نواز‘ٹرمپ ٹیلی فونک گفتگو پراسرار رخ اختیار کر گئی

اسلام آباد(نیوزلائن)امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عملے کی جانب سے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی وضاحت اور گفتگو کا مختلف متعن سامنے آنے کے بعد سے پاکستان نے چپ سادھ لی ہے۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریہ نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ان کا کہنا تھا ’ہمارے پاس ان (ٹرمپ کے انتقال اقتدار کے عملے ) کی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا ہے اس لیے میں اس پر تبصرہ نہیں کروں گا۔‘وزیر اعظم پاکستان نے دو دن قبل یعنی بدھ کو امریکہ کے منتحب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارک باد دینے کے لیے ٹیلی فون کیا تھا۔ جس کے بعد وزیرِ اعظم ہاؤس نے روایت کے برعکس دونوں سربراہان کے درمیان ہونے والی گفتگو کا تمام متن پریس ریلیز کے ذریعے جاری کر دیا۔اس کے نتیجہ میں امریکی میڈیا اور سابق امریکی حکومتی اہلکاروں نے پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے سفارتی آداب کی خلاف وزری قرار دیا۔اس سلسلے میں پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے ’وہ کسی اور حکومتی ادارے کی کارروائی سے متعلق تبصرہ نہیں کر سکتے۔‘’جب بھی کوئی نیا صدر آتا ہے تو روایت کے مطابق دنیا کے تمام سربراہان اسے کال کرتے ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔‘
پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ ٹیلی فون پر امریکی منتخب صدر کی گفتگو پر تنقید کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے انتقال اقتدار کے عملے نے اپنے رد عمل میں ایک بیان جاری کیا۔ ٹیم نے دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو کا اپنا مختلف متن جاری کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کی ٹیم نے کہا ہے کہ ’منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیر اعظم کے درمیان موثر بات چیت ہوئی ہے جس میں باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے پر بات کی گئی۔‘رپورٹس میں بغیر کسی مشیر کا نام لیے کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ایسی باتیں ڈونلڈ ٹرمپ سے منصوب کی گئی جو کہنا ان کا مقصد نہیں تھا۔‘امریکی منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے تعلقات بڑھانے کی بات کی۔ انھوں نے پاکستان آنے کی خواہش ظاہر کی اور ہم انھیں خوش آمدید کہتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ انھوں نے خطے کے تنازعات کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کی بات بھی کی۔ اور ظاہر ہے ان کا واضح اشارہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کی طرف تھا۔’
پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان پر امریکہ میں منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ ماضی میں ان کی جانب سے ٹویٹ کے ذریعے پاکستان مخالف بیانات ہیں۔دو ہزار گیارہ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے کہا تھا کہ ’پاکستان ہمارا دوست نہیں ہے۔‘دونوں سربراہان کے درمیان گفتگو کے بارے میں پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریہ کا کہنا تھا ’امریکی منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے تعلقات بڑھانے کی بات کی۔ انھوں نے پاکستان آنے کی خواہش ظاہر کی اور ہم انھیں خوش آمدید کہتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ انھوں نے خطے کے تنازعات کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کی بات بھی کی۔ اور ظاہر ہے ان کا واضح اشارہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کی طرف تھا۔‘خیال رہے پاکستان کی جانب سے شائع ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف سے امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے آپ جو بھی کردار چاہتے ہیں وہ ادا کرنے پر تیار ہوں۔‘
حکومتی بیان کے مطابق ’ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف بہترین ساکھ رکھتے ہیں اور زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس کے اثرات ہر شعبے میں دیکھے جا سکتے ہیں۔‘وزیراعظم کی جانب سے دورہ پاکستان کی دعوت پر امریکہ کے منتخب صدر نے کہا کہ ’وہ شاندار ملک کے بہترین لوگوں اور خوبصورت مقامات کا دورہ کرنا پسند کریں گے۔‘بیان کے مطابق ’ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم نواز شریف سے کہا کہ وہ 20 جنوری کو عہدہ صدارت سنبھالنے سے پہلے بھی جب چاہیں انھیں فون کر سکتے ہیں۔‘اس سلسلے میں پاکستانی وزیر اطلاعات اور وزیر اعظم ہاؤس سے ردعمل لینے کے لیے کی گئی کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔

Related posts