مشرف کے یاروں سے مسلم لیگ ن کو بچاؤ

asmat-ikramمسلم لیگ کارپوریشن فیصل آباد کے سینئر نائب صدر عصمت اکرام نے دیگر جماعتوں سے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرنے والے افراد کی حمایت کرنے پر لیگی قیادت کے خلاف  گھنٹہ گھر چوک میں تادمِ مرگ بھوک ہڑتال کیمپ لگایا ہے۔لیگی رہنما کی جانب سے کیمپ میں ساؤنڈ سسٹم پر قومی اور پارٹی کے نغمے چلائے جا رہے ہیں جبکہ بھوک ہڑتالی کیمپ کے گرد لگائے گئے فلیکسز پر پارٹی قیادت سے کیے جانے والے سوالات درج ہیں۔پاکستان مسلم لیگ ورکر اتحاد کی زیرِ اہتمام لگائے جانے والے فلیکس پر قیادت سے سوال پوچھا گیا ہے۔’قائدین مسلم لیگ یہ بتائیں کہ کہ فیصل آباد سٹی میں مخصوص نشستوں پر لوٹوں کو نوازنا کہاں کا انصاف ہے؟’اسی کے نیچے ایک اور سوال تحریر ہے کہ ‘کیا تحریک نجات اور عدلیہ بحالی اور میاں نواز شریف کی حمایت پر ظلم و تشدد برداشت کرنے والوں کا کوئی حق نہیں ہے؟’ ایک دوسرے فلیکس پر پارٹی کی جانب سے غلام بھیک اعوان کی حمایت کرنے کے خلاف نعرہ درج ہے کہ ‘پرویز مشرف، پرویز الہی کے یاروں سے مسلم لیگ ن کو بچاؤ۔’
عصمت اکرام نے  گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پارٹی قیادت ان کی نسبت جن دیگر امیدواروں کو بلدیاتی الیکشن میں مخصوص سیٹوں پر حمایت کر رہی ہے وہ اس سے قبل مختلف پارٹیوں کے کارکن رہے اور ان کی مسلم لیگ کے لیے خدمات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کارپوریشن میں ان کے مدمقابل امیدوارغلام بھیک اعوان نے 2013ء کے عام انتخابات میں دیگر جماعتوں سے مل کر رکنِ قومی اسمبلی رانا محمد افضل خاں اور رکنِ صوبائی اسمبلی حاجی خالد سعید کی بھرپور مخالفت کی مگر اس کے باوجود لیگی قیادت ان کی حمایت کر رہی ہے جو حقیقی ورکروں کے استحصال کے مترادف ہے۔عصمت نے پارٹی کے لیے اپنی قربانیوں اور خدمات پر مبنی درخواست بھی میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کو بھجوائی ہے۔درخواست میں انہوں نے مؤقف اختیارکیا کہ وہ نسل در نسل مسلم لیگی ورکر ہیں اور بطور صدر اور سینئر نائب صدر مسلم لیگ یوتھ ونگ کے لیے خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ان کے مطابق قیامِ پاکستان کے بعد جب 1950ء میں پہلی مرتبہ مسلم لیگ کی رکنیت سازی ہوئی تو ان کے والد اور تایا نے اس میں حصہ لیا تھا اور تب سے لے کر آج تک ان کا خاندان پارٹی کا وفادار رہا ہے۔
عصمت اکرام نے اپنی درخواست میں پارٹی صدر کو یاد دہانی کرواتے ہوئے لکھا ہے کہ 1999ء میں جب پرویز مشرف نے مارشل لاء نافذ کیا تو فیصل آباد میں نواز شریف کی حمایت میں پہلا جلسہ انہی کی زیرِ صدرات ہوا تھا۔ان کے بقول ‘اس جلسے کی بدولت مجھے بعد ازاں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن میں ہر اچھے برے وقت میں پارٹی کا ساتھ کھڑا رہا ہوں۔’درخواست میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چوہدری شجاعت حسین نے براہ راست ان سے رابطہ کیا اور ق لیگ میں شمولیت کی پیش کشں کی لیکن وہ اس مشکل دور میں بھی مسلم لیگ سے وابستہ رہے۔آخر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے خاندان کی پاکستان اور مسلم لیگ ن کے لیے خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے میونسپل کارپوریشن فیصل آباد سٹی کی لیبر سیٹ کا ٹکٹ دیا جائےاور لوٹوں کی حمایت کا سلسلہ بند کیا جائے۔

Related posts