میری رت میرا دھیان ہے


a-girl
ماحول کی یکسانیت مایوسی اور جمود کا باعث ہوتی ہے, رت ماحول کی ہو یا دل کی , اپنی الگ کشش رکھتی ہے, کب کونسی رت دل میں اتر جائے دل کا موسم بدل دے یہ کسی کو خبر کہاں, کب کون سا لہجہ کب کونسی آنکھ بدل جائے, کب کسی کی آواز اپنے حصار میں لے کسی کو علم نہیں لیکن اس رت کی سب سے بڑی برائی یہ یے کہ رت ہمیشہ بدلتی رہتی ہے, اپنا عادی بنا کے بدل جاتی ہے, ہوا کی رت بدل جائے تو سانس لینے کی عادت کب جینے دے گی, کسی کی آنکھ کے رنگوں کے حصار میں آنے کے بعد وہ رنگ ہی پھیکے پڑ جائیں تو بینائی ہی چلی جائے, سننے والے کسی گیت اور سر میں کھو جانے کے بعد اس سر سے دور ہو جائیں تو وہ آخری دم تک اس سر کی تلاش میں آوازوں کے جنگل میں مارے مارے پھرتے رہیں گے,خوشبو ہو یا خوبروئی سب رتیں ہیں اور سب ہی بدل جاتی ہیں اور بدلتی رتیں کب سکون سے رہنے دیتی ہیں . برف پڑ رہی ہو, یخ بستہ ہوائیں چل رہی ہوں, ایک آتش دان میں موجود وہ آگ اس وقت زندگی کی ضمانت ہوتی ہے اور اگر وہ آگ تانپنے والے سے ناراض ہو جائے تو کس بے بسی کے عالم میں جینا پڑ جائے, . رت موسم اور آب و ہوا دل دماغ ماحول سب کو بدل دیتی ہے, اپنے اندر کی رت مکمل جہان کی مانند ہے,. اگر میرے اندر کی رت اداس ہے تو باہر کے سب تاشے گانے باجے سب مجھ پہ بے اثر ہوں گے اور میرے اندر کی رت اگر خوشی کا سامان پیدا کر چکی تو کوئی بڑی سے بڑی مشکل بھی میں مسکرا کر برداشت کر لوں, میری رت میرا دھیان ہے اور مجھے میرا دھیان اپنی دنیا کے بدلتے رنگوں سے بے نیاز رکھتا ہے اور میں اپنی رت کی خود تخلیق کار.بشریٰ بختیار

Related posts