فوجی عدالتوں کا اختیار 2جنوری کو ختم ہو جائیگا

اسلام آباد(نیوزلائن) فوجی عدالتوں کو دیئے گئے خصوصی اختیارات اگلے مہینے 2 جنوری کو ختم ہور رہے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت فوجی عدالتوں کے خصوصی اختیارات میں اضافے کے لیے آئین میں ترمیم کرنے کی خواہش مند نہیں ہے۔نیوزلائن کے مطابق گزشتہ برس 3 جنوری کو پارلیمنٹ نے 21 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے کر فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں توسیع کرتے ہوئے دہشت گردوں کی فوجی عدالتوں میں سماعت کی منظوری دی تھی،جبکہ پہلے فوجی عدالتوں کو صرف فوجی اہلکاروں کے جرائم کی سماعت کا اختیار تھا۔واضح رہے کہ پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کرکے فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں اضافہ کیا گیا تھا ،جس کے تحت فوجی عدالتوں کو دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ روابط، مذہب کا نام استعمال کرکے جرائم، پاکستان کے خلاف لڑنے اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے کرنے والوں کے خلاف سماعت کا اختیار مل گیا تھا۔ترمیم کے بعد فوجی عدالتوں کو اغوا برائے تاوان میں ملوث مجرموں، ہتھیاروں کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں،خود کش جیکٹ اورگاڑیاں رکھنے اور بنانے والوں، دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرنے یا بیرون ملک سے دہشت گردی کے لیے معاونت حاصل کرنے والوں سمیت بیرون ملک اقلیتوں اور ملک کے لیے دہشت گردی یا عدم تحفظ جیسے حالات پیدا کرنے والوں کے خلاف بھی سماعت کا اختیارمل گیاتھا۔فوجی عدالتوں کے اختیارات میں توسیع کی ترمیم بھی 2 سال قبل منظور کی گئی تھی اور اس کی مدت بھی آئندہ ماہ ختم ہو رہی ہے،مگر وزارت قانون نے تاحال اس کی مدت بڑھانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے ہیں۔وزیر مملکت برائے امور داخلہ بلیغ الرحمٰن کا کہناہے کہ حالات کی بہتری کے بعد قانون سازی کی ضرورت نہیں رہی۔محکمہ قانون کے ایک اہلکار کا کہناہے کہ وزارت قانون ترمیم سے متعلق محکمہ داخلہ کے مسودے کی تیاری کے انتظار میں ہے، جب کہ محکمہ داخلہ نیشنل ایکشن پلان( نیپ) کے تحت فوجی عدالتوں کو دیے گئے اختیارات اور ہشت گردی میں بہتری کے حالات کا جائزہ لے رہا ہے۔ اہلکار کے مطابق محکمہ داخلہ نے فوجی عدالتوں کی مدت بڑھانے سے متعلق وزارت قانون سے مشورہ کرلیا ہے، محکمہ داخلہ کے مطابق اگر وہ فوجی عدالتوں کی مدت بڑھانے کے خواہاں ہونگے تو تحریری طور پر وزارت قانون کو خط لکھیں گے۔

Related posts