قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ کرنے کیلئے جے آئی ٹی دوحہ پہنچ گئی

اسلام آباد(نیوزلائن) قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے پاناما جے آئی ٹی کے دو ارکان دوحا پہنچ گئے ہیں۔ نیوزلائن کے مطابق پاناما پیپرز کی تحقیقات کرنے والی جےآئی ٹی میں شامل ایم آئی کے بریگیڈیئر کامران رشید اور نیب کے عرفان منگی پیر اور منگل کی درمیانی رات اسلام آباد سے غیر ملکی پرواز کے ذریعے قطر کے دارالحکومت دوحا روانہ ہوئے۔ جہاں وہ قطری شہزادے حمد بن جاسم کا بیان ریکارڈ کریں گے۔ شہزادہ حمد بن جاسم کی جانب سے چند روز قبل بیان جاری ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ سپریم کورٹ میں ان کے پیش کردہ خط کے ہر لفظ کو ناقابل تنسیخ شہادتوں کے ذریعے درست ثابت کردیں گے۔ اس سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما بھی اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ جے آئی ٹی قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ کرے دوسری صورت میں جے آئی ٹی کی رپورٹ مکمل تصور نہیں کی جائے گی۔ قطری شہزادے کا بیان لینے والے جے آئی ٹی اراکین میں ایم آئی کے بریگیڈئیر کامران خورشید اور عرفان منگی شامل ہیں۔قطری شہزادے سے پوچھے جانے والےسوالات میں جے آئی ٹی اراکین نے سوالات تیار کر لئے تھے اور یہ اراکین رات گئے میڈیا کو اطلاع ہوئے بغیر قطر روانہ ہوئے۔ قطری شہزادے کا بیان ریکارڈ کرنے کیلئے جے آئی ٹی اراکین کے ساتھ پاکستانی سفارتخانے کا ایک اہلکار بھی موجود ہے۔ جے آئی ٹی ارکان قطری شہزادے کیلئے جو سوالنامہ پاکستان سے تیار کر کے لے گئے ہیں ان سوالات میں قطری شہزادے سے پوچھا جائے گا کہ وزیراعظم نواز شریف کے والد میاں شریف مرحوم نے کن شرائط پر قطر میں سرمایہ کاری کی،اور اس سرمایہ کاری سے کتنا منافع ہوا، لندن فلیٹس میاں شریف کے ساتھ کس سیٹلمنٹ کے تحت ٹرانسفر کئے گئے ، شریف فیملی ان فلیـٹس میں کب سے مقیم ہے ، اور آیا اگر سیٹلمنٹ سے پہلے سے شریف خاندان کا قیام ان فلیٹس میں ہے تو انہوں نے اس کا کرایہ ادا کیا ہے کہ نہیں، حسین نواز کے نام لندن فلیٹس کب ٹرانسفر ہوئے، میاں شریف اور حماد بن جاسم الثانی کے والد کے درمیان سیٹلمنٹ کی کیا تفصیلات ہیں۔

Related posts

Leave a Comment