میئر کراچی وسیم اختر کی ضمانت منظور

waseem انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے دہشت گردوں کی سہولت کاری اور ان کے علاج معالجے سے متعلق مقدمے میں مئیر کراچی وسیم اختر اور پیپلز پارٹی کے رہنما قادر پٹیل کی ضمانت منظور کرلی۔
نیوزلائن کے مطابق انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے میئر کراچی وسیم اختر کے خلاف ڈاکٹر عاصم حسین کے ہسپتال میں دہشت گردوں کے علاج میں سہولت کاری کیس میں ضمانت منظور کرلی۔کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ڈاکٹر عاصم حسین کیس میں دہشت گردوں کے علاج میں معاونت کے مقدمے میں وسیم اختر اور قادر پٹیل کی درخواست ضمانت منظور کر لی ۔ عدالت نے وسیم اختر کو 5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت بھی کی ۔ درخواست ضمانت کی سماعت کے موقع پر وسیم اختر کی اہلیہ اور بچے بچے بھی عدالت میں موجود تھے، عدالتی فیصلے کے بعد وسیم اختر کی اہلیہ اور بچوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے اور انہوں نے وسیم اختر کو گلے لگا کر مبارکباد دی ۔واضح رہے کہ وسیم اختر کی 38 مقدمات ضمانت پہلے ہی منظور ہو چکی ہے، آخری مقدمے میں ضمانت منظور ہونے کے بعد وسیم اختر اب جیل سے رہا ہو جائیں گے ۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے وسیم اختر کو ہدایت کہ کہ وہ رہا ہونے کے بعد سب سے پہلے کراچی سے کچرا صاف کرائیں ۔وسیم اختر کو بانی ایم کیو ایم کی اشتعال انگیزتقریر، سانحہ بارہ مئی ، دہشت گردوں کے علاج کے مقدمات میں نامزد کیا گیا تھا۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وسیم اختر کا کہنا تھا کہ خوشی کی بات ہے کہ وہ آج رہا ہو جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ کراچی کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے ، میں میڈیا کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میرے مسائل کو اجاگر کیا ۔ اس موقع پر صحافی نے وسیم اختر سے سوال کیا کہ حکومت سندھ آپ کی رہائی سے ایک روز قبل آپ کی تنخواہ 50 ہزار مقرر کردی ہے جس پر وسیم اختر کا کہنا تھا کہ وہ آج ہی جا کر تنخواہ نکلوا لیں گے، وسیم اختر کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ سچائی کی جیت ہوئی ہے ۔یاد رہے کہ میئر کراچی وسیم اختر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سینئر رہنما ہیں، وہ 24 اگست 2016 کو کراچی کے میئر منتخب ہوئے، انہوں نے جیل سے آکر ووٹ ڈالا۔

Related posts