مکان کچے لیکن لوگ سچے

villageوہ ایسا وقت تھا جب وقت کی قدر تھی, انسان کی قدر تھی, محبت کی قدر تھی, وعدے اور قسم کی قدر تھی وہ وقت ایسا تھا جب اقدار کی قدر تھی, وہ وقت ہی اصل وقت ہوا کرتا تھا اب تو ہم اس عہد سے نکل چکے, لوگ ساتھ بیٹھتے تھے, باتیں ہوتی تھیں, قصہ گو ساری ساری رات قصہ سناتے اور چوپال سجی رہتی تھی وہ وقت تھا جب گھروں کی دیواریں نہیں ہوا کرتی تھیں لیکن پھر بھی پردہ ہوا کرتا تھا حیا ہوا کرتی تھی احساس ہوا کرتا تھا, وہ وقت تھا جب دروازے بھی نہ تھے اور تالے بھی نہ تھے لیکن بھروسہ ہوا کرتا تھا دستخط اور انگوٹھا لگانے کا رواج نہ تھا صرف زبان ہی قانون ہوا کرتی تھی, ساتھ رہنے والے دکھ سکھ غم اور خوشی کے شریک ہوا کرتے تھے, ایک ہی کنواں ہوا کرتا تھا اور پورا گاؤں وہیں سے پانی بھرتا اور پیتا تھا, نہ کوئی کافر تھا اور نہ مسلمان صرف ہمسائے اور ساتھی ہوا کرتے تھے , ایک ہی کنوئیں پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے مویشی پانی پیا کرتے تھے,نہ وہ مویشی مسلمان ہوا کرتے تھے اور نہ پانی کافر , خوشی کا مطلب خوشی اور غم کا مطلب غم ہوا کرتا تھا لیکن مطلب جو بھی ہوتا سب کا ایک ہی ہوا کرتا تھا ایک ہی اکٹھ اور ایک ہی مقصد , برتن مٹی کے ہوتے تھے اور دل شیشے کی طرح صاف جس میں کوئی بال آ جائے تو فوراً دیکھا جا سکتا ہے اسی طرح ناراضی اور خوشی سانجھی ہوا کرتی تھی کوئی دشمنی اورسازش نہیں تھی , مکان کچے تھے لیکن حوصلے اور اتفاق آج کے پتھروں سے زیادہ پکے ہوا کرتے تھے , فرش مٹی کا ہوتا تھا لیکن محبت بھی مٹی کی خوشبو کی طرح سوندھی ہوا کرتی تھی , کپڑے سادہ ہوا کرتے تھے لیکن ایک دوسرے سے بغض و حسد اور ریا کاری کا گمان تک نہ تھا , سب ایک خاندان تھے اور وہ خاندان محبت پہ یقین رکھتا تھا اور محبت ہی دین اور دنیا تھیاب مکان پکے ہیں ,دل بھی پکے ہو گئے , بھائی بہن کو روتا دیکھ کر بھی ترس نہیں کھاتا , اب کپڑے مہنگے اور چمکیلے ہیں,لیکن حسد اور دکھاوا ایک دوسرے کو پاس بیٹھنے نہیں دیتا , اب تفریق اٹل ہے,کوئی کافر ہے تو کوئی مسلمان کوئی منکر ہے تو کوئی مولوی , اپنے اپنے راستے پر جنت کے طلبگار تو ہیں لیکن محبت اور نرمی کہیں نہیں ,اب بڑے بڑے محلات اور پکے مضبوط مکان تو ہیں لیکن خود پر بھروسہ ہے نہ معاشرے کے دوسرے افراد پر , ہر وقت اپنا آپ تک غیر محفوظ معلوم ہوتا ہے اور اس کشمکش میں اس قدر الجھن کا شکار ہیں گویا ہمیں اپنے گھر اپنا وطن معلوم ہوتے ہیں اور ہر انسان صرف اور صرف اپنے لیے اور اپنے گھر کے لیےسوچتا ہے اسے پروا ہی نہیں اردگرد کیا ہو رہا ہے
میں انسان کہاں ڈھونڈوں ؟ وہ انسان جو انسان تھے اور وہ جو ایک دوسرے کے لیے تھے ایک دوسرے کی محبت تھے اور ایک دوسرے کا بھروسہ تھے وہ محبت اور بھروسہ مرا مان ہے

Related posts