فیصل آباد کی 206سمیت پنجاب کی4ہزار رہائشی سکیمیں غیرقانونی


فیصل آباد(ندیم جاوید)فیصل آباد کی206سمیت پنجاب کی چار ہزار سے زائد رہائشی سکیمیں غیرقانونی اور خلاف قواعد نکلیں۔لینڈ مافیا نے غیرقانونی رہائشی کالونیاں بنا کرعوام سے اربوں روپے لوٹ رہے ہیں مگر کوئی ادارہ ان کیخلاف ایکشن لینے کو تیار نہیں ہے۔کرپشن اور لوٹ مار کی ان داستانوں میں روائتی میڈیا بھی کرپٹ مافیاز کو تحفظ فراہم کرنے میں لگا ہوا ہے۔نیوزلائن کے مطابق ملک کے سب سے بڑے صوبے میں لینڈ مافیا نے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے۔عوام کو لوٹنے والے لینڈ مافیا میں بڑے بڑے صنعتکاروں‘ اہم شخصیات کے نام شامل ہیں جبکہ انہیں کئی ایک حکومتی شخصیات‘ وفاقی و صوبائی وزراء‘ ارکان اسمبلی اور بیورو کریسی کی پشت پناہی حاصل ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق صوبے کے مختلف شہروں میں چار ہزار سے زائد رہائشی کالونیاں غیرقانونی اور خلاف قواعد ہیں۔فیصل آباد کی 200سے زائد رہائشی سکیمیں ان غیرقانونی کالونیوں کی لسٹ میں شامل ہیں۔ ان کی باقاعدہ مجاز اتھارٹی سے منظوری نہیں لی گئی اور نہ ہی ان کے قیام کے قانونی تقاضے پورے کئے گئے ہیں۔ان غیرقانونی رہائشی کالونیوں میں کسی قسم کی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں اور بغیر منظوری کے ہی متعلقہ حکام کی ملی بھگت سے ان کالونیوں کو شہریوں کو بوگس طریقے سے فروخت کر دیا گیا۔غیرقانونی رہائشی سکیموں کے پلاٹوں کی بوگس طریقے سے فروخت میں میڈیا کا بھی کردار سامنے آیا ہے اور میڈیا کے کئی ادارے اس جعل سازی اور لینڈ مافیا کے دھندے میں براہ راست ملوث پائے گئے ہیں۔جعل سازی اور لوٹ مار کے اس دھندے میں ملوث عناصر کو قانون کے شکنجے سے بچانے کیلئے خود قانون کے محافظ ہی سرگرم ہیں اور عوام کی دولت لوٹنے والوں کے تحفظ کی ذمہ داری عوام کے ہی منتخب نمائندوں اور حکومتی عہدیداروں نے سنبھال رکھی ہیں۔ان غیرقانونی رہائشی سکیموں‘ ان کو بنانے واے لینڈ مافیا‘ لینڈ مافیا کو تحفظ دینے والوں‘ غیرقانونی رہائشی سکیموں کی پروموشن کرنیوالے میڈیا‘ اس سکینڈل میں ملوث بیوروکرسی سمیت سب کے نام اور لسٹیں موجود ہیں مگر کوئی ذمہ داران کیخلاف ایکشن لینے کو تیار نہیں۔

Related posts