لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کی پاکستان ہجرت

Rohingya refugees from Myanmar sit on a boat as they try to get into Bangladesh in Teknaf June 13, 2012. The UN Refugee Office (UNHCR) has called on Bangladesh to keep its borders open given the rapid escalation of violence in the northern Rakhine State of Myanmar, UN spokesman Martin Nesirky told reporters on Tuesday. REUTERS/Andrew Biraj (BANGLADESH - Tags: SOCIETY IMMIGRATION CIVIL UNREST) TEMPLATE OUT

ینگون(نیوزلائن) ایشیائی ملک برما میں بسنے والے روہنگیا مسلمانوں پر ریاستی حکومت ،فوج اور پولس نے مظالم کے پہاڑ ڈھا دیے ہیں۔ ایسے میں یہ مسلمان دیگر ممالک کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں لیکن ان کے ہمسایوں بھارت اور بنگلہ دیش نے ان کے لیے دروازے بند کر رکھے ہیں اور اپنی طرف آنے والے ان مظلوم مسلمانوں کو واپس موت کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ پاکستان اگرچہ میانمار کا ہمسایہ ملک نہیں اور روہنگیا مسلمانوں کا یہاں تک پہنچنا بہت دشوار ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان اب تک 2لاکھ سے زائد برمی مسلمانوں کو پناہ دے چکا ہے۔ یہ مسلمان میانمار کی ریاست ارخان سے ہجرت کرکے سندھ میں آباد ہوئے ہیں۔ ارخان وہ ریاست ہے جہاں مسلمانوں کی سب سے زیادہ نسل کشی کی جا رہی ہے۔یہ تمام لوگ بنگلہ دیش اور بھارت کے راستے انتہائی خطرناک سفر طے کرتے ہوئے پاکستان تک پہنچے۔ کراچی میں آ کر آباد ہونے والے ان دو لاکھ روہنگیا مسلمانوں کو پاکستان کی شہریت بھی دی جا چکی ہے۔ انسانی ہجرت پر کی جانے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ برمی مسلمان کراچی میں آ کر آباد ہونے والے کل مہاجرین کا14فیصد ہیں۔ کراچی میں برمی مسلمانوں کی کئی کالونیاں موجود ہیں۔ کراچی میں رہنے والے 16لاکھ سے زائد بنگالیوں کے ساتھ ثقافتی ہم آہنگی ہونے کے باعث یہ برمی مسلمان ان کے بہت قریب ہیں۔ چٹاگانگ کے رہنے والے بنگالیوں کی زبان بھی ان برمی مسلمانوں سے ملتی جلتی ہے بلکہ وہ لہجے کے معمولی فرق کے ساتھ ایک ہی زبان بولتے ہیں۔

Related posts