ضابطہ اخلاق:غیر قانونی جلسہ کرنے پر شہباز شریف کو نوٹس


فیصل آباد (نیوزلائن)ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر نے غیرقانونی جلسہ کرنے پر مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف ‘ ن لیگ کے فیصل آباد میں تمام انتخابی امیدواروں اور سٹی جنرل سیکرٹری کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا نوٹس جاری کردیا۔نوٹس میں میاں شہباز شریف اور ان کے ساتھیوں کو 23جولائی تک اس کا جواب جمع کروانے کی ہدائت کی گئی ہے۔نیوزلائن کے مطابق ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر سید احمد فواد کی طرف سے جاری کئے گئے نوٹس میں میاں شہباز شریف‘ رانا ثناء اللہ‘ طلال چوہدری‘ علی گوہر بلوچ‘ شہباز بابر‘ میاں فاروق‘ حاجی اکرم انصاری‘ میاں عبدالمنان‘ عابد شیرعلی‘ رانا محمد افضل‘ ملک نواز‘ مہر حامد رشید‘فقیر حسین ڈوگر‘ رانا علی عباس‘ شیخ اعجاز احمد‘ میاں طاہر جمیل‘ اسرار احمد منے خان‘ ظفر اقبال ناگرا‘ میاں اجمل آصف‘ خالف پرویز گل‘ شفیق گجر‘ راؤ کاشف رحیم‘ صفدر شاکر‘ آزاد علی تبسم‘ رانا شعیب ادریس‘ اکبر علی گجر‘ عفت معراج‘ رائے حیدر علی‘ سکندر حیات‘ جعفر علی ہوچہ‘ اور شاہد محمود بیگ کو غیرقانونی جلسہ کرانے کا مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن نے الفتح گراؤنڈ میں جلسہ کرنے اجازت طلب کی تھی۔ ن لیگ کی درخواست پر اسے جلسہ کرنے کی اجازت دیدی گئی مگر میاں شہباز شریف‘ رانا ثناء اللہ‘ طلال چوہدری‘ علی گوہر بلوچ‘ شہباز بابر‘ میاں فاروق‘ حاجی اکرم انصاری‘ میاں عبدالمنان‘ عابد شیرعلی‘ رانا محمد افضل‘ ملک نواز‘ مہر حامد رشید‘فقیر حسین ڈوگر‘ رانا علی عباس‘ شیخ اعجاز احمد‘ میاں طاہر جمیل‘ اسرار احمد منے خان‘ ظفر اقبال ناگرا‘ میاں اجمل آصف‘ خالف پرویز گل‘ شفیق گجر‘ راؤ کاشف رحیم‘ صفدر شاکر‘ آزاد علی تبسم‘ رانا شعیب ادریس‘ اکبر علی گجر‘ عفت معراج‘ رائے حیدر علی‘ سکندر حیات‘ جعفر علی ہوچہ‘ شاہد محمود بیگ اور دیگر ن لیگی رہنماؤں و کارکنوں نے اجازت نامے کے برعکس سلیمی چوک میں سڑک بلاک کرکے جلسہ کیا۔ نوٹس میں ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر نے واضح کیا ہے کہ ن لیگ کی طرف سے سلیمی چوک میں چوراہا اور سڑکیں بلاک کرکے جلسہ کرنے کے انتظامات ہوتے دیکھ کر بھی انہیں وارننگ دی گئی تھی اور ایسا کرنے سے روکا اور الفتح گراؤنڈ میں جلسہ کرنے کی ہدائت کی گئی تھی مگر ن لیگ کی قیادت نے ایسا نہ کیا۔ نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ن لیگ کو جلسہ کرنے کی مشروط اجازت دی گئی تھی جس میں کئی ایک شرائط تھیں جس کی مسلم لیگ ن نے خلاف ورزی کی ہے۔ مزید یہ کہ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کی چار شقوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ 23جولائی تک اس کا جواب دیں ورنہ ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Related posts