میرا قصور کیا ہے۔۔۔؟

قبروں سے تاریک شاہی قلعے کے عقوبت خانوں کے باہر’ دوزخ ‘سے مستعار مستعد اہلکاراس قدر ’ڈیوٹی فل‘ ہیں کہ پرندے اڑنے پر بھی ضیائی اقتدار کیلئے خطرہ محسوس کرتے ہیں ،میں باہر ضیائی اقتدار کو سہارا دینے والوں کی شکلیں نہیں دیکھ سکتا لیکن چشمِ تصور میں مجھے سب کے سب بیوقوف کہتے اور ٹھٹھے لگاتے محسوس ہوتے ہیں جن پر مجھے غصہ نہیں ترس آتا ہے،میں شدید دکھ اور کرب میں مسکرا دیتا ہوں اور ان کیلئے بمشکل ہلنے والے ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہوں اور مجھے یہ دعا آسمان پر پہنچنے سے پہلے فضا میں موجود ضیائی آلودگی سے ٹکر کر واپس لوٹتی محسوس ہوتی ہے میں بار بار دہراتا ہوں اور اتنی سپیڈ سے دہراتا ہوں کہ وہ آلودگی چیر کر نکل جاتی ہے ۔ اسی دوران محسوس کرتا ہوں کہ کوئی میرے قریب اخبار پھینک کیا گیا ہے ، یہ اخبار کیا بس آدھا حصہ کاربن پیپر ہے اور کہیں کہیں سفید دھبے ہیں ، کچھ لکیریں بھی کھنچی ہوئی ہیں،ان لکیروں کو جوڑ کر پڑھتا ہوں تو جو مواد بن پڑتا ہے اس کے مطابق میں نے اسی عقوبت خانے میں بیٹھے بیٹھے میں نے ایک سازش تیار کرکے الذولفقار کے کارندوں کو دی ہے جو باہر حساس اداروں نے پکڑ لی ہے اور اس سازش پر عملدرآمد کرنے والے تین’ دہشت گرد‘ گرفتار بھی کرلئے گئے ہیں ، ان میں ایک راج اور دو مستریوں کے روپ میں مسجدتعمیر کررہے تھے،انہوں نے زیرِ تعمیر مسجد کے امام سے صرف یہ پوچھا تھا کہ مذہب کے نام پر جھوٹ بولنے والے کوع بھی خدا پوچھے گا یہ جنت اور دوزخ و جزو سزا کا تصور صرف ہم جیسے محنت کشوں کیلئے ہی پیش کیا گیا ہے ؟
قلعے کے اس عقوبت خانے میں دن رات کا اندازہ تو لگایا جاسکتا ہے ، مہینے اور تاریخ حساب رکھنا مشکل ہے ، میںنے یہ حساب لگانا ہی چھوڑ دیا ہے ۔۔
پھر مجھے لگتا ہے کہ میں اس عقوبت خانے سے’ ڈی پورٹ‘ کردیا گیا ہوں لیکن میرا لباس، سفری دستاویزات اور شناخت بھی وہیں رکھ لی گئی ہے اور ایک نئے خطے پر اتار دیا گیا ہوں جہاں کچھ کچھ ہیولے جانے پہچانے سے لگتے ہیں ۔۔۔کوئی اس خطے کو سسیلین مافیا اور کوئی ’گاڈ فادر‘ کا علاقہ قراردیتا ہے ، جس کے ہاتھ میں ڈنڈا ،بندوق اور کرنسی نوٹوں کے بوریاں ہیں وہ یہاں کا معزز اور حاکم ہے باقی سب بھیڑ بکریاں ہیں ، جس کا جتنا بس چلتا ہے وہ انہیں اپنی پسند کے مطابق ہانک کرلے جاتا ہے ۔۔