لاہور سے پراسرار غائب ہونیوالی ’’غریب ‘‘ خاتون صحافی بازیاب


اسلام آباد(نیوزلائن)لاہور سے پراسرارطور پر غائب ہونیوالی غریب خاتون صحافی اڑھائی سال بعد پراسرار انداز میں ہی بازیاب ہو گئی ہے۔ خاتون صحافی کا اغواء بھی تسلیم نہ کرنے والے اس کی بازیابی کا کریڈٹ لینے کو سرگرداں ہیں ۔ خاتون صحافی کی تلاش میں ناکامی اور’’ نامعلوم افراد‘‘ کے دباؤ کا مقابلہ نہ کرسکنے پر اس کے بھائی نے خود کشی کر لی۔خاتون صحافی پر اغواء کے بعد بڑا ظلم یہ ہوا کہ صحافیوں کی نمائندگی کی دعویدار کسی تنظیم نے اس کی بازیابی کیلئے آواز نہیں اٹھائی۔ستم بالائے ستم کہ کوئی اخبار صحافی کے اغواء یا گمشدگی کی خبر بھی شائع کرنے کو تیار نہیں تھا۔ نیوزلائن کے مطابق لاہور کی ایک مقامی خاتون صحافی زینت شہزادی کو اگست 2015کو دو گاڑیوں میں سوارنامعلوم افراد نے اس وقت اغواء کر لیا تھا جب وہ رکشے میں سوار گھر سے اپنے آفس جا رہی تھی۔ کئی ماہ تک اس کا بھائی اسے تلاش کرتا رہا مگر اسے کامیابی نہ ہوئی جبکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کے بھائی کو نامعلوم افراد کی طرف سے تلاش کی کوششوں سے باز رہنے کی دھمکیاں بھی دی جاتی رہی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مغویہ زینت شہزادی ایک بھارتی شہری حامد انصاری کے غائب ہونے کی سٹوری پر کام کر رہی تھی اور وہ اس سلسلے میں لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بنائے گئے کمیشن کیساتھ بھی رابطے میں تھی۔اب سامنے آیا ہے کہ زینت شہزادی کو بازیاب کروا لیا گیا ہے ۔ اسے پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب سے بازیاب کروایا گیا ہے ۔ لاپتہ افراد کے کمیشن کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال کے مطابق زینت شہزادی کو کچھ غیر ریاستی عناصرنے اغواء کیا تھا۔انہوں نے اس کی بازیابی کی تصدیق کی ہے۔زینت شہزادی کا اغواء اور بازیابی پاکستان میں کام کرنے والے صحافیوں کیلئے بہت سے سوالیہ نشان چھوڑ گئی ہے۔زینت شہزادی جیسی غریب صحافی کے اغواء کو کوئی صحافتی تنظیم ماننے کو تیارنہیں تھی۔ اڑھائی سال تک مغوی رہنے والی صحافی کیلئے پاکستان فیڈرلیونین آف جرنلسٹس(افضل بٹ گروپ) اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (رانا عظیم گروپ) سمیت کوئی صحافتی تنظیم زینت شہزادی کو اغواء شدہ ماننے کا تیارتھی اور نہ اس کی بازیابی کیلئے کسی نے آواز اٹھائی۔ ملک بھر کے صحافیوں کی نمائندگی کی دعویدار پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل ایوب جان سرہندی تو زینت شہزادی کو صحافی ہی ماننے کو تیارنہیں تھے اور اس کیلئے آواز اٹھانے‘ احتجاج کرنے سمیت کسی بھی عملی جدوجہد سے انکار کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق زینت شہزادی کی بازیابی بھی کسی صحافتی تنظیم کی کوششوں کی بجائے لاپتہ افراد کے کمیشن کی کوششوں کا نتیجہ بتائی جاتی ہے۔

Related posts

Leave a Comment