غیر حقیقی اشتہاری مہم چلانے پرپی ایس او کوپندرہ کروڑ روپے جرمانہ


کراچی (نیوز لائن)غیر حقیقی اور گمراہ کن اشتہاری مہم چلانے پر کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) پر15 کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔یہ جرمانہ پی ایس او کی جانب سے “پریمئیر ایکسل” پٹرول اور “گرین پلس “ڈیزل مصنوعات کے متعلق گمراہ کن تشہیری مہم اور کمپیٹیشن ایکٹ کے سیکشن 10 کی خلاف ورزی کی بنا پر عائد کیا گیاہے۔ یہ آرڈر سی سی پی کی چئیر پرسن ودیعہ خلیل اور ممبران شہزاد انصر اور اکرام الحق قریشی پر مشتمل بنچ نے جاری کیا ہے۔سی سی پی کے آرڈر کے مطابق پی ایس او نے 2004 سے 2012 کے دوران اپنی فیول کی مصنوعات میں ایسے اضافی عناصر کی ملاوٹ شروع کر دی تھی جن کے متعلق پی ایس او یہ دعوی کرتا تھا کہ یہ انجن کی کارکردگی کو بڑھاتا ہے،ما حول دوست ہے اور کم خرچ بھی ہے۔آرڈر کے مطابق اس کیس کی سماعتوں کے دوران پی ایس او اپنے ان دعوہ جات کو ثابت کرنے کے لئے کو ئی سائنسی بنیاد نہیں پیش کر سکا اور 2012/2013 میں ان اضافی عناصر کی ملاوٹ بند کرنے کے بعد بھی پی ایس او نے اپنی تشہیری مہم میں یہ دعوی جاری رکھے۔ان گمراہ کن دعوی جات کی بنا پر صارفین یہ سمجھنے پر مجبور ہو گئے کہ کہ وہ جو فیول پی ایس او سے لے رہے ہیں وہ باقی کمپنیوں کے فیول سے بہتر ہے اور اسطرح مارکیٹ میں کمپیٹیشن بر ی طرح متاثر ہوا۔سی سی پی نے یہ جرمانہ عائد کرنے کے علاوہ پی ایس او کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ وہ اپنی تشہیر ی مہم اور تشہیری مواد سے “گرین ” اور “پریمیم ” کی اسطلاح کے استعال کو فوری طور پر بند کر دے اور 30روز کے دوران اس تاثر کو ختم کریں کہ ان کی مصنوعات پریمیم اور ماحول دوست ہیں۔سی سی پی نے پی ایس کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ عام عوام کو اس بارے میں انگریزی اور اردو اخبارات کے توسط سے مطلع کریں اور45 یوم کے اندر کمپیشن کے پاس تعمیلی رپورٹ جمع کرائیں۔

Related posts