مزارات پر دہشت گردی کا اصل مقصد

صحافت کے نام پر جہالت پھیلاتے سیاپا فروشوں کو خدارا کوئی بتائے کہ کاشغر کو گوادر سے ملانے والی شاہراہ پر کام ٹھوس معنوں میں 2013ءسے شروع ہوا ہے۔ مساجد،مزاروں اور امام بارگاہوں کو نشانہ مگر میرے بدنصیب ملک میں جنرل مشرف کے زمانے ہی سے بنایا جارہا ہے۔ مقصد ان دہشت ناک کارروائیوںکا امریکہ اور اس کے حواریوں کو یہ پیغام دینا تھا کہ 9/11کے بعد افغانستان پر مسلط ہوئی جنگ ”حقیقی اسلام“ کے سپاہیوں کو شکست نہیں دے پائی ہے۔ ”جہاد“ جاری ہے۔ اس کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہورہا ہے۔
پاکستانی عوام کی اکثریت کے دلوںمیں سوزکی گہرائی کے ساتھ رحم کے جذبات جگاتے صوفیاءکے مزاروں پروحشیانہ حملوں کی کہانی پشاور کے قریب رحمن بابا کے مزار کو تباہ کرنے کی کوشش سے شروع ہوئی تھی۔ بالآخر کراچی کے ساحل پر واقع عبداللہ شاہ غازی کا مزار بھی ان حملوں کا نشانہ بنا۔ اصل مقصد ان مزاروں کی تباہی سے کہیں زیادہ”شرک اور بدعت“ کے عادی دلوں میں خوف پیدا کرنا ہے۔ ان کے ذہنوں کو مفلوج بنانا ہے۔
ہفتے کی شام،کراچی سے تقریباََ 300کلومیٹر دور لسبیلہ کو خضدار کے ساتھ ملاتے دشت کے درمیان موجود ایک پہاڑ کی چوٹی پر قائم بلاول شاہ نورانی کے مزار پر دھمال ڈالتے مرد،عورتوں اور بچوں کو سفاکانہ تخریب کاری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ریاستِ پاکستان کو زخمیوں تک پہنچنے میں کئی گھنٹے لگے۔ لوگوں کی خیرات سے چلنے والے ایدھی ٹرسٹ کے رضا کار مشکل کی اس گھڑی میں سب سے پہلے وہاں پہنچے تھے۔
جائے وقوعہ پر پہنچنے سے کئی گھنٹے قبل ہی لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اہم وزراءنے اعلان کردیا کہ پاکستان کے دشمنوں نے پاک-چین راہداری کے منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے ایک اور وارردات کرڈالی ہے۔ دشمنوں کے مذموم عزائم مگر ناکام بنادئیے جائیں گے۔ یہ سڑک بن کررہے گی۔ دہشت گردوں کو ان کے آقاﺅں اور سہولت کاروں سمیت نیست ونابود کردیا جائے گا۔
عام پاکستانیوں کو ”حوصلہ“ دیتے اس پیغام کے بعد ہمارے ٹی وی چینلز کی اکثر سکرینوں پر عقلِ کل بنے خواتین وحضرات نے پانامہ پیپرز کے ذریعے شریف خاندان کی ”ناجائز دولت“ سے لندن میں خریدے فلیٹوں کی حقیقت کو عیاں کرنے والی عدالتیں لگالیں۔ حکمرانوں کو رسواءکرنے والی کہانیاں جو Ratingsکو یقینی بناتی ہیں۔ اینکر حضرات کو لفافے ٹھکراتے مردانِ حق کے طورپر پیش کرتی ہیں۔
سیاسی حکمرانوں کی رسوائی سے حظ اُٹھاتے ہم صحافیوں میں سے کسی ایک کو بھی یاد نہیں رہا کہ چند ہی ماہ قبل بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں وکلاءکی ایک بہت بڑی تعداد کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس سفاکانہ واردات کے ذمہ داروں کا ابھی تک تعین نہیں ہوپایا ہے۔ کوئٹہ ہائی کورٹ کے جسٹس فائز عیسیٰ کھلی عدالت میں پاکستان کے ”حساس ترین“صوبے کے چیف سیکرٹری سے وکلاءپر ہوئے حملے کے تناظر میں چند بنیادی سوالات گزشتہ جمعرات کے دن پوچھتے رہے۔ بلوچستان میں امن وامان کو یقینی بنانے کے حتمی ذمہ دار اس افسر کے پاس ان سوالوں کا کوئی ایک مناسب جواب بھی موجود نہیں تھا۔
وکلاءکی درد ناک ہلاکتوں کے چند ہی روز بعد بلوچستان کے دور افتادہ قصبوں اور دیہات سے بھرتی ہوئے کئی نوجوان پولیس کیڈٹوں کو کوئٹہ سے چند ہی کلومیٹر دور قائم اکیڈمی میں دہشت گردوں نے بھون کررکھ ڈالا۔ اس واقعے کے ذمے دار اور سہولت کار بھی ہماری ریاست ابھی تک تلاش نہیں کرپائی ہے۔ ریاست کی ناکامی اور نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لئے ایک سفاکانہ جواز مگر گھڑلیا گیا ہے۔ پاک-چین راہداری۔ یہ ر اہداری ہمارے دشمنوں کو پریشان کئے ہوئے ہے۔ اسے ناکام بنانے کے لئے دہشت گردی کی وارداتیں ہورہی ہیں۔ راہداری -ہمیں بتایا جاتا ہے-مگر بن کررہے گی۔ ملک کی تقدیر سنوارنے والے عظیم الشان منصوبے جو دشمنوں کے دلوں میں حسد جگائیں اپنی تکمیل کے لئے قربانیاں تو مانگتے ہیں۔ کوئٹہ کے وکلائ، بلوچستان کے دور افتادہ قصبوں اور دیہات سے بھرتی ہوئے پولیس کیڈٹس اور اب شاہ نورانی کے مزار پر دھمال ڈالتے مردوں، عورتوں اور بچوں نے اس اس راہداری کی خاطر ہی اپنی جانیں قربان کی ہیں۔
