ناموں پر پابندی‘ نام رکھنا والدین نہیں حکومت کی ذمہ داری

babyبچے کی پیدائش پر نام رکھنا اب ایک باقاعدہ تحقیق طلب کام بن چکا ہے۔ نومولود آتے ہی ننھیال اور ددھیال کے درمیان فٹ بال بن جاتا ہے، جن کا اصرار ہوتا ہے کہ نام ان کی پسند کا رکھا جائے، لیکن کچھ نام ایسے ہوتے ہیں، جو کوئی نہیں رکھتا۔ پاکستان میں گو کہ قانونی طور پر کسی نام کے رکھنے پر کوئی پابندی نہیں، لیکن تاریخی پس منظر کی وجہ سے چند ناموں کا بلیک آؤٹ ہے، لیکن کئی ممالک ایسے ہیں کہ جہاں چند ناموں کے رکھنے پر باقاعدہ پابندی عائد ہے، یعنی نام رکھنا والدین کی محبت نہیں بلکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کیونکہ وہ ثقافتی شناخت کا تحفظ کرنا چاہتی ہے۔ آپ کو چند ایسے ملکوں کے بارے میں بتاتے ہیں، جہاں مخصوص ناموں پر پابندی ہے،
ملائیشیا میں نامناسب ناموں کی فہرست موجود ہے اور ان پر فوری طور پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ ان میں جانوروں، شاہی خاندان یا اعزازی ناموں کے ساتھ کھانے پینے کی چیزیں، گالیاں اور اعداد وغیرہ شامل ہیں۔
ڈنمارک میں۔ یورپ کے اس ترقی یافتہ ملک میں 7 ہزار منظور شدہ ناموں کی ایک فہرست ہے۔ اگر آپ بچے کا ایسا نام رکھنا چاہتے ہیں، جو فہرست میں نہیں، تو آپ کو اس کی باقاعدہ اجازت لینا پڑے گی۔ آپ کے دیے گئے نام کو کوپن ہیگن یونیورسٹی میں ناموں کی تحقیق کے شعبے میں جانچا جائے گا۔ تب کہیں جا کر اس کی منظوری ہوگی۔ ہر سال ایک ہزار سے زیادہ نئے ناموں پر غور کیا جاتا ہے، جن میں سے 20 فیصد مسترد کر دیے جاتے ہیں۔ ڈنمارک میں Jakobp، Ashleiy، Monkey اور Pluto جیسے نام رکھنے پر پابندی عائد ہے۔
فرانس میں برتھ سرٹیفکیٹ رجسٹرار کو اگر کسی نام پر اعتراض ہوتا ہے تو وہ مقامی عدالت سے رابطہ کرتا ہے۔ اگر عدالت رجسٹرار سے اتفاق کرے تو وہ نام رکھنے سے روکا جا سکتا ہے۔ عدالت ایسا تب کرتی ہے جب اسے محسوس ہو کہ یہ نام زندگی بھر بچے کے لیے چڑ بن جائے گا۔ فرانس میں
Nutella، Strawberry، Deamon، Prince William اورMini Cooper
جیسے نام رکھنے پر پابندی ہے۔

Related posts