مسلمانوں کی سائنسی ترقی‘ فتوے ‘ مناظرے اور ہلاکتیں


عباسی دور خلافت کے اواخر تک مسلمانوں نے جدید سائنسی اور طبی علوم پر مہارت تو حاصل کرلی تھی لیکن ان سائنسدانوں کی اکثریت کا تعلق بظاہر لبرل یا ‘ غیر مولوی ‘ طبقے سے تھا، چنانچہ ایک ایک کرکے ان سائنسدانوں پر کبھی کفر کا فتوی لگا تو کبھی ان کی تصانیف کو گستاخی سے تعبیر کرکے جلایا جانے لگا۔ مسلمانوں میں انتہا پسندی بڑھنے لگی تو ہر دوسرا شخص فتوی جاری کرنے لگ گیا۔ پھر جب ان فتووں کا فکری ٹکراؤ ہونے لگا تو گروہ بندی شروع ہوگئی۔ شیعہ سنی کی تقسیم ہوئی پھر سنیوں اور شیعوں میں بھی مزید گروہ بندیاں ہونے لگیں۔ پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب مسلمانوں کے دارلخلافہ بغداد میں ہر دوسرے دن کسی نہ کسی موضوع پر مناظرے ہونا شروع ہوگئے جنہیں دیکھنے کیلئے لوگ اپنی گروہ بندیوں کے حساب سے موجود ہوتے اور پھر ہر مناظرے کے بعد مخالفین میں باقاعدہ تلواروں اور نیزوں سے جنگ ہوتی۔ غالباً سن 1258 کا ایک ایسا ہی چمکدار دن تھا جب دارالخلافہ بغداد کی چار گلیوں میں بیک وقت چار اہم موضوعات پر مناظرے ہورہے تھے۔

پہلا مناظرہ اس بات پر تھا کہ سوئی کی نوک پر بیک وقت کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں۔

دوسرا مناظرہ اس اہم موضوع پر ہورہا تھا کہ کوا حلال ہے یا حرام؟

تیسرے مناظرے میں یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جارہی تھی کہ مسواک کا شرعی سائز کتنا ہونا چاہیئے؟ ایک طبقے کا خیال تھا کہ یہ بالشت سے چھوٹی نہیں ہونی چاہیئے جبکہ دوسرے گروہ کے خیال میں بالشت سے چھوٹی مسواک بھی جائز تھی۔

چوتھے مناظرے میں اس سوال کا جواب تلاش کیا جارہا تھا کہ عربی میں ” والضالین ” کہتے وقت ض کیلئے آواز دال کی نکالنی ہے یا زال کی؟ اور یہ کہ ض کی ادائیگی کیلئے زبان کو کتنے زاویئے پر موڑنا واجب ہے؟

ابھی یہ مناظرے زور و شور سے جاری تھے کہ اچانک ہلاکو خان کی قیادت میں تاتاریوں کا لشکر بغداد کی گلیوں میں داخل ہوا اور سب کچھ تہس نہس کرگیا۔ مسواک کی حرمت بچانے کی کوششوں میں مصروف لوگ خود بوٹی بوٹی ہوگئے۔ سوئی کی نوک پر فرشتے گننے والوں کی کھوپڑیوں کے مینار بن گئے جنہیں شمار کرنا بھی ممکن نہ رہا۔ کوے کے گوشت کی بحث کرنے والوں کے مردہ جسم کووں نے نوچ ڈالے، ض کی درست آواز نکالنے کی کوشش کرنے والوں کی چیخوں سے زمین گونچ اٹھی۔

پچھلے دنوں سوشل میڈیا کا موضوع سخن یہ تھا کہ کیا عیدالاضحی پر جانور کی قربانی ہی کی جائے یا اس رقم سے کسی غریب کی مدد کی جانی چاہیئے؟ بڑے بڑے جغادری، قادری، حافظ، ملا، مولانا، قاری، ہاشمی، الغرض جس کے پاس فیس بک کا اکاؤنٹ تھا، اس نے اس موضوع پر طبع آزمائی ضرور کی لیکن نتیجہ لاحاصل۔ آخر میں سب کے حصے میں کفر اور جہالت کے فتوے آئے۔

اب مسلمانوں کو ایک اور اہم موضوع مل گیا ہےکہ عرفات کا روزہ سعودی عرب کے ساتھ رکھا جائے یا مقامی چاند کی تاریخ کے حساب سے رکھنا ہوگا؟ ایک مرتبہ پھر سب ملا حضرات خم ٹھونک کر میدان میں آگئے اور فتوی سازی شروع ہوگئی۔ ہلاکو خان کو بغداد تباہ کئے سینکڑوں برس بیت گئے لیکن قسم لے لیں جو مسلمانوں نے تاریخ سے رتی برابر بھی سبق سیکھا ہو۔ اس جہالت نے ہماری دنیا بھی خراب کردی اور آخرت میں بھی جوتے پڑوا کر رہے گی

Related posts

Leave a Comment