عالمی تعلیمی درجہ بندی میں سنگا پورسرفہرست

سنگاپور (نیوزلائن)ریاضی اور سائنس کے پرائمری اور سکینڈری سطح پر ہونے والے بین الاقوامی امتحانوں میں سنگاپور 57 ممالک میں سرِفہرست ہے۔شمالی آئرلینڈ کے طلبا چھٹے نمبر پر ہیں جو کہ یورپی ممالک میں پہلی پوزیشن بنتی ہے۔لیکن برطانیہ کی پوزیشن چار سال پہلے کی سطح پر جوں کی توں برقرار ہے۔بین الاقوامی فہرست میں مشرقی ایشیا کے ممالک جیسا کہ جنوبی کوریا اور جاپان سرِ فہرست ہیں۔خیال رہے کہ دنیا کے 57 ممالک میں نو سے دس اور 13 سے 14 سال کی عمر کے چھ لاکھ سے زیادہ بچوں سے لیے جانے والے ٹیسٹ کی بنیاد پر ٹرینڈ اِن انٹرنیشنل میتھمیٹکس اینڈ سائینس سٹڈی ( ٹی آئی ایم ایس ایس) ہر چار سال بعد شائع ہوتا ہے۔بین الاقوامی سطح پر ہونے والے مقابلے کا مرکز برطانیہ کا سکول سسٹم ہوتا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ کے نتائج میں حیران کن بات یہ ہے کہ برطانوی نتائج میں سنہ 2011 سے سنہ 2015 کے دوران کتنی کم تبدیلی آئی ہے۔بِن ڈربن جو کہ نیشنل فاونڈیشن فار ایجوکیشنل ریسرچ سے وابستہ ہیں کا کہنا ہے کہ سنہ 2011 سے 2015 کے دورا ن سکول کے نتظیمی ڈھانچے، استاتذہ کی تربیت اور امتحانی طریقہ کار میں تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں۔سکینڈری سسٹم میں سنگا پور پہلے، جنوبی کوریا دوسرے اور تائیوان تیسرے نمبر پر ہے۔ اس فہرست میں امریکہ کا نمبر دسواں ہے جبکہ برطانیہ 11ویں نمبر پر ہے۔فہرست میں پرائمری لیول میں انگلینڈ ریاضی میں ایک درجہ تنزلی کے ساتھ نویں سے دسویں نمبر پر آگیا ہے جبکہ سکینڈری لیول میں 10 سے 11ویں نمبر پر ہے۔سنگاپور کے شعبہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تعلیم اچھے گریڈ لینے سے کچھ آگے کی چیز ہے۔ٹیمس کی ڈائریکٹر میشیل مارٹن کا کہنا ہے کہ کامیابی کی سب سے اہم وجہ کوالٹی اور اساتذہ کی اہلیت ہے اور سنگاپور کی کامیابی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہاں تعلیم سب سے بالاتر ہے۔اسی پراجیکٹ سے وابستہ ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈرک ہیسٹڈت کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا میں ایسی کہانیاں بھی سننے کو ملتی ہیں کہ وہاں شاہراؤں کو اس لیے بند کر دیا جاتا ہے تاکہ امتحان کے دوران طالب علم شور سے تنگ نہ ہوں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ 20 سال کے ٹیسٹ کے دوران جماعت کے سائز کو بھی دیکھا گیا جو کہ کم ہوتا جا رہا ہے اور ایسا جنوبی کوریا اور اس جیسے دیگر ممالک میں ہوا

Related posts