غیرملکی فنڈنگ کیس‘ پی ٹی آئی کی مشکلات میں اچانک اضافہ



اسلام آباد(نیوزلائن) انتظار کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ پی ٹی آئی نے 688 صفحات پر مشتمل ریکارڈ تین جلدوں کی صورت میں سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا ہے۔ یہ سب ریکارڈ غیر ملکی فنڈز حاصل کرنے کے الزامات کے جواب میں داخل کیا گیا ہے۔ کل جو پی ٹی آئی ترجمان یہ دعوی کر رہے تھے کہ عمران خان کو سیاست کی بنیادی چیزوں کی بھی آگاہی نہیں ہے اور بنی گالہ ایک ایسا غار ہے جو ڈرگ پیڈلر کا ٹھکانہ بنا ہوا ہے اب ان کا دعوی ہے کہ ڈاکیومنٹ جمع کروا کر عمران خان نے فنڈز سے متعلق تمام ثبوت جمع کروا دیے ہیں۔ 688 میں سے 629 صفحات یعنی 91 فیصد حصہ کچھ ایکسل شیٹوں پر مشتمل ہے جس میں پی ٹی آئی کے ڈونرز کے نام درج ہیں اور دو پی ٹی آئی ایل ایل سی 5975 اور 6160 اکاونٹس جو امریکہ میں درج ہیں کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔ جب ریکارڈ یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے تو ان ایکسل شیٹس کی کیا ضرورت ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈیپارٹمنٹ ان غیر ملکی فنڈز کا بھی ریکارڈ رکھتا ہے جو غیر قانونی طور پر پی ٹی آئی کو رقم چندہ میں دیتے رہے ہیں۔ باقی کے 59 صفحات میں رجسٹریشن سرٹیفیکیٹ، ذاتی افیڈیوٹ، اور فنڈنگ سے متعلق پی ٹی آئی کی پالیسی کی تفصیلات شامل ہیں۔ تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ سے حاصل کردہ رقوم پی ٹی آئی کے آفیشل اکاونٹ میں جمع کروائی گئی تھیں۔ لیکن پھر بھی اس کے ساتھ کوئی ایسا بینک ریکارڈ یا سٹیٹمنٹ شامل نہیں کی گئی جسے ایک ثبوت کے طور پر تسلیم کیا جا سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی بینک اکاونٹس میں بہت سی ایسی رقوم ہیں جن کا ذکر الیکشن کمیشن کے سامنے نہیں کیا گیا۔ تینوں جلدوں میں پی ٹی آئی کے یو کے بینک اکاونٹ کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔ برطانیہ سے حاصل کردہ رقم بھی الیکشن کمیشن سے خفیہ رکھی گئی۔سعودی عرب، سے عمران خان نے اپنے دوست ذوالقرنین علی خان کے ذریعے جو رقم حاصل کی اس کا بھی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ یہ رقم بھی خفیہ رکھی گئی۔تین جلدوں میں ایک بھی ایسا ثبوت موجود نہیں جو گلف، یو اے ای وغیر ہ سے غیر قانونی طور پر متنقل ہونے والی رقم جو عمران خان تک عمران چوہدری کے ذریعے پہنچی ہے کو جائز ثابت کر سکے۔ یہ رقم الیکشن کمیشن سے مخفی رکھی گئی ہے۔تینوں جلدوں میں آسٹریلیا سے حاصل کی گئی رقم کی بھی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔یہ رقم بھی الیکشن کمیشن سے چھپائی گئی۔ تین جلدوں میں میں کینیڈا سے جمع کی گئی رقم کی بھی کوئی تفصیل درج نہیں ہے۔ یہ رقم بھی چھپائی گئی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ تینوں جلدوں میں کئی بھی واضح ثبوت یا بینک سٹیٹمنٹ ایسی نہیں ہے جس میں یورپ سے حاصل کی گئی رقم کا ذکر ہو۔ یہ ساری رقم الیکشن کمیشن سے مخفی رکھی گئی ہے۔یہ تو صر ف آغاز ہے اور سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی دستاویزات میں بہت سے مسنگ لنک ہیں جو بہت جلد سامنے آنے والے ہیں۔

Related posts

Leave a Comment