غلط رپورٹنگ پر چینل 24کو پیمرا کا نوٹس‘ پابندی کا امکان

اسلام آباد(نیوزلائن) پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے چینل 24 کو جمعرات کے دن حادثے کا شکار ہونے طیارے کی آڈیو نشر کرنے پر نوٹس جاری کر دیا ہے۔ پی آئی اے کی فلائٹ 661 چترال سے اسلام آباد جاتے ہوئے ایک پہاڑ سے ٹکرا کرتباہ ہو گیا تھا جس میں 47 افراد کی موت ہوئی تھی۔ کریش کے کچھ دیر بعد سوشل میڈیا پر ایک کلپ چلایا گیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ طیارے کے پائلٹ کی آخری آواز ہے۔ آڈیو میں لوگوں کی چیخ و پکار کی آوازیں صاف سنائی دیتی ہیں ۔ تحقیق کے بعد معلوم ہو اکہ یہ آڈیو کسی اور حادثے کی ہے۔ یہ آڈیو چینل 24 نے بدھ کی رات 9 بج کر 47 منٹ پر نشر کی تھی جس کے بعد پیمرا نے چینل کو 15 دن کے اندر جواب پیش کرنے کر حکم دیا ہے۔ نوٹس کے مطابق چینل 24 نے پیمرا کے قوانین کے سیکشن 3، 8 اور 17 کی خلاف ورزی کی ہے۔ چینل کو ثابت کرنا ہو گا کہ:

1۔ یہ آڈیو واقعی 7 دسمبر کو تباہ ہونے والے طیارے کی تھی

2۔ ثبوت پیش کرنا ہو گا کہ کیسے یہ آڈیو ریکارڈ کر کے چینل کو بھیجی گئی۔

چینل کے خلاف شکایات موصول ہونے کے بعد پیمر ا نے تحقیقات کا آغاز کیا ۔ اگر چینل سوالات کے جوابات پیش نہ کر پایا تو اسے 10 ملین روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ حادثے میں سنگر سے نعت خواں میں تبدیل ہونے والے جنید جمشید ، دو آسٹریلوی شہری، ایک چینی شہری بھی پی آئی اے کی فلائٹ نمبر پی کے 661 میں سوار تھے جو باتولنی گاوں کے قریب گاگن پہاڑ پر گر گیا تھا ۔ ائیر لائن کے مطابق جہاز اے ٹی آر 42 ٹربو پراپ ائیر کرافٹ تھا۔ چترال سے واپس اسلام آباد لوٹتے ہوئے طیارے کا بینظیر ائیر پورٹ سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ پی آئی اے کے چئیرمین اعظم سیگل نے خراب انجن کو حادثے کا ذمہ دار قرار دیا۔ 4:15 منٹ پر اے ٹی سی کو ایمرجنسی کال آئی جس میں پائلٹ نے بتایا کہ طیارہ کنٹرول سے باہر ہو چکا ہے اور انجن خراب ہو گیا ہے۔ تھوڑی دیر بعد پائلٹ نے آخری کال پر اپنی بے بسی کا اظہار کیا اور پھر حادثہ ہو گیا۔

Related posts