فیض احمد فیض کی برسی‘ لاہور میں فیض میلہ کا انعقاد

faiz-international-festival-600x330لاہور: (نیوزلائن) جو نہ آیا اُسے کوئی زنجیر در، ہر صدا پر بلاتی رہی رات بھر، پھول کی بات ہو یا تلوار کی، کلام کی لطافت اور نزاکت ایسی کہ سیدھی دل میں ترازو ہو جائے، یہ خاصہ ہے مرحوم فیض احمد فیض کے کلام کا، جن کا 32 واں یوم وفات منایا جا رہا ہے۔نیوزلائن کے مطابق 13 فروری 1911ء کو ضلع نارووال کے ایک گاؤں میں پیدا ہونے والے فیض احمد فیض کو اگر 20 ویں صدی کا عظیم ترین شاعر قرار دیا جائے تو شاید ہی کسی کو اعتراض کی ہمت ہو۔

فیض احمد فیص کی شاعری میں جمال و محبت ہی نہیں ظلم کے خلاف جہاد کرنے اور انقلاب بپا کرنے کی خواہش کا رنگ بھی نمایاں نظر آتا ہے۔

یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گزیدہ سحر
انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
یا پھر

رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے

 

faizاور ایسے انگنت اشعار قاری پر یہ راز افشاء کرتے ہیں کہ شخصیت ایک لیکن شعر و سخن کی تمام جہتوں پر کمال کی دسترس فیض ہی کا اعجاز ہے۔ ظلم، آمریت اور ناانصافی کے خلاف جہد مسلسل فیض کی ذات اور شاعری کا جزو لاینفک ہیں۔

متعدد تصانیف کے مصنف فیض احمد فیض 20 نومبر 1984ء کو اِس دارِفانی سے کوچ کر گئے۔

مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

بے شک ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے لیکن بعض احباب کی جدائی دل کو یوں گھائل کر دیتی ہے کہ زخم لاعلاج محسوس ہونے لگتا ہے،

بقول فیض احمد فیض

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چشمِ نم مسکراتی رہی رات بھر

رات بھر درد کی شمع جلتی رہی
غم کی لو تھرتھراتی رہی رات بھر

بانسری کی سریلی سہانی صدا
یاد بن بن کے آتی رہی رات بھر

یاد کے چاند دل میں اُترتے رہے
چاندنی جگمگاتی رہی رات بھر

کوئی دیوانہ گلیوں میں پھرتا رہا
کوئی آواز آتی رہی رات بھر

faiz-mela
نیوزلائن کے مطابق لاہور تین روزہ فیض انٹرنیشنل فیسٹیول کا آغاز ہو گیا۔ افتتاحی تقریب الحمرا آرٹ گیلری میں ہوئی اس موقع پر سلیمہ ہاشمی، چیئرمین الحمرا کامران لاشاری ،ایگزیکٹو ڈائریکٹرکیپٹن (ر)عطا محمد خان، سعید اختر و دیگر بھی موجود تھے۔ آرٹ گیلری میں شاکر علی میوزیم کی طرف سے دی گئی نادر پینٹنگز کی نمائش بھی کی گئی جبکہ ہال نمبر2 میں اجوکا تھیٹر کا ڈرامہ ’’انی مائی دا سفینہ‘‘ پیش کیا گیا جسے حاضرین نے خوب سراہا۔
آج (دوسرے روز) دور حاضر کے موسیقار، نظریات کی جنگ، فلم کی طاقت، پاکستانی خواتین، ذہن سازی، ٹی وی اور فلم میں خواتین کی عکاسی، جمہوریت کا ستون، فیض اور کلاسیکی شاعری سمیت مختلف موضوعات پر 18 سیشن ہوں گے۔ عدیل ہاشمی اداکار فواد خان سے گفتگو کریں گے۔ کتاب اوور مائی شولڈر اینڈ ڈیئر ہارٹ کی تقریب رونمائی کے ساتھ ساتھ کلاسیکی آرکسٹرا بھی پرفارم کرے گا۔
بچوں کا ادبی فیسٹیول، محبت کی چیخ پر ورکشاپ، انسٹی ٹیوٹ آف پرفارمنگ آرٹس کے تحت ڈانس ورکشاپ، فیض کی تصویری نمائش اور ثمینہ اقبال کی پینٹنگز کی نمائش بھی ہو گی۔ اختتام کے وقت استاد حامد علی خان ’’دوستو بزم سجائو‘‘ میں اپنے خیالات کا اظہار کریں گے جبکہ گلوکارہ ٹینا ثانی اپنے فن کا مظاہرہ کریں گی۔

Related posts