مجھے جیل بھیجنے کیلئے کسی کے پاس ثبوت نہیں ہیں‘ مریم نواز


اسلام آباد(نیوزلائن) سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا ہے کہ ‘میرے اردگرد لوگ مجھے بتاتے ہیں کہ مجھے ایک کردار ادا کرنا ہے۔‘ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق مریم نواز کا کہنا ہے کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ خود کو مستقبل میں وزیراعظم کے طور پر دیکھنا چاہیں گی جس پر انھوں نے کہا کہ ‘میرے اردگرد لوگ مجھے بتاتے ہیں کہ مجھے ایک خاص کردار ادا کرنا ہے۔’ ان کا کہنا تھا کہ ‘میں نہیں جانتی کہ کل کیا ہوگا لیکن میرے خیال میں مجھ پر لوگوں کا قرض ہے، مجھے ان میں جانے کی ضرورت ہے۔’ شریف خاندان میں سیاسی اختلافات کے حوالے سے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ‘یہ ایک منقسم گھر نہیں ہے’ اور ان کا خاندان خاندانی اقدار پر فخر محسوس کرتا ہے۔ اپنے چچا اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ‘وہ سب سے زیادہ اہل شخص ہیں۔ وہ میرے ہیرو ہیں۔ میں انھیں جان سے محبت کرتی ہوں۔’ مریم نواز نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ان کے دادا نے سب سے پہلے ان میں ایک سیاسی کارکن بننے کی صلاحیت دیکھی تھی اور انھیں خاندانی معاملات میں اہم ذمہ داریاں سونپی تھیں۔ بعد میں ان کے والد نواز شریف نے بھی ان کی صلاحیتیں پہنچاننا شروع کی تھیں۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق کچھ عرصے کے لیے مریم نواز شریف کے گرد سب سے اہم سوال یہ تھا کیا وہ پاکستان کی وزیراعظم کی امیدوار بن سکتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ شاید جیل جا سکتی ہیں۔ اخبار کے مطابق جب نواز شریف کو جولائی میں بدعنوانی کے الزامات پر وزارت عظمیٰ کے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تو وہ اپنے خاندان کا ایک بے باک عوامی چہرہ بن گئیں اور انھوں نے پاکستان کی غیرمنتخب ’طاقتوں‘ فوج اور عدلیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اور چند ہفتے بعد ہی نواز شریف کی خالی ہونے والی پارلیمانی نشت پر ہونے والے انتخابات میں انھوں نے اپنی والدہ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ اخبار کے مطابق جن بدعنوانی کے مقدمے کی وجہ سے ان کے والد کو مستعفی ہوئے انہی میں مریم نواز کا نام بھی شامل ہے، ان پر لندن میں آف شور کمپنیوں کے ذریعے لندن میں لگژری فلیٹس خریدنے کا الزام ہے جن کی تفصیلات پانامہ پیپز میں سامنے آئی تھیں۔ ایک احتساب عدالت نے ان کے، ان کے والد اور شوہرکے خلاف مجرمانہ کارروائی کا آغاز کیا ہے جس کا اختتام انہیں کوئی عوامی عہدہ رکھنے اور جیل جانے پر ہو سکتا ہے۔ تاہم مریم نواز کا اصرار ہے کہ انھیں جیل بھیجنے کے لیے ثبوت ’موجود نہیں ہیں‘ اور ستمبر میں منعقدہ ضمنی انتخاب ثبوت ہے کہ عوام آج بھی ان کے اور ان کی جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

Related posts

Leave a Comment