غیرقانونی کیمپس : سرگودھا یونیورسٹی کے اعلیٰ حکام فراڈ میں ملوث نکلے

uos-logoفیصل آباد (ندیم جاوید) یونیورسٹی آف سرگودھا کے غیرقانونی کیمپس کے قیام اور ان کیمپس کو چلانے میں جامعہ کے اعلیٰ حکام ملوث نکلے۔ نیوز لائن کے مطابق غیرقانونی کیمپس جامعہ کے سابق وائس چانسلر سمیت متعدد اعلیٰ حکام ملوث ہیں جبکہ موجودہ انتظامیہ بھی ان غیرقانونی پرائیویٹ کیمپسز کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق جامعہ کے کنٹرولر امتحانات‘ رجسٹرار اور بعض دیگر حکام عوام کیساتھ کئے جانے والے فراڈ میں ملوث ہیں۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن یونیورسٹی آف سرگودھا کے لائلپور کیمپس‘ فیصل آباد کیمپس‘ ویمن کیمپس فیصل آباد‘ بھکر کیمپس‘ میانوالی کیمپس کو غیرقانونی قرار دے چکا ہے۔ یونیورسٹی نے ایک طرف تو عوام اور طلبہ کیلئے انتباہی نوٹس جاری کیاجس میں واضح طور پر کہا گیا کہ فیصل آباد کے کیمپس قانونی نہیں ہیں اور یونیورسٹی ان میں داخلوں کی اجازت نہیں دیتی۔اور عوام و طلبہ کو واضح ہدائت کی گئی کہ ان نجی کیمپسز میں داخلہ نہ لیا جائے۔مگر دوسری جانب یونیورسٹی حکام ہر طرح سے ان غیرقانونی کیمپسز کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ہائیر ایجوکیشن میں ان کیمپسز کا کیس یونیورسٹی حکام لڑ رہے ہیں جبکہ غیرقانونی کیمپسز کے طلبہ کے امتحانات بھی کنٹرولر ایگزامینیشن کے حکم پر لئے جا رہے ہیں اور کنٹرولر آفس ان امتحانات کو کنڈکٹ کرتا اور ان کے نتائج جاری کرتا اور انہیں ڈی ایم سی جاری کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یونیورسٹی حکام کا یہ طرز عمل دوہری پالیسی کے زمرے میں آتا ہے ایسا کر کے یونیورسٹی حکام غیر قانونی کیمپسز کی سپورٹ کر رہے ہیں اور قانون کی رو سے غیر قانونی کیمپسز کے مالکان کیساتھ ساتھ یونیورسٹی کے ذمہ دار حکام کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہئے۔ نیوز لائن کے رابطہ کرنے پر سرگودھا یونیورسٹی کے ویمن و فیصل آباد کیمپس کے اعلیٰ انتظامی آفیسر عزیز الرحمان نے تصدیق کی کہ یونیورسٹی آف سرگودھا ان کے امتحانات لے رہی ہے اور ان کے طلبہ کو باقاعدہ ڈی ایم سی جاری کئے جا رہے ہیں اور دیگر قانونی معاملات میں بھی یونیورسٹی کے رجسٹرار و دیگر حکام ان کی معاونت کر رہے ہیں۔

Related posts