپ کس طرح قبول کرسکتا ہے سیدنا علی مرتضیٰ رضی اﷲ عنہ ان کے مشیر بن کر ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے رہے اور اپنی بیٹی حضرت عمر کے نکاح میں دیکر رشتہ داریاں قائم ہیں۔ مولانا قبال تنکاروی نے اپنے خطاب میں میں کہا کہ آج دنیا میں مسلمانوں کا زوال اس لئے کہ ہم نے ان مبارک ہستیوں کی پیروی ترک کردی جب تک مسلمان اپنے اکابرین کے طریقوں پر گامزن تھے تو دنیا پر ان کا رعب اور دبدبہ رہا مگر آج ہم دنیا سے اتنی زیادہ محبت کرتے ہیں اور موت سے ڈر رہے ہیں جیسا ہم نے ہمیشہ اس دنیا میں رہنا ہے۔ ان لوگوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کرکے دکھایا کہ یہ دنیا عارضی ہے اور اس میں بسنے والی ہر چیز بھی عارضی ہے ہم نے عارضی کو مستقل اور مستقل کو عارضی بنالیا ہے جس سے دھوکہ کھا رہے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ صحابہ کرام اہل بیت عظام اور اولیاء کاملین کے طریقوں کو اپنائیں تاکہ ہماری دارین کی زندگیاں کامیاب ہوسکیں۔ مولانا مفتی سیف اﷲ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں اس قدر شہیدوں کے نام ہیں اگر ان کا شمار کیا جائے تو بہت بڑا وقت درکار ہے مگر ان میں جو نمایاں شخصیات ہیں ان میں سیدنا فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا نام بھی بہت زیادہ نمایاں ہے کیونکہ آپ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی شہادت اور مدینہ منورہ کی موت کی دعا کیا کرتے تھے لوگ حیران ہوتے کے شہادت اور مدینہ منورہ جبکہ آپ امیر المومنین بھی ہیں مگر اﷲ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اﷲ تعالیٰ نے آپ کو مدینہ منورہ میں شہادت کی موت نصیب فرمائی۔ ابو لولو جو مجوسی غلام تھا اور ایران کا رہنے والا تھا فاروق اعظم کی فتوحات سے بر وقت جلتا تھا اس نے نماز میں آپ پر حملہ کرکے زخمی کیا جس وجہ سے آپ نے جام شہادت نوش کیا آپ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں ایسے اقدامات کئے جو تاریخ کا بہت بڑا حصہ بن گئے جن پر لوگ قیامت تک ان کو خراج عقیدت پیش کرتے رہیں گے علامہ مولانا محمد اسماعیل نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام میں صرف مردوں کی شہادتیں ہی نہیں بلکہ دین اسلام کے لئے عورتیں بھی مردوں سے پیچھے نہیں ہیں انہوں نے کہا سیدہ سمیہ جب ایمان لیکر آتی ہیں کفر کی پوری قوت اور طاقت زور لگاتی ہے کہ ان کو دوبارہ اپنے آبائو اجداد کے دین میں لایا جائے مشرکین مکہ نے ہر ظالم آپ پر آزمایا مگر حضرت سمیہ اپنے ایمان پر ڈٹ جاتی ہیں کفر نے جب دیکھا کہ ہماری کوئی تدبیر کامیاب نہیں ہورہی تو حضرت سمیہ کو شہید کردیا جاتا ہے آپ نے اﷲ کی راہ میں اپنی جان دے دی مگر اسلام کا دامن چھوڑ کر حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم سے بے وفائی نہ کی چنانچہ اسلام کی تاریخ میں یہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے اسلام کے لئے اپنی جان کا نذرانہ دیا کانفرنس کی دو نشستیں ہوئیں پہلی نشست کی صدارت حاجی محمد اختر نے کی جب دوسری نشست کی صدارت حاجی ذوالفقار نے کی کانفرنس کا آغاز قاری محمد اسماعیل کی شاندار تلاوت قرآن پاک سے ہوا اور عشاء کی نماز تک جاری رہی مولانا امداد الحسن نعمانی کی پر تاثیر دعا پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی جس میں بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی

Related posts