یہ بھیڑ بکریاں اکثر ان کے باہمی تصادم میں زخمی ہوتی اور بلا علاج مرتی ہیں اور پھر مرنے اور مارے جانے کے ساتھ ساتھ چارا پانے کے عمل میں بھگدڑ مچنے اور کچل کرمرنے کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں ،بہت سی ٓوازیں ایسی بھی آتی ہیں جو یہ کہتی ہیں کہ چارے کا کوئی چارا بھی کرو تو یک دم آوازیں برح جاتی ہیں ، اس شور یہ سے مجھے مطلب کی صرف ایک بات سمجھ آتی ہے کہ یہ چارا اتنا ضرور کرلیں گہ کہ سب بکریوں کو مل جائے گا ، ایسا ہوا کچھ بکریاں بیچ دی گئیں ، مچھ ماردی گئیں اور کچھ سے گدھوں ، گھوڑوں اور اونٹوں کی طرح مال برداری کا کام لیا جا یہ بکریاں کتنا بوجھ اٹھاتیں ؟ لیکن چارے کے لالچ اور زندہ رہنے کی خواہش کے ساتھ کمپرومائز کرنے پر مجبور ہوئیں تو کچھ بھوک پر احتجاج کرتی ممنانے لگ گئیں ، اس ممیانے پر بھی تعزیر لگ گئی ، یہی نہیں ، اچھل کود پر بھی پابندی عائد ہوگئی ، بس اونچے اونچے خالی ڈکار لینے پر مکمل آزادی رہی ۔۔۔اسی ٓزادی میں ایک لمؓا ڈکار لیتے میں میں خود ہی ڈکار ہوگیا اور اور ایک رویتی سے عمل سے گذر کرایک دوسرے ’تاریک خانے ‘ میں اتاردیا گیا۔ یہ تاریک جگہ بڑی ٹھنڈی محسوس ہوئی ، تاریکی سے مانوس ہونے کی وجہ سے یاد داشت بحال ہونے لگی ، رفتہ رفتہ یاد داشت بحال ہوگئی تو یہ بھی یاد آیا کہ جب مجھے شاہی قلعے کے عقوبت خانے سے ’ڈی پورٹ‘ کیا گیا تھا تب میں آدھا تو وہیں رہ گیا تھا۔۔۔اب میں’ آدھے‘ پر بھی مطمئن تھا لیکن’ پورا ‘ہونے کا خواہش مند نہیں تھا کہ نجانے اس بار بھیڑ بکریوں کے کس ریوڑ کی سنگت ملے ؟
اس وقت مجھے تاریخ کا احساس ہوا ہے تو میں محسوس کررہا ہوں کہ میں سولہ اور سترہ اگست کے زیرو آور‘ ہیں اور اگلی ساعت ہی سترہ اگست ہوگیا ہے ۔۔۔
میں آدھا ہی پوری رفتار سے اڑتا ہوا فیصل مسجد کے باہر پہنچتا ہوں جہاں مسجد کے میناروں کی روشنی کا احساس تو ہوتا ہے لیکن ارد گرد اندھیرا ہی ہے ، ایک لمحے کیلئے یہ اندھیرا مجھے شاہی قلعے کے عقوبت خانے سے بھی گہرا لگتا ہے لیکن میری دل سے آواز آتی ہے کہ نہیں۔ نہیں نہیں ، ہرگز نہیں ، ایسے لوگوں کے نصیب میں ایسا اندھیرا کہاں جس اندھیرے نے ہمیں ا بدی اجالافراہم کیا ہے ۔۔۔ میری خود کلامی بڑھ گئی اور تکرار میں بدل گئی ۔۔میں تنہا ایسے تکرار کررہا تھا اور شور اسقدر تھا کہ سترہ اگست1998ءسے لیکر 1990ءتک کئی بار یہاں برپا ہونے والے ہنگامے سے بھی زیادہ تھا۔۔ میری خودکلامی اور تکرار کو ایک بوڑھے ٹیکسی ڈرائیورکی اس آواز نے توڑ دیا کہ باﺅ جی !مٹی کی اس ڈھیری پر ہی رات گذارنی ہے کیا؟ کہاں جانا ہے میں چھوڑ دوں ؟ کیا اس قبر سے تمہارا بھی کوئی ناطہ ہے ، میں نے کبھی پہلے تو آپ کو نہیں دیکھا ؟ ویسسے گتو یہاں اب کوئی نہیں آتا ، بس کبھی کبھی چرندپر کا پھیرا لگ جاتا ہے ؟ بوڑھا ڈرائیور ایک ساتھ ہی کئی بساتیں اور سوال کرگیا ۔ میں نے صرف ایک ہی جواب دیا کہ مٹی کی یہ ڈھیری جس شخص سے منسوب ہے اس سے ناطہ اتنا گہرا ہے کہ ٹوٹ نہیں سکتا ، یہ وہ استاد ہے جس نے ملک اور ادارے تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے پیرو کاروں کو بھی سبق ایسا ازبر کرایا ہے کہ بس ، ملک ، عوام اور ریاستی ادارے اپنی حقیقی شناخت اور کردار کا تعین ہی نہیں کرپارہے ۔۔ بوڑھے ڈراوئیور کی ضد پر مجھے اپنی شناخت کرانا پڑی کہ میں ایک محنت کش اور طالبعلم تھا،سچ اور سماج کی بات کرتا تھا ،بس جھوٹ اور فریب کے فرعون نے مجھے اپنے لئے خطرہ محسوس کیا اور پھر۔۔۔۔ اگلی بات اس بزرگ نے کی یہ کی کہ بس تمہارا یہی قصور تھا تو میری ہنسی نکل گئی ، بابے کے استفسار پر میں نے ہنسی کی وجہ یہ بتائی کہ یہاں تو لوگ بھیڑ بکرریوں کے ریوڑ اکٹھے کئے پھرتے ہیں اور ہجوم سے پوچھتے ہیں کہ میرا قصور کیا ہے ؟ ۔۔
ٹیکسی ڈرئیور جہاندیدہ تھا ، بولا ۔۔۔ یہاں ایک مدت سے کوئی نہیں آیا اور اس قبر کی مٹی نے بھی کبھی سوال نہیں کیا کہ مجھے’ڈنپ‘ کیوں کیا گیا ؟ میرا مناسب استعمال کیوں نہ کیا گیا ؟ میرا قصور کیا ہے؟
ٹیکسی ڈرائیور کی ضد پر میں یہ جگہ چھوڑنے پر آمادہ ہوگیا اور نے جانے کتنی باتیں کیں ؟ صرف ایک بات میری کانوں سے مسلسل ٹکرا رہی ہے کہ یہ مٹی کی ڈھیری بس مٹی کی ڈھیری ہے ؟ اس کے نیچے کچھ نہیں ، کچھ ہوتا تو کوئی اس کا وارث ہوتا ، یہاں یکم دسمبر سے سترہ اگست اور سترہ اگست سے یکم ستمبر تک ویرانی ہی ویرانی ہوتی ہے۔۔ چاہو تو کل، پرسوں تک بیٹھ کر دیکھ لو۔۔۔۔ اور یہاں جس گدی نشیں کی تم بات کرتے ہو۔۔ وہ تو بس گرو اور چیلے کا تعلق تھا ، استاد شاگرد کا نہیں کیونکہ استاد جھوٹا نہیں ہوتا جبکہ گرو کیلئے فریبی ہونا ضروری ہے ، اس لئے چیلا اب ناکامی کے بعد اپنی عیاری پکڑے جانے پر بس ہذیانی کیفیت میں پوچھ رہا ہے ۔ میرا قصور کیا ہے ؟۔۔۔ معلوم نہیں کب بابے کے ہاتھ پر میری گرفت مضبوط ہوئی تو اس کی چیخ نکل گئی کہ ’میرا قصور ‘کیا ۔ مجھ سے ازخود ہی بابے کا ہاتھ چھوٹ گیا ، یہ بابا بھی میری جیسے کسی ریوڑ کا حصہ تھا.محمد نواز طاہر

Related posts

Leave a Comment