صحافی احمد نورانی پر حملے کیخلاف آر آئی یو جے کا احتجاجی مظاہرہ

اسلام آباد(نیوزلائن)وفاقی دارلحکومت میں سنیئر صحافی احمد نوارنی پر قاتلانہ حملہ کے خلاف راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے) کی کال پر ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں مقررین نے اسے آزادی اظہار پر حملہ قرار دیتے ہوئے پیر تک ملزمان کی عدم گرفتاری کی صورت میں حملہ کے مقام پر احتجاجی کیمپ لگانے اور پارلیمنٹ کے اجلاسوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے ،آر آئی یو جے اور این پی سی کے مشترکہ اجلاس میں سنیئر صحافیوں پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ،احتجاجی مظاہرے سے سنیئر اینکرز حامد میر ، ارشد شریف ،سلیم صافی ،خاور گھمن ،مرتضیٰ سولنگی ،جرنلسٹس پینل کے چیئر مین فاروق فیصل خان ،آر آئی یو جے صدر مبارک زیب ،جنرل سیکرٹری علی رضاعلوی ،نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل انجم ،سیکرٹری عمران یعقوب ڈھلوں سمیت سنیئر صحافیوں نے خطاب کیا ،آر آئی یو جے صدر مبارک زیب خان نے کہاکہ گزشتہ دو ماہ سے ایک منظم طریقے سے سنیئر صحافیوں کی آواز کو اکنٹرول میں لانے کی ناکام کوشش کی جا ری ہے چاہیے وہ ارشد شریف پر ایک خبر کی صورت میں ایف آر آئی ار کا اندراج ہو یا مطیع اللہ جان کے گاڑی کو نشانہ بنانا ہو ،سید طلعت حیسن کی کردار کشی کی کوشش ہو یا آج سنیئر صحافی احمد نورانی کی جان لینے کی ناکام کوشش ہو ،یہ تمام واقعات سنجیدہ ہیں اس پر ہمیں شدید تشویش ہے ،یہ جرنلزم کو محدود کرنے کی کوشش ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائیگا اگر کسی کو کسی بھی صحافی کے خلاف کوئی شکایت ہے تو اس کے لیئے متعلقہ فورم موجود ہیں ، احمد نوارنی پر حملہ ایک گھناونی کوشش ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے ،آر آئی یو جے ملزمان کے گرفتاری کے لیئے آخری حد تک جائیگی ان تمام واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے آر آئی یو جے چیف جسٹس آف پاکستان سے از خود نوٹس کی اپیل کرتی ہے ،نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل انجم نے کہا کہ احمد نوارنی بہادر صحافی ہے جس جگہ اسے نشانہ بنایا گیا وہاں نیکٹا کا دفتر ہے حکمرانوں کے لیئے یہ ایک ٹیسٹ کیس ہے ، نیشنل پریس کلب کے سابق صدر فاروق فیصل خان نے کہا کہ احمد نوارنی پر جان لیواءحملہ صحافیوں کے لیئے ایک پیغام ہے منتخب قیادت جو لائحمہ عمل دے گی جڑواں شہروں کی صحافی برادری لبیک کہے گی ،سنیئر اینکر پرسن حامد میر نے کہا کہ احمد نوارنی سچ کی آواز ہے اس کی آواز کو دبانے کی ناکام کوشش کی گئی ،وہ عناصر جان لیں کہ صحافی خاموش نہیں بیٹھیں گے ،سنیئر صحافی/اینکر پرسن ارشد شریف نے کہا کہ احمد نوارنی پر حملہ انتہائی تشویش ناک ہے اس فعل کی صرف مذمت نہیں کرتے ہیں بلکہ ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں ،ملک کو صحافیوں کے لیئے جہنم بنانے سے گریز کیا جانا چاہیے ،سنیئر اینکر سلیم صافی نے کہا کہ حملہ آور بزدل تھے جو چھپ کے وار کرتے ہیں ان سے کہیں بہادر ہمارے رپورٹر ز ہیں جو کھل کے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں ،حکومت اور ادارے ملزمان کو گرفتار کریں یہ حملہ وفاقی دارلحکومت میں ہوا ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بلوچستان اور فاٹا کے صحافی کس حال میں ہونگے ،اینکر پرسن خاور گھمن نے کہا کہ صحافیوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے ہمیں مظاہروں سے آگے کو سوچنا ہو گا ،سنیئر اینکر پرسن مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ وزیر اعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان کو نوٹس لینا ہو گا ،نیشنل پریس کلب کے سیکرٹری عمران یعقوب ڈھلوں نے کہاکہ ایسی اوچھی حرکتوں اور کاروائیوں سے سچ کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا ،آر آئی یو جے جنرل سیکرٹری علی رضا علوی نے کہا ہے کہ ہم مسلسل ارباب اختیار یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آزادی صحافت کا گلہ نہ گھونٹےں احمد نورانی پر قاتلانہ حملے پر شدید تشویش ہے۔ آر آئی یو جے کے سابق جنرل سیکرٹری بلا ل ڈار نے احمد نوارنی پر ہونے والے حملے کی تفصیلات سے شرکاءکو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ احمد نوارنی کو بعض خبروں اور ٹوئیٹ کے حوالے سے خطرات لاحق تھے ،جب وہ گھر سے نکلے تو انہیں زیرو پوائنٹ پر نیکٹا کے دفتر کے سامنے نشانہ بنایا گیا ،آر آئی یو جے کے فنانس سیکرٹری اصغر چوہدری نے کہا کہ ایک تسلسل کے ساتھ سنیئر صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے پہلے مطیع اللہ جان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا پھر سید طلعت حسین کی کردار کشی کی گئی اب احمد نورانی پر قاتلانہ حملہ ہوا ،ملزمان کی گرفتاری تک ہمارا احتجاج جاری رئیگا ۔علاوہ ازیں پی ایف یو جے ، نیشنل پریس کلب اور آر آئی یو جے کی منتخب باڈی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 31اکتوبر تک ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہ لائی گئی تو جائے وقوعہ پر احتجاجی کیمپ لگایا جائیگا جبکہ اسی روز پارلیمنٹ کے اجلاسوں کی کاروائی کا بائیکاٹ کیا جائیگا ۔معاملے کی از خود تحقیقات کے لیئے سنیئر صحافیوں پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں پی ایف یو جے ،این پی سی اور آر آئی یو جے کے نمائندے شامل ہونگے ۔

Related posts

Leave a Comment