عمران خان کا ایک مخصوص رویہ اور عادت


غور کیجیے رویے کا ایک مخصوص پیٹرن ہے جو بار بار دہرایا جا رہا ہے۔
پیٹرن یہ ہےکہ جب بھی اپنے خلاف کیس ہو تو اسے لٹکاؤ، ممکن ہو تو پیش ہی نہ ہو تاکہ غیر حاضری میں فیصلہ صادر ہونے کو عدم انصاف سے تعبیر کیا جا سکے۔ اور اگر کسی مخالف کے خلاف کیس سے کوئی معدوم سے معدوم سیاسی فائدہ حاصل ہونے کی توقع ہو تو صبح شام میڈیا پر بیانات جاری کرتے پھرو، وجہ بے وجہ عدالتوں کی چکر کاٹتے پھرو ۔۔۔ اور اپنی قانون پسندی اور عدلیہ کی آزادی کا علم لہراتے پھرو۔
چند مثالوں سے بات واضح ہو جائے گی۔
۱ – انیس سو ستانوے میں سیتا وائیٹ نامی ایک امریکی امیرزادی نے کیلیفورنیا کی عدالت میں دعویٰ دائر کیا کہ اس کی چار سالہ بیٹی ٹیریان کا اصل والد عمران خان ہے۔ عدالت نے عمران خان صاحب کو صفائی کو پورا موقعہ دیا اور اپنا خون کا نمونہ جمع کروانے کا حکم دیا تاکہ خون کے جینیاتی تجزیے سے سیتا وائیٹ کے دعوے کی حقیقت پرکھی جا سکے۔ عدالت میں شروع میں عمران خان کا وکیل پیش ہوتا رہا ۔۔ لیکن چند ہی پیشیوں سے پتہ چل گیا کہ یہ مقدمہ خان صاحب کے لئے بہت سے سیاسی و سماجی مضمرات کا حامل ہے، بس اس کے بعد سے عدالت سے ہر طرح کا تعاون ختم کر دیا گیا۔ نہ خان صاحب اور نہ ہی ان کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے، نہ ہی عدالت کے حکم پر خون کا نمونہ جمع کروایا گیا۔۔۔ بلکہ سیتا وائیٹ کو اپنے سیاسی مخالفین کا آلہ کار قرار دے کر اس کی کردار کشی کی گئی ۔ عدالت نے خان صاحب کے اس عدم تعاون کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلے میں سیتا وائیٹ کے دعوے کو درست قرار دے دیا۔ خان صاحب آج تک اس فیصلے کے خلاف یہ جواز پیش کرتے رہے ہیں کہ ڈی این اے ٹیسٹ سے ان کی والد ہونا ثابت نہیں کیا گیا ۔۔ اور یہ فیصلہ بغیر ثبوت کے دے دیا گیا ہے۔ اس مقدمے کے تفصیلات کا جائزہ لینا مقصود نہیں ہے، صرف راہ فرار والے رویے کی نشاندہی مقصود ہے۔
مجھے ذاتی طور پر سارے مقدمے میں سیتا وائیٹ کے وکیل کے یہ کلمات پڑھ کر سب سے زیادہ افسوس ہوا:
” سیتاوائیٹ حاملہ ہو گئی اور خان نے امید کا اظہار کیا کہ یقیناً لڑکا ہو گا۔لیکن جب اسے پتہ چلا کہ لڑکی ہے تو اس نے مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ کرکٹ نہیں کھیل سکتی۔ اس نے سیتا وائیٹ پر زور ڈالا کہ بچے کو ضائع کر دیا جائے لیکن وہ نہیں مانی۔”
آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ شخص کا بچیوں کے حوالے سے ایسا صنفی امتیاز پر مشتمل رویہ کسی بھی طرح قابلِ تحسین نہیں ہے۔ پاکستان کے پسماندہ ترین علاقوں کے مردوں میں ایسی جاہلانہ سوچ پائی جاتی ہے۔
