فرعون کی حضرت موسیٰ کی پیدائش روکنے کی کوشش

لاہور(نیوزلائن)ملک کے ہزاروں نجومی فرعون کے حکم پر اکٹھے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے خواب میں انہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی بشارت دی تھی ۔ وہ بخوبی یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ ہم ان کی پیدائش کو نا ممکن بنا دیں گے۔ ہم وہ جتن کریں گے کہ اس رات کوئی بھی اسرائیلی عورت حاملہ نہ بن سکے گی۔ چنانچہ انہوں نے منادی کروا د دی کہ آج رات بادشاہ کی جانب سے اسرائیلیوں کو دعوت عام ہے۔ بادشاہ اپنی اسرائیلی رعایا کو اپنے دیدار سے نوازیں گے۔ اس دور میں کوئی بھی اسرائیلی فرعون کے دیدار کی جرات نہ کر سکتا تھا اور اگر وہ ایسی جرات کرتا تھا تو اسے بد ترین سزاد دی جاتی تھی۔لہذا اسرائیلی مسرور تھے کہ بادشاہ کا دیدار بھی ہو گا اور انعام و اکرام بھی ملے گا۔ یہی وجہ تھی کہ تمام اسرائیلی ایک میدان میں جمع ہو چکے تھے۔ لالچ ان کو گھیر لایا تھا۔ فرعون نے حسب وعدہ ان کو اپنا دیدار کروایا اور انعامات سے بھی نوازا ۔ در حقیقت انہیں اس رات میدان میں مصروف کرتے ہوئے ان کی عورتوں سے جدا رکھا گیا تھا۔ فرعون کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ وہ خوشی سے دیوانہ اپنے محل میں واپس آ چکا تھا۔ وہ خوش تھا کہ اس کی تدبیر کامیاب ہو چکی تھی۔ عمران اس کا خزانچی تھا وہ بھی اسرائیلی تھا۔ وہ بھی فرعون کے ہمراہ محل واپس آ چکا تھا۔ وہ چونکہ فرعون کا پسندیدہ اسرائیلی تھا لہذا فرعون نے اسے پیشکش کی تم بھی یہیں محل میں سو جاؤ۔ لہذا عمران وہیں سو گیا اور فرعون بھی سونے کے لئے چلا گیا۔ رات کے وقت عمران کی بیوی شہوت کے زیر اثر اس کے پاس آن پہنچی ۔ عمران نے پوچھا کہ تم یہاں کیوں آئی ہو اس نے کہا کہ محبت اور اللہ کا حکم مجھے یہاں کھینچ لایا ہے۔ عمران بھی جذبات سے بے قابو ہو گئے اور امانت اس کے حوالے کر دی اور اسے خبردار کیا کہ وہ کسی سے اس بات کا ذکر نہ کرے وگرنہ ہم بے موت مارے جائیں گے۔ عین اس وقت میدان سے لوگوں کے شوروغل اور نعرے بلند کرنے کی آواز سنائی دی فرعون برہنہ پا محل سے باہر نکل آیا اور ا س شور کی وجہ دریافت کی ۔عمران نے بتایا کہ لوگ آپ کے دیدار سے بہرہ ور ہونے کی خوشی منارہے ہیں۔ فرعون نے جواب دیا کہ عین ممکن تمہارا خیال درست ہو ا لیکن مجھے اس شوروغل سے خوف محسوس ہو رہا ہے اور میرے دل میں اندیشے سر اٹھا رہے ہیں۔ جب موسیٰ علیہ السلام رحم مادر میں آئے تب آسمان پر ایک ستارہ طلوع ہوا۔ یہ ستارہ اس وقت نمودار ہوتا ہے۔ جب کوئی نبی رحم مادر میں آتا ہے۔ عمران نے فرعون کو تسلی دی کہ میں باہر جا کر شور وغل کی وجہ دریافت کرتا ہوں۔ انہوں نے نجومیوں سے دریافت کیا کہ یہ شور کیسا ہے۔ بادشاہ کی نیند میں خلل واقع ہو رہا ہے۔ نجومی اپنے سروں پر خاک ڈال رہے تھے اور واویلا مچا رہے تھے۔ وہ کہنے لگے کہ ہم قدرت کے سامنے بے بس ہیں۔ جس بچے کی پیدائش کو ہم روکنا چاہتے تھے ہم اس کو روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں کیونکہ وہ وجود میں آ چکا ہے اور اس کی پیدائش کا ستارہ طلوع ہو چکا ہے اور ہم اس غم میں سر پیٹ رہے ہیں اور ٹسوے بہا رہے ہیں ۔ اگرچہ عمران اس خبر سے از حد خوش ہوئے لیکن بظاہر انہوں نے بھی فکر مندی کا مظاہرہ کیا اور نمائشی غصے کا اظہار کرتے ہوئے نجومیوں کو ڈانٹ پلائی اور واپس جا کر فرعون کو صورت حال سے مطلع کیا۔
cropped-cropped-newslinelogo730x90-1.png
NEWS Line
Pakistan’s Best News Website

Related posts