مرثیۂ سیاست

دورِ زوّال ہے ورنہ میرزا داغؔ دہلوی زندہ ہوتے تو دہلی کی تباہی پر جس طرح کا شہرآشوب مسدّس انہوں نے لکھا تھا وہ آج تحریر کرتے تو موجودہ سیاست کا حال سننے والے دل تھام کر ہی اسے سن پاتے۔ الطاف حسین حالیؔ کا دور ہوتا تو وہ ”دہلی مرحوم‘‘ یا ”مدّوجزر اسلام‘‘ جیسا قومی مرثیہ لکھ دیتے۔ حضرت علامہ اقبالؔ ہوتے تو ”صقلیہ‘‘ اور ”گورستان شاہی‘‘ جیسے قومی مرثیے کو یوں لکھتے کہ مرثیہ کا دورِ خلیقؔ و ضمیرؔ اور زمانۂ انیسؔ و دبیرؔ زندہ ہو جاتا مگر افسوس کہ آج کے ادیبوں اور شاعروں کو کاکل و رخسار سے باہر کی دنیا ہی نظر نہیں آتی اور یوں ادب اور شاعری دونوں معاشرے کے حالات سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ زوّال آتا ہے تو صرف سیاست پر نہیں آتا‘ ادب اور شاعری پر بھی آتا ہے۔ فنون اور کھیلوں پر بھی آتا ہے۔ یہ قومی زوّال ہوتا ہے‘ قومی زوّال…
مُحبّی شکیل عادل زادہ کے علم اور کشادہ دلی کا کسے علم نہیں ‘ایک روز کراچی سے ریڑھی بھر کر اُردو لغت کی درجنوں جلدیں تحفتاً لاہور بھیج دیں تاکہ میری غلطیاں کم ہو سکیں‘ گو ان میں کمی نہیں آ سکی مگر لُغت اُردو زبان و ادب کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ کسی شہر یا علاقے کے زوّال پر لکھی جانے والی صنف ِادب کو ”شہرآشوب‘‘ کہتے ہیں اُردو لغت بورڈ کی اس حوالے سے جو تعریف مجھے پسند آئی وہ کہتی ہے ”وہ نظم جس میں کسی شہر کی اقتصادی یا سیاسی بے چینی کا تذکرہ ہو‘‘ غرضیکہ آپ آج کے کالم کو شہرآشوب سمجھیں‘ قومی مرثیہ گردانیں یا حالات حاضرہ کا تجزیہ۔ اصل بات یہ ہے میں انتہائی بھاری اور مغموم دل کے ساتھ پاکستانی سیاست کا زوّال دیکھ رہا ہوں۔ پہلے وفاق کی مضبوط ترین جماعت‘ پاکستان پیپلز پارٹی کا جنازہ نکلا‘ اب مسلم لیگ نون بستر مرگ پر ہے اور دوسری بڑی سیاسی قوت تحریک انصاف بھی آپریشن تھیٹر میں ہے۔ سیاست ہوتی ہی اس لئے ہے کہ ہر کوئی اپنی پسند کی جماعت کا ساتھ دے‘ مگر ہر جماعت میں لاکھوں لوگوں کی آرزئوں اور خواہشوں کے ساتھ ان کی مخلصانہ کوششوں کی سرمایہ کاری بھی ہوتی ہے ‘جب کسی سیاسی لیڈر یا سیاسی جماعت کی موت ہوتی ہے تو دراصل سماج کے ایک حصّے کی موت ہوتی ہے‘ ہم اس حصّے کو کچلتے ہوئے اس قومی نقصان کی پروا نہیں کرتے جو اس کے مابعد اثرات سے ہو گا۔ سیاست اور سماج میں جب لوگوں کو یہ احساس ہو کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے تو وہ لاتعلقی اور بیگانگی کا روّیہ اپناتے ہوئے ‘بے حس ہو جاتے ہیں۔ یوں ہم معاشرے کے ایک کارآمد حصّے کو جامدوساکت کر دیتے ہیں اور معاشرے کی مادی اور ذہنی ترقی کے سفر کو آہستہ کر دیتے ہیں۔ میری شدید خواہش ہے کہ جس طرح عساکر پاکستان اور عدلیہ عظیم ادارے بن چکے ہیں‘ سیاسی جماعتیں بھی اپنے آپ کو جمہوری اداروں کی شکل دیتیں۔ مسلم لیگ نون‘ پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف تینوں وفاقی جماعتیں بنتیں۔ ان کے ملک گیر پارٹی الیکشن ہوتے‘ چاہے الیکشن کمشن سرکاری انتظامات کے تحت ہی سہی‘ ان کے رجسٹرڈ ووٹرز کے ذریعے انتخابات کا انتظام کرتا اور یوں پارٹی لیڈر شپ جمہوری انداز میں منتخب ہوتی۔ اسی طرح ان جماعتوں کے تھنک ٹینک ہوتے‘ مستقبل کی منصوبہ بندی ہوتی‘ اہم مسائل پر سوچ و بچار کی جاتی۔ مگر افسوس یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اس حوالے سے کام نہیں کرتیں اور ان کا سارا زور حکومت کے حصول یا حکومت کے بچائو پر صرف ہو جاتا ہے۔
نوازشریف تیسری بار وزیراعظم بنے ہیں‘وہ خطّے کے تمام حکمرانوں سے کہیں زیادہ تجربہ کار ہیں ان کے ووٹرز نے اپنی آرزئوں‘ خواہشوں اور اپنی حمایت کی شکل میں ان پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے جبکہ پوری قوم‘ بشمول ان کے مخالفوں نے انہیں تیسری بار وزیراعظم کے طور پر قبول کیا اور ان کی بیشتر پالیسیوں پر اُن کی طرف دستِ تعاون بھی دراز کئے رکھا۔ اب کیا ہوا ہے کہ اس وقت سیاسی بحران کی صورتِ حال ہے ‘اس میں وزیراعظم کی جلاوطنی کے بعد کے حالات کا تجزیہ کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ وہ جلاوطن ہوئے تو ان کے ذہن میں اُس وقت کی اسٹیبلشمنٹ سے شدید ناراضی کا تاثر تھا جو ظاہر ہے اب بھی موجود ہے‘ جلاوطنی میں وہ شام 5 بجے سے لے کر رات گئے تک تقریباً 7 گھنٹے اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارتے تھے۔ اب بھی ان کا یہی معمول ہے کہ مریم‘ ان کی والدہ کلثوم اور باقی اہل خاندان کے ساتھ سیاست اور سماج پر گفتگو کرتے وقت گزرتا ہے‘ جلاوطنی کے دوران ان کی فوری فیصلے کرنے اور جذباتی ردّعمل دینے کے روّیے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے‘ مگر اس مثبت تبدیلی سے سہل مزاجی نے جنم لیا ہے جو کہ سیاست کے لئے تباہ کن ہوتی ہے اسی لئے پانامہ کیس میں وہ کوئی متبادل بیانیہ نہ دے سکے اور جوابات میں تاخیر اور ردّوبدل ہوتا رہا۔ جلاوطنی نے ان پر یہ اثر بھی ڈالا ہے کہ انہیں عوام سمیت اپنے ووٹرز اور کئی دوستوں سے یہ شکوہ پیدا ہو گیا ہے کہ انہوں نے مشکل دور میں انہیں چھوڑ دیا تھا یا ان کی کم مدد کی‘ اس سے ان کی طبیعت میں کسی بھی حامی کے لئے آئوٹ آف دا وے کام کرنے اور بہت زیادہ آگے جانے کا جذبہ دم توڑ چکا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ ان کے سیاسی ساتھیوں کو وہ نوازشات نہیں ملتیں جن کے وہ ماضی میں عادی رہے تھے اور جو نوازشریف کی سیاست کا طرّہ امتیاز تھیں۔ جلاوطنی نے نوازشریف کو تھکا اور کملا دیا ہے۔ اندر کی خبر یہ ہے کہ لانگ مارچ کے دوران بھی وہ اقتدار کی باگیں شہبازشریف کے سپرد کرنا چاہتے تھے‘ مگر شہبازشریف نے کہا کہ آپ مجھ سے بہتر چلا رہے ہیں‘ ایسا لگتا ہے کہ نوازشریف اپنے خاندان اور اپنی سیاست کو چلانے کے لئے اپنے بھائی کو ہی آگے لائیں گے۔ یاد رہے کہ دونوں میں اختلاف رائے ضرور ہوتا ہے مگر ہیں دونوں یک جان دو قالب۔ سیاست کا بھلا چاہنے والے پاکستانی کی حیثیت سے میری خواہش ہے کہ نون لیگ مضبوط ہو‘ وفاق بھر میں مقبول ہو تاکہ یہ بطور ادارہ ملک کے لئے بہتر ثابت ہو اور اس کے لئے متبادل و موزوں ترین امیدوار شہبازشریف ہی ہیں۔