پاک-چین راہداری کے خلاف دشمنوں کے مذموم عزائم کی گردان پڑھتے ریاستِ پاکستان کے نمائندوں کو یادرکھنا چاہیے کہ ان کی ناکامی اور نااہلی ہر واردات کے بعد صرف راہداری کے کھاتے میں ڈال کر معاف نہیں کی جاسکتی۔ ایسی وارداتوں کو یوں پیش کرنا بھی ایک سفاکانہ حماقت ہے۔ بلوچستان میں ہوئی دہشت گردی کی ہر واردات کو اگر ہم پاک-چین راہداری کے کھاتے میں ڈالتے رہے تو وہاں کے باسی یہ سوچنے پر بھی تو مجبور ہوسکتے ہیں کہ گلگت سے گوادر تک پھیلی اس طویل راہداری کی تعمیر کی خاطر صرف انہیں دہشت گردی کا نشانہ بنانے کے لئے کیوں چنا گیا ہے؟
شاہ نورانی کے مزار کو GPSکے ذریعے تلاش کیجئے تو آپ کو فوراََ علم ہوجائے گا کہ اس مقام کا کاشغر کو گوادر سے ملانے والی شاہراہ سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلوچستان کی ساحلی پٹی سے تعلق رکھنے والوں کے لئے یہ مقام مگر کئی صدیوں سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اسے ”لاہوت“ بھی کہا جاتا ہے۔ بلاول شاہ نورانی کو اکثر ”جبل میں شاہ“ پکارکریاد کیا جاتا ہے۔ کراچی کی لی مارکیٹ سے کئی بسیں اور ویگنیں 1960کے آغاز ہی سے ”جئے شاہ-جبل میں شاہ“ پکارتے کنڈکٹروں کے ذریعے زائرین کو اپنی جانب راغب کیا کرتی ہیں۔ جمعرات کی شام اس مزار پر جانے والوں کی تعداد سینکڑوں میں ہوا کرتی ہے۔ پچھلے کچھ برسوں سے لیکن ہزار ہا لوگ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب وہاں دھمال ڈالنے اور منتیں مانگنے جاتے ہیں۔
”حقیقی اسلام“ کے کئی خود ساختہ ٹھیکے داروں کو معصوم بلوچوں کی جبل میں مقیم شاہ نورانی سے یہ عقیدت بالکل پسند نہیں ہے۔ وہ اسے ”شرک اور بدعت“ قرار دیتے ہیں۔1990کی دہائی کے وسط سے ان لوگوں کو مدرسے قائم کرنے کے لئے خطیر رقوم کئی خلیجی ممالک سے وصول ہوئیں۔ ان ممالک ہی کے چند”مخیر“ حضرات نے ان مدارس سے ”جنداللہ“ نامی تنظیم کے لئے رضا کار جمع کئے۔ یہ ”رضا کار“ ہزار ہ کمیونٹی کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں مقیم ”ذکری“بھی ان کی نظر میں قابل تکفیر ہیں۔”راسخ العقیدہ“ بنائے ان بلوچوں کو بالآخر ایران میں ”حقیقی اسلام“ کی بالادستی بھی قائم کرنا ہے۔
شاہ نورانی کے مزار پر ہوئے حملے سے ایک ہی روز قبل ریاستِ پاکستان نے لسبیلہ کے شہر حب کے قریب ”جنداللہ“ کے ایک اہم ترین فرد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔ ہفتے کی شب ”لاہوت“ میں ہوئی واردات اس ہلاکت کا ردعمل بھی تو ہوسکتی ہے۔ بلوچستان میں ہوئی دہشت گردی کی ہر واردات کو مگر صحافت کے نام پر جہالت پھیلاتے ریٹنگوں کے بھوکے اور اپنی ”حب الوطنی“ ثابت کرنے کو بے چین ذہنی غلاموں نے ہر صورت پاک-چین راہداری کے منصوبے سے جوڑنا ہے۔ دہشت گردی کی ہر واردات کو اس کھاتے میں ڈالنے کے بعد بھی مجھ ایسے کاہل اور جاہل صحافی اپنی ریاست سے یہ سوال نہیں پوچھ پائیں گے کہ دشمنوں کے مذموم عزائم کو خوب سمجھتے ہوئے بھی ان کی جانب سے ہوئی وارداتوں کا تدارک کیوں نہیں کر پاتی۔
یہ بات درست ہے کہ دہشت گردوں کو فرانس جیسا طاقت ور ملک بھی سفاک وارداتیں کرنے سے کبھی کبھار نہیں روک پاتا۔ہماری ریاست کو کم از کم ہر وقت چوکنا نہ سہی مگر اس قابل تو ضرورہوجانا چاہیے کہ جب بلوچستان میں دہشت گردی کی کوئی واردات ہو تو اس کا نشانہ بنے بے کسوں کی مدد کے لئے صرف خیرات کے ذریعے چلنے والی ایدھی فاﺅنڈیشن کی ایمبولینسز ہی نظر نہ آئیں۔ کوئی سرکاری بندوبست بھی ہوتا نظر آئے۔

نصرت جاوید

Related posts