مار کھانے پر سزا:مارنے والے کو انعام

maulana-jalal-ud-din-rumi-quotes-in-urduایک شخص مدتوں کا بیمار زندگی سے لاچار و بیزار طبیب کے پاس گیا اور کہنے لگا جناب مجھے کوئی دوا دیں تاکہ صحت پائوں اور آپ کی جان و مال کو دعائیں دوں۔ طبیب نے نبض پر انگلیاں رکھیں اورسمجھ گیا کہ اس کے بدن سے جان نکل چکی ہے اب محض چلتی پھرتی لاش ہے۔ صحت کی امید زرہ برابر نہیں۔ دوا دارو کر کے مفت میں اس غریب کو اور ہلکان کرنا ہے لہذا اس نے کہا میاں تم یہ سب دوا دارو ایک قلم موقوف کرو انہی کی وجہ سے تمہاری صحت برباد ہورہی ہے۔ جو تمہارے جی میں آئے وہ کرو۔ ہرگز ہرگز اپنی خواہش کو مت کچلو۔ آہستہ آہستہ تمام بیماریاں جاتی رہیں گی۔ طبیب کی یہ بات سن کر مریض نے کہا اللہ آپ کو سلامت رکھے کیا خوب مشورہ عطا ہوا ہے۔ آج سے اس مشورے پر دل و جان سے عمل کروں گا۔ طبیب کے مطب سے نکل کر مریض ٹہلتا ٹہلتا ایک نہر کے کنارے جانکلا وہاں ایک صوفی بیٹھامنہ دھو رہا تھا اس نے اس روز سر پر تازہ تازہ استرا پھروایا تھا۔ دھوپ میں چندیا خوب چمک رہی تھی۔ مریض کی ہتھیلی کھجلائی اور بے اختیار جی چاہا کہ صوفی کی چاند پر ایک زور دار چپت مارے۔ دل میں کہا اس وقت مجھے اپنی اس خواہش کو دبانا نہ چاہیے۔ ورنہ مجھے صحت نہ ہوگی۔ اور طبیب کی یہی ہدایت ہے کہ جو جی میں آئے وہ کرو۔ یہ خیال آتے ہی بے تکلفی سے آگے بڑھا اور تڑاخ سے ایک زناٹے دارتھپڑ صوفی کی کھوپڑی پر رسید کی۔ اس غریب کا دماغ بہنا گیا۔ تڑپ کر اٹھا اور ارادہ کیا کہ چانٹا مارنے والے کو دو تین گھونسے اس زور سے لگا ئے کہ سب کھایاپیااسے بھول جائے۔ لیکن نظر جو اٹھائی تو سامنے ایک نحیف و نزار شخص کو پایا جس کی ایک ایک پسلی نمایاں تھی۔ صوفی نے ہاتھ روک کر جی میں کہا اگر میں اس کے ایک گھونسابھی ماروں تو یہ اسی وقت ملک عدم کا رستہ لے گا۔ مرض الموت نے تو اس بے چارے کا پہلے ہی کام تمام کررکھا ہے۔ مرتے کو کیا ماروں۔ لوگ سارا الزام مجھ پر دیں گے۔ لیکن اسے یوں چھوڑ دینابھی ٹھیک نہ ہوگا۔ نہ جانے کس کس کو چپت مارتاپھرے گا۔ غرض اس بیمار کا بازو پکڑا اورکھینچتا ہوا قاضی شہر کی عدالت میں لے گیا۔ دہائی دی کہ حضور اس بدنصیب شخص کو گدھے کی سواری کرادی جائے یا دروں کی سزا ہو۔ اس نے بلا وجہ مجہے چانٹا مارا ہے۔ قاضی نے کہا کیا بکتا ہے؟ یہ سزا آخر اسے کیوں دی جائے تیرا یہ دعوی تو ابھی ثابت ہی نہیں ہوا۔ پھر یہ تو دیکھ کہ شروع کے احکام زندوں اور سرکشوں کے لیے ہیں مردوں اور بے کسوں کے لیے نہیں۔ اس شخص کو گدھے پربٹھانے سے کیا حاصل ارے کبھی سوکھی خشک چوب کو بھی کسی نے گدھے پر سوار کیا ہے۔ ہاں لکڑی کا تابوت اس کی سواری کے لیے بہترین چیز ہے۔ قاضی کی یہ بات سن کر صوفی کو جلال آیا۔ تڑخ کر بولا واہ صاحب واہ یہ عجب منطق ہے۔ یہ شخص مجھے چپت بھی مارے اور اس بے ہودہ حرکت کی کوئی سزا بہی نہ پائے۔ کیا آپ کی شریعت میں یہ جائزہے کہ ہر راستہ ناپتا بازاری لفنگا ہم جیسے صوفیوں کو خواہ مخواہ ہی چپت مارتاپھرے۔ اور کوئی اس کاہاتھ پکڑنے والا نہ ہو؟ قاضی نے نرمی سے کہا تیری یہ بات درست ہے۔ ایسے شخص کو ضرور سزا ملنی چاہیے لیکن یہ تو دیکھ کہ وہ بے چارہ زندگی کے آخری دن پورے کررہا ہے۔ خون کا ایک قطرہ اس کے بدن میں نہیں ہے۔ بجائے سزا کے یہ تو ہمدردی اور رحم کے لائق ہے۔ اچھایہ بتا کہ اس وقت تیری جیب میں کتنے درہم ہیں۔ صوفی نے جیب ٹٹول کر جواب دیا کہ کوئی چھ سات ہوں گے۔ قاضی کہنے لگا کہ ایسا کر کہ تین درہم ان میں سے اسے دے دے یہ بے حد کمزور بیمار اور مسکین غریب ہے۔ تین درہم کی روٹی کھاکرتجھے دعائیں دے گا۔ یہ سن کر صوفی بہت آتش زیرپا ہوا اور قاضی سے تلخ کلامی کرنے لگا کہ سبحان اللہ اچھا انصاف فرمایا ہے۔ چپت بھی ہم کھائیں اور چپت مارنے والے کو تین درہم بھی ہم اپنی جیب سے ادا کریں۔ یہ کے نفلوں کا ثواب ہے۔ غرض قاضی اور صوفی میں تکرار ہونے لگی۔ ادھر اس بیمار کی عجب کیفیت تھی جب سے قاضی کا شہر کا صاف سر دیکھاتھا۔ اس وقت سیہاتھ میں چل ہورہی تھی۔ اس کی چاند صوفی کی چاند سے بھی زیادہ چکنی اور صاف تھی۔ آخر دل کی بات ماننی پڑی ایک ضروری بات قاضی کے کان میں کہنے کے بہانے سے مسند کے نزدیک آیا اور اس زور سے قاضی کی چندیا پر چپت رسید کی کہ اس کا منہ پھر گیا۔ پھر بولا و ہ چھ درہم تم دونوں آپس میں بانٹ لو اورمجھے اس مخمصے سے رہائی دلائو۔ یہ کہ کر وہاں سے چلا گیا۔ قاضی مارے غصے سے دیوانہ ہوگیا۔ چاہا کہ اس کو پکڑ کر غلاموں سے درے لگوائے کہ صوفی چلایا ہائے ہائے یہ کیا غضب کرتے ہو جی حضرت آپ کا حکم تو عین انصاف ہے اس میں شک و شبہ کی کہاں گنجائش ہے۔ جو بات آپ اپنے لیے پسند نہیں فرماتے وہی میرے حق میں کیسے پسند فرما رہے ہیں۔ (حکایات رومی

Related posts