میری یہی خواہش اور دعا پیپلز پارٹی کے لئے بھی ہے جو اب بھی سندھ کی سب سے مقبول پارٹی ہے۔ پیپلز پارٹی کا پنجاب سے مکمل صفایا کرنے سے ملک و قوم کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا بلکہ اس سے ایک وفاقی جماعت کو ہم صوبائی جماعت بننے پر مجبور کر دیں گے۔ وفاقیت کا تقاضا ہے کہ دوسرے صوبوں کی آواز کو سنیں‘ عوامی نیشنل پارٹی اور بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کی بھی پنجاب میں شاخیں ہونی چاہئیں‘ انہیں یہاں جلسے کر کے اپنا مئوقف پیش کرنا چاہیے تاکہ قومی وحدت پیدا ہو مگر اس وحدت میں ہر صوبے اور علاقے کے رنگ بھی پوری طرح موجود ہوں۔
پاکستان تحریک انصاف مڈل کلاس میں سب سے زیادہ مقبول جماعت بن چکی ہے۔ گورنمنٹ اِن ویٹنگ ہونے کے سبب اقتدار کا تاج عمران خان کی جھولی میں پڑا ہے‘ دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اور ان کی ٹیم اپنی مہارت سے جھولی میں پڑے تاج کو سر پر سجا سکتی ہے یا نہیں؟ عمران خان سے لوگوں کو بہت توقعات ہیں‘ انہیں ابھی سے ان توقعات پر پورا اترنے کے لئے عملی اقدامات سوچ لینے چاہئیں‘ جمہوریت کا مرثیہ‘ قصیدوں میں اس لئے بھی تبدیل نہیں ہو پا رہا کہ جمہوری ادوار میں بھی محروم طبقات کو وہ مراعات نہیں ملیں جن کا وعدہ 70 سال پہلے قائداعظمؒ محمد علی جناح نے کیا تھا۔ یہاں میری مراد خصوصی طور پر اقلیتوں سے ہے۔ اگر ہم نے ہندوستان میں مسلم اقلیت پر زیادتیوں کو چیلنج کرنا ہے تو ہمیں اپنے ملک کی اقلیتوں سے برابری کا سلوک کرنا ہو گا ‘اب وقت آ گیا ہے کہ مسلم لیگ نون‘ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی اپنی محفوظ جنرل نشستوں پر اقلیتی اراکین کو کامیاب کروائیں‘ جس طرح برطانیہ میں لیبر یا کنزرویٹو پارٹی نے اپنی کئی محفوظ نشستوں پر پاکستانی نژاد برطانوی مسلمانوں کو کامیاب کروایا ہے۔
آخر میں عرض یہ ہے کہ یہ خواہشات ضروری نہیں پوری ہوں‘ لیکن اگر اِس ملک میں حکومت چلانے کا کام منتخب نمائندوں کے ذریعے ہی کرنا ہے تو پھر سیاسی جماعتوں کو مضبوط اور سیاسی قیادت کو بااعتماد بنانا ہو گا۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ریاست کے اسٹیک ہولڈرز کو جمہوریت اور سیاست چلانے کے لئے ایک بار دوراندیشی سے غور کرنا ہو گا اور ایسے رولز آف گیم ترتیب دینے ہوںگے جس میں سیاست کا دم نہ گھٹے‘ بلکہ وہ آرام سے سانس لے سکے ۔۔۔۔

سہیل وڑائچ

Related posts

Leave a Comment