۲- دوہزار چودہ (2014) کے دھرنے میں (یکم ستمبر کو ) اسلام آباد پولیس کے ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو کو اپنی نوکری کے پہلے ہی دن ، پانچ دوسرے پولیس والوں کے ہمراہ ، دھرنے کے شرکاء کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کا مقدمہ عمران خان، طاہر القادری اور ان کے ساتھیوں پر قائم کیا گیا۔ عدالت کی جانب سے بارہا عمران خان اور قادری صاحب کو عدالت میں پیش ہونے کا کہا گیا۔ ان کے گھروں پر کئی کئی نوٹس بھجوائے گئے۔ لیکن دونوں ملزمان عدالت میں ایک دن بھی پیش نہیں ہوئے۔ پچھلے سال 2016 میں عدالت نے انہیں بھگوڑا قرار دیا، گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے اور ملزمان کی جانب سے عدم تعمیل اور پولیس رپورٹ کے بعد ،اس سال (2017) تین فروری کو ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے گئے اور بالاآخر جولائی 2017 میں متعلقہ اداروں کو ان کی جائیداد کی ضبطی کے لئے ابتدائی احکامات دے دئے گئے ہیں۔ یکم ستمبر 2014 سے لیکر آج تک تقریباً تین سال کا عرصہ بنتا ہے جس دوران عدالت سے بھگوڑے قرار پائےاور عدل کی راہ میں رکاوٹ بنے لیکن حاضر نہ ہوئے۔
عدالت کی کسی بھی سخت حکم کے نتیجے میں یقیناً مظلومیت کی چادر پہن کر شور مچایا جائے گا کہ عدالت ان کا موقف لئے بغیر فیصلہ صادر کر کے بے انصافی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ کیس کی تفصیلات بتانا مقصود نہیں ہے، صرف گریز اور فرار کے رویے کی طرف توجہ مبذول کروانا ہے۔
۳- پی ٹی آئی کے ایک بانی رکن نے 14 نومبر 2014 کو پی ٹی آئی کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان میں دعویٰ دائر کیا کہ عمران خان کے نام سے رجسٹرڈ دو آفشور کمپنیوں کے ذریعے ممنوعہ غیر ملکی ذرائع سے تیس لاکھ ڈالر کی رقم جمع کی گئی۔ بعد میں یہ رقم مشرق وسطیٰ سے ہنڈی کے غیر قانونی ذرائع سے پاکستان میں پی ٹی آئی کے ملازمین کے اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کرائی گئی۔ یہ الزام بھی عائدکیا گیا کہ ان فنڈز کے متعلق الیکشن کمیشن آف پاکستان میں عمران خان کی طرف سے جھوٹی دستاویز جمع کرائی گئی ۔ یہاں پر ممنوعہ غیر ملکی ذرائع سے مراد بھارتی اور اسرائیلی افراد کی کمپنیاں ہیں ۔
چودہ نومبر 2014 کے دن سے لیکر آج تک (جولائی 2017 ) ڈھائی سال سے زیادہ کی مدت گزر چکی ہے ، درجن بھر کے قریب وکلاء تبدیل ہو چکے ہیں لیکن الیکشن کمیشن کے کسی ایک سوال کا جواب بھی جمع نہیں کرایا گیا ہے۔ پہلے الیکشن کمیشن کے حقِ سماعت کو چیلنج کیا گیا۔ اس میں ناکامی ہونے پر الیکشن کمیشن کے اراکین کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی اور ان کے خلاف سیاسی دباؤ ڈالنے کے تمام حربے استعمال ہوئے ۔ ہر حربے میں ناکامی کے بعد بھی ممنوعہ ذرائع کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں جواب جمع نہ کرایا جا سکا۔ کیس کی تفصیل بتانے کا محل نہیں ہے، صرف فرار اور گریز کے رویے کو واضح کرنا مقصود ہے۔
