’میں امریکہ سے تعلقات ختم کرکے روس اور چین کے ساتھ جا ملوں گا‘ دنیا کا منظر بدلنے لگا،

fulpine-presبحرجنوبی چین کے تنازعہ کا سہارا لیتے ہوئے امریکہ، فلپائن کے کندھے پر بندوق رکھ کر چین کا شکار کرنے کے سہانا خواب دیکھ رہا تھالیکن فلپائنی صدر رودریگو دوترتے نے امریکہ کے اس سہانے خواب کوانتہائی بھیانک تعبیر سے ہمکنار کر دیا ہے۔ فلپائنی صدر نے بحرجنوبی چین کی ملکیت کے دیگر دعویداروں جاپان وغیرہ اور پشت پناہ امریکہ کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی پہلے سرکاری چینی دورے کا اعلان کر دیا ہے۔ چینی حکام کی طرف سے بھی رودریگودوترتے کے اس اعلان کا بھرپور خیرمقدم کیا جا رہا ہے اور برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ، جنہیں کچھ لوگ ماﺅزے تنگ کے بعد چین کی طاقت ور ترین شخصیت کہتے ہیں، خود فلپائنی صدر کا پرتپاک استقبال کریں گے۔رپورٹ کے مطابق رودریگو دوترتے کے ہمراہ فلپائن کے سینکڑوں کاروباری افراد بھی اس تین روزہ دورے پر چین آئیں گے۔ ان میں فلپائن کی اہم ترین کاروباری شخصیات بھی شامل ہیں۔ فلپائن ایشیاءمیں امریکہ کے اہم ترین اتحادیوں میں سے ایک ہے اور اس کے چین کے قریب آنے سے امریکہ کو ایشیاءمیں شدید جھٹکا لگے گا۔ اس حوالے سے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ”بیجنگ کو امید ہے کہ رودریگو دوترتے کے اس دورے سے دونوں ممالک کے مابین باہمی سیاسی اعتماد فروغ پائے گا، دوطرفہ عملی تعاون مضبوط ہو گا اور روایتی دوستی میں وسعت آئے گی۔“ فلپائن میں تعینات چین کے سفیر نے منیلا میں اپنی ایک حالیہ تقریر میں کہا تھا کہ ”اندھیرے چھٹ رہے ہیں، افق میں سورج بلند ہو رہا ہے،فلپائن اور چین کے مابین دوستانہ تعلقات کی صبح طلوع ہو رہی ہے اور یہ چڑھتا سورج دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر خوبصورتی کے ساتھ ضوفشاں ہو گا۔
واضح رہے کہ فلپائن دہائیوں سے امریکہ کا اتحادی ہے تاہم ایک طویل عرصے سے وہاں عوام میں امریکہ کے خلاف منافرت پائی جا رہی تھی۔ صدر رودریگودوترتے نے اقتدار میں آتے ہی اپنے عوام کی خواہش کے مطابق امریکہ سے منہ موڑ لیا تھا۔ انہوں نے اپنے ملک میں منشیات کے خلاف ایک آپریشن بھی شروع کیا جس میں منشیات فروشوں اور استعمال کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مار دینے کے احکامات دے دیئے۔ اب تک اس آپریشن میں 3ہزار سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں۔ امریکی صدر باراک اوباما نے اس آپریشن اور ہلاکتوں پر تنقید کی تھی جس پر صدر رودریگو دوترتے نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا، حتیٰ کہ انہیں ”فاحشہ کا بیٹا“ بھی کہہ ڈالا۔ اس کے بعد بھی مسلسل وہ اوباما کو مغلظات سے نوازتے آ رہے ہیں اور عالمی دباﺅ کے باوجود اپنے الفاظ واپس لینے سے بھی انکاری ہیں۔ اب چین کا دورہ کرکے وہ ایشیاءمیں امریکہ کے مفادات کو سخت زک پہنچانے والے ہیں جس کا تصور ہی امریکیوں کے لیے ہولناک ہوگا۔

Related posts

Leave a Comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.