مریم نواز اربوں روپے کی جائیداد کی مالک نکلی

سال  2012 میں مریم نواز 17 کروڑ 30 لاکھ روپے کی مالک تھیں اسی سال اپنے والد کی طرف سے 51 کروڑروپے  تحفے میں ملے، 2012ءمیں جمع کرائے گئے ٹیکس ریٹرن میں کسی آف شور کمپنی یا لندن کے فلیٹوں کا ذکر نہیں، حالانکہ پاناما پیپرز میں بتایا گیا تھا کہ یہ اثاثے انہیں اسی سال میں ملے تھے۔ رپورٹ کے مطابق آئی سی آئی جے کی جانب سے جاری کیے جانے والے پاناما پیپرز میں بتایا گیا تھا کہ مریم نواز دو آف شور کمپنیوں، نیسکول اور نیلسن، کی بینیفیشل اونر (مالک) ہیں۔ ان دستاویزات پر 22جون 2012ءکی تاریخ درج ہے۔ لیکن، 2012ءمیں فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں جمع کرائے گئے ٹیکس ریٹرن میں انہوں نے آف شور کمپنیوں کا ذکر کیا ہے اور نہ ہی لندن کے فلیٹس کا۔ مریم نواز نے 2012ءمیں جمع کرائے گئے اپنے دولت ٹیکس (ویلتھ ٹیکس) میں اپنے اثاثوں کی مالیت 173 ملین (172963168) روپے بتائی تھی۔ ان میں غیر ملکی جائیداد یا آف شور کمپنیاں شامل نہیں تھیں۔

images2011ءکے ٹیکس سال کے برعکس، مریم نواز نے 2012ءمیں اپنی دولت میں7کروڑ روپے کا اضافہ درج کرایا۔ ان کے ٹیکس دستاویزات کے مطابق، 2012ءکے دوران انہیں اپنے والد میاں نواز شریف کی طرف سے51کروڑ روپے تحفے میں ملے جبکہ ان کے بھائی حسن نواز نے انہیں 29 کروڑ روپے کا قرضہ دیا۔ اسی سال انہوں نے چوہدری شوگر ملز لمیٹڈ میں 5401455 شیئرز کی (9 ملین روپے) سرمایہ کاری کی رمضان شوگر ملز میں 270000 شیئرز (1.6 ملین روپے) کی سرمایہ کاری کی، محمد بخش ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ میں 482100 شیئرز (4.8 ملین روپے) کی سرمایہ کاری کی، حدیبیہ پیپر ملز لمیٹڈ میں 424200 شیئرز (4.2 ملین روپے) کی سرمایہ کاری کی، حدیبیہ انجینئرنگ کمپنی پرائیوٹ لمیٹڈ میں 12270 شیئرز (1.2 ملین روپے) کی سرمایہ کاری کی جبکہ شمیم شوگر ملز لمیٹڈ میں 700000 شیئرز (70 ملین روپے) کی سرمایہ کاری کی۔ 2012ءمیں مریم نواز نے 43 کنال کی زرعی زمین خریدی، موزا سلطان کی میں 9 مرلہ زمین خریدی، موزا مال میں 67 کنال 5 مرلے زمین 32 ملین روپے میں خریدی اور 140 کنال 3 مرلہ زمین موزا سلطان کی میں 42 ملین روپے کے عوض خریدی۔ ان کے ریٹرن میں غیر زرعی زمین کے متعلق کوئی ذکر شامل نہیں تھا۔ تاہم، انہوں نے 28 ملین روپے مالیت کی بی ایم ڈبلیو کار اور 1.8 ملین روپے کے بینک بیلنس کا ذکر کیا۔مریم نے 2 لاکھ روپے کے زیورات اور 27 لاکھ روپے نقد کی موجودگی کا بھی ذکر کیا۔ اگرچہ انہوں نے اپنے ٹیکس پیپرز میں اس کا تذکرہ نہیں کیا لیکن بی ایم ڈبلیو کار پر 19 ملین روپے کے فائدے کا بتایا۔ 30 جون 2011ءتک ان کے اثاثوں کی مجموعی مالیت 10 کروڑ 20 لاکھ روپے تھی۔ ایک سال بعد یعنی 30 جون 2012ءکو ان کی دولت میں 17 کروڑ 30 لاکھ روپے کا اضافہ ہوا۔ 2012ءمیں ان کے ذاتی اخراجات 35 لاکھ روپے رہے۔

Related posts