فیصل آباد کے دو حلقوں میں تحریک انصاف ‘ ن لیگ غیراعلانیہ اتحاد


فیصل آباد (احمد یٰسین)فیصل آباد کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 110اور پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 117میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف نے غیراعلانیہ اتحاد بنا لیا ہے۔ اس اتحاد کو مسلم لیگ ن کے اہم رہنماؤں رانا ثناء اللہ ‘ مئیر فیصل آباد رزاق ملک‘ سابق ایم پی اے نواز ملک اور تحریک انصاف کے رہنماؤں چوہدری سرور ‘ چوہدری اشفاق اور راجہ ریاض کی حمائت بھی حاصل ہونے کی بات سیاسی حلقوں میں سرگرم ہے۔نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 110سے تحریک انصاف کے امیدوار راجہ ریاض احمد نے اپنے ساتھ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 117میں اپنی ہی پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر حسن مسعود کی کھل کر مخالفت شروع کردی ہے۔ ڈاکٹر حسن مسعود کو پہلے دن دے ہی راجہ ریاض اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتے تھے اور انہوں نے حسن مسعود کی ٹکٹ منسوخ کروانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوسکے۔ راجہ ریاض اس حلقے میں اپنے فنانسر میاں اوضی کو الیکشن لڑوانا چاہتے تھے مگر پارٹی کی ہائی کمان حسن مسعود کی ٹکٹ منسوخ کرنے سے صاف انکار کردیا۔ پارٹی قیادت کے سامنے بے بس ہونے کے بعد راجہ ریاض نے پی پی 177میں ظفر اقبا ل سندھو کو آزاد الیکشن لڑوانے کی کوشش کی مگر وہ بھی آمادہ نہ ہوئے۔ جس کے بعد راجہ ریاض نے پی پی117میں مسلم لیگ ن کے امیدوار مہر حامد رشید اور ان کے حمائتی ن لیگ قائدین کیساتھ ہاتھ ملا لیا۔ ذرائع کے مطابق راجہ ریاض اور مہر حامد رشید اس حلقے میں مل کر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ مہر حامد رشید اپنی پارٹی کے امیدوار رانا افضل کی بجائے راجہ ریاض کیلئے ووٹ مانگ رہے ہیں جبکہ راجہ ریاض اپنی پارٹی کے امیدوار حسن مسعود کی بجائے مہر حامد رشید کیلئے سرگرم ہیں۔علاقے میں جابجا راجہ ریاض اور حسن مسعود کے مشترکہ بینر گے ہوئے ہیں اور مشترکہ اشتہار چھپوا کر گھر گھر تقسیم کئے جا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق مقامی طور پر بننے والے پی ٹی آئی اور ن لیگ کے اس اتحاد کو پی ٹی آئی ویسٹ پنجاب کے سابق صدر چوہدری اشفاق اور پنجاب میں پی ٹی آئی کے واحد سینیٹر چوہدری سرور کی حمائت حاصل ہونے کی بھی اطلاعات سیاسی حلقوں میں سرگرم ہیں۔این اے 110کے مسلم لیگ ن کے امیدواررانا محمد افضل خاں کو مقامی سطح پر چوہدری شیر علی کا ساتھی سمجھا جاتا ہے اور اسی بناء پر چوہدری شیر علی کے مخالف رانا ثناء اللہ رانا افضل کے مخالف ہیں ۔ پارٹی کے اندرونی خلفشار کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں یہ بھی چہ مگوئیاں ہورہی ہیں کہ’’ این اے 110اور پی پی 117میں ن لیگ اور پی ٹی آئی اتحاد‘‘ کے پیچھے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ خاں اور نواز ملک بھی ہیں اور مقامی مخالفت کی وجہ سے رانا ثناء اللہ اور نواز ملک اپنی ہی جماعت کے امیدوار کی شکست یقینی بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ ذرائع کے مطابق رانا ثناء اللہ خاں اور نواز ملک نے ہر سطح پر کوشش کی کہ رانا افضل کی بجائے نواز ملک کو این اے 110میں مسلم لیگ ن کا ٹکٹ مل جائے ۔ رانا ثناء اللہ نے اندرون خانہ جبکہ نواز ملک نے کھلم کھلا رانا افض کی ٹکٹ رکوانے کیلئے مہم چلائی۔ بلدیاتی نمائندوں کی بڑی تعداد کو اس کیلئے استعمال کیا گیا۔ رانا افضل کیخلاف متعددسپانسرڈ پریس کانفرنس کروائی گئیں۔مگر اس سب کے باوجود رانا ثناء اللہ اور نواز ملک کو رانا افضل کی ٹکٹ کینسل کروانے میں کامیابی نہ مل سکی۔اس کی سازش کو میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف نے ناکام بنا دیا۔خود میاں شہباز شریف نے رانا افضل کے ٹکٹ کیلئے میاں نواز شریف کو کہا اور ٹکٹ کنفرم کروائی ۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر رانا افضل سے شکست کھانے کے بعد نواز ملک اور رانا ثناء اللہ نے تحریک انصاف کے امیدوار راجہ ریاض کیساتھ اتحاد بنایا ہے تاکہ اپنے مقامی مخالف کو شکست سے دوچار کر سکیں۔ذرائع کے مطابق رانا ثناء اللہ اور راجہ ریاض ماضی میں بھی متعدد بار پارٹی وابستگی سے ہٹ کر مقامی طور پر اتحاد بناتے رہے ہیں اوردونوں مل کر اپنی ہی پارٹی کے متعدد امیدواروں کو ہروا چکے ہیں۔ ماضی میں رانا آفتاب کی پی پی 63اور ایزد محمود کی این اے82میں شکست بھی ایسے ہی گٹھ جوڑ کی وجہ سے بتائی جاتی ہے ۔

Related posts