۴ – اپریل 2017 کو پانامہ لیکس کے مقدمے کی سماعت کے دوران عمران خان صاحب کی طرف سے شریف خاندان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے ایک مشترکہ دوست کے ذریعے خان صاحب کو، پانامہ کیس میں چپ رہنے کے عوض، دس ارب روپے رشوت کی پیشکش کی ہے۔شریف خاندان کی طرف سے اس امر کا انکار کیا گیا تو خان صاحب کی طرف سے جلسوں میں بار بار چیلنج کے انداز میں کہا گیا کہ شریف خاندان ان کے اس رشوت کے دعوے کو عدالت میں چیلنج نہیں کر سکتا۔ اگر ان میں ہمت ہے تو وہ خان صاحب کو عدالت میں بلائیں، وہاں وہ اس پیشکش کی سارے پول کھول کر رکھ دیں گے۔
خان صاحب کی اس بڑھک کے جواب میں میاں شہبازشریف نے پہلے مئی 2017 کو قانونی نوٹس بھیجا اور ہتک عزت پر معافی کا مطالبہ کیا۔ لیکن خان صاحب کی طرف سے اس کو نظرانداز کر کے جلسوں میں عوامی تقاریر کے ذریعے یہ مطالبہ جاری رکھا گیا کہ انہیں عدالت میں بلایا جائے تاکہ وہ تمام حقائق سے پردہ اٹھا سکیں۔ ان کی باتوں سے یوں لگتا تھا کہ وہ عدالت میں بہت سارے پول کھول کر شریف برادران کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رکھیں گے۔
نوٹس کی مدت (14 دن ) پوری ہونے کے بعد شہباز شریف کی جانت سے کیس عدالت میں دائر کر دیا گیا اور ہرجانے کے طور پر دس ارب کا دعویٰ کیا گیا۔ عدالت نے 7 جولائی 2017 کو عمران خان کو نوٹس جاری کیا کہ وہ 21 جولائی کو عدالت میں پیش ہو کر اپنے بیان کی وضاحت پیش کریں۔ پچھلے تمام کیسوں کی طرح آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ اس کیس میں بھی نہ عمران خان صاحب خود پیش ہوئے اورنہ ہی وکیل پیش ہوا۔ وہ تمام دعوے اور چیلنج ہوا میں دھرے کے دھرے رہ گئے۔ یہاں بھی اپنے خلاف فیصلہ ہونے کی صورت میں اسے آسانی سے انتقامی کاروائی قرار دے کر مظلوم بنا جا سکتا ہے۔
آپ حیران ہوں گے کہ اگر اپنے خلاف کیسوں سے فرار اختیار کرنا اور لٹکانا عمران خان صاحب کی ایک عادت ہے تو سپریم کورٹ میں حنیف عباسی کی درخواست کے جواب میں کیوں تندہی دکھائی جا رہی ہے۔ میرے خیال میں یہاں عمران خان صاحب پانامہ کیس میں اپنی غیر معمولی سرگرمی کی وجہ سے ٹریپ ہو گئے ہیں اور طوعاً کرہاً اپنا جواب جمع کروانے پر مجبور ہیں۔ ان کے بس میں ہوتا تو یہاں بھی وہ فرار سے کام لیتے۔
عمران خان صاحب کا یہ رویہ اتنا پختہ ہو چکا ہے کہ اگر ہمیں کسی کا نام لئے بغیر یہ بتایا جائے کہ کوئی شخص عدالت میں پیش نہیں ہو رہا یا کیس کو طول دئے جا رہا ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی ذہن میں عمران خان کی شبیہ ابھر آتی ہے۔
ہماری دعا ہے کہ عمران خان صاحب کے ساتھ مکمل انصا ف ہو اور انہیں کسی بے انصافی کا گلہ نہ رہے۔

عمران زاہد

Related posts

Leave a Comment