لڑکیوں کے سکول نہ جانے میں پاکستان دوسرے نمبرپر

اسلام آباد (نیوزلائن)پاکستان میں تعلیم کیلئے کام کرنے والی معروف سماجی تنظیم الف اعلان نے انکشاف کیاہے کہ دنیابھرمیں پاکستان میں سکول نہ جانیوالے لڑکیوں کی دوسری بڑی تعداد ہے یعنی فہرست میں پاکستان دوسرے نمبرپرآگیا، پرائمری سطح پر سکول میں داخل ہونیوالی لڑکیوں کی شرح 53فیصد اور لڑکوں کی شرح 60فیصد تھی، مزید یہ کہ ملک بھر کے 154918سرکاری سکولوں میں صرف 58042سکول یعنی37فیصد ہی بچیوں کی تعلیم کی سہولیات فراہم کررہے ہیں۔اس تحقیق کے لیے گھریلو سطح پر ہونیوالے سروے میں انکشاف ہواہے کہ لڑکیوں کے سکول نہ جانے کی بڑی وجہ والدین یا بچوں میں سے کسی ایک کی تعلیم کے حصول کیلئے غیرآمادگی ہے ، جبکہ بعض اوقات سکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی ، ناقص معیار تعلیم ، استاد کی غیرحاضری اور سزا بھی سکول نہ جانے کی وجہ بنی ۔مزید یہ بھی بتایاگیاکہ صرف 40فیصدناخواندہ مائیںاپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگواتی ہیں جبکہ مڈل ، سیکنڈری یا اس سے زائد پڑھی لکھی 74فیصد خواتین اپنے بچوں کو ٹیکے لگواتی ہیں، 39فیصد غیرتعلیم یافتہ خواتین کے ہاں پیداہونیوالے بچوں کا وزن کم ہوتاہے جبکہ پڑھی لکھی خواتین کے ہاں پیداہونیوالے بچوں میں یہ شرح 10فیصد ہے ، ان بچوں پر تعلیم نہیں بلکہ تعلیم کے نتیجے میں حاصل ہونیوالی ماں کی عادات اور خوراک کا اثر ہوتاہے ۔

Related posts