ملتان سمیت پنجاب بھر میں بجلی کی اوور بلنگ بند نہ ہوسکی


ملتان (نیوزلائن)وزارت توانائی پاور ڈویژن کے احکامات اور حکومت کی جانب سے اووربلنگ کے خلاف قانون سازی کے باوجود بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی طرف سے اووربلنگ اور زائد یونٹ ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ وفاقی وزیر توانائی کی جانب سے بجلی کمپنیوں کی جانب سے 15سے 20ارب کی اووربلنگ کے اعتراف کے باوجود صورتحال بہتر نہ ہو سکی ۔زرعی ٹیوب ویل صارفین کی جانب سے بھی اوورچارجنگ، اووربلنگ اور اضافی یونٹ ڈالنے کی شکایات بدستور موجود ہیں ۔علاوہ ازیں میپکو سستے داموں میٹروں کی خریداری کے باوجود صارفین سے زائد قیمت وصول کررہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق میپکو سمیت پنجاب میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں سنگل فیز ڈیجیٹل اور سٹیٹک میٹرز 944 روپے فی میٹر کے حساب سے خرید رہی ہیں جبکہ صارفین سے گھریلو میٹر اور پی وی سی تار کی قیمت کی مد میں 4 ہزار فی کنکشن وصول کئے جارہے ہیں۔ صارف سے 2200 روپے تار جبکہ 1800 روپے میٹر کی مد میں وصول کئے جارہے ہیں۔ خراب اور جلے میٹروں کے لئے 1850روپے کا ڈیمانڈ نوٹس جاری کیا جاتا ہے جبکہ 90 فی صد صارفین کو ڈیمانڈ نوٹس جاری کرنے کے بجائے مبینہ طور پر نقد رقم وصول کرکے افسر اور ملازمین جیبوں میں ڈال رہے ہیں۔ صارفین سے یہ رقم اقساط کی صورت میں بلوں میں وصول کی جارہی ہے ۔ مزید برآں بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کی جانب سے نئے کنکشنوں کے حصول کے لئے لازمی قرار دی گئی ٹیسٹ رپورٹس کا کمپنی اور صارفین کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ۔ درخواست گزاروں سے وصول کردہ کروڑوں روپے کی رقم پنجاب حکومت کے محکمہ برقیات کے اکاؤنٹ میں جارہی ہے ۔ بجلی کمپنیوں کی جانب سے نئے کنکشنوں کے حصول کے لئے جاری کردہ ڈیمانڈ نوٹس بینک ٹیسٹ رپورٹ کے بغیر وصول نہیں کرتے ۔ محکمہ برقیات کے الیکٹرک انسپکٹر کا آفس ٹیسٹ رپورٹ کے اجرا کا مجاز ہے لیکن ملتان شہر میں پرائیویٹ افراد کھلے عام یہ ٹیسٹ رپورٹ فروخت کررہے ہیں جبکہ حکام اس غیر قانونی عمل پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔

Related posts

Leave a Comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.