نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ قبول نہیں، ن لیگ


اسلام آباد(نیوزلائن)پاکستان مسلم لیگ (ن) نے میاں محمد نواز شریف کی وزیر اعظم کے عہدے سے نااہلی کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے ہر وزیر اعظم کو چور اور ڈاکو بنا کر نکالا گیا۔ ہمارے ساتھ بھی انصاف نہیں ہوا۔ ہمارا اپنی قیادت پر اعتماد اور زیادہ بڑھ گیا ہے۔ ہمارے قائد نے کونسی کرپشن اور کس منصوبے میں کمیشن لی؟ خواجہ سعد رفیق کا اس موقع پر کہنا تھا کہ سازشیوں نے دھرنا ون اور ٹو دیا۔ عمران خان کی حیثیت ایک مہرے سے زیادہ کچھ نہیں، آج ہم کل یہ بات پوری قوم کہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ یہ پہلی مرتبہ نہیں بار بار ہوا ہے۔ منتخب ہو کر ایوانوں میں آتے ہیں اور رسوا ہو کر نکالے جاتے ہیں۔ یمن اور قطر کے معاملے پر قومی خود مختاری پر سمجھوتہ نہیں کرتے، اس کی سزا ملتی ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہم نظر جھکا کر نہیں بلکہ نظر اٹھا کر چلیں گے۔ کارکن پرامن رہیں، ہم عدالت کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کو سپریم کورٹ کی جانب سے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ کسی صورت قبول نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اس فیصلے پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری جانب سے ریویو پٹیشن کا امکان موجود ہے۔ بیرسٹر ظفر اللہ کا پریس کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا کہ نواز شریف کی نااہلی کا کوئی تو جواز ہوتا، انھیں لندن فلیٹس یا کک بیکس پر نااہل قرار دیتے تو سمجھ آتی۔ کل جب پانچ ججز کا فیصلہ سنانے کا اعلان ہوا تو ہمارے لیے حیران کن تھا تاہم ادب سے کہتے ہیں یہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔ رپورٹ میں کرپشن کا کوئی ایک الزام نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ میں کبھی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نہیں بنی تھی۔ واٹس ایپ سے بننے والی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) پر ہمارے تحفظات نہیں تھے لیکن ہماری بات نہیں سنی گئی۔ میں بہت اچھا وکیل ہوں لیکن جس طرح کی رپورٹ جے آئی ٹی نے بنائی وہ ایک سال میں بھی نہیں بنا سکتا۔ ہم نے فیصلہ صرف اس لیے قبول کیا کہ کوئی یہ نہ کہے کہ بھاگنا چاہتے ہیں۔ لیگی رہنماء زاہد حامد کا بھی کہنا تھا کہ جے آئی ٹی پر ہمارے تحفظات کو نہیں دیکھا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ میاں محمد نواز شریف نے نوٹیفکیشن سے قبل ہی وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا تھا۔ لیگی رہنماء احسن اقبال کا کہنا تھا کہ کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا، وہ بھی مرا ہوا۔ (ن) لیگ کے ووٹرز نے نواز شریف کو وزیر اعظم بننے کا مینڈیٹ دیا لیکن آج بھی ہم 1988ء میں ہی کھڑے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں آج تک کوئی وزیر اعظم اپنے پانچ سال پورے نہیں کر سکا۔ تیس سال میں ہم پاکستان کو آگے نہیں لے جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ کا کارکن ہونے کی حثیت سے قیادت پر میرا اعتماد دس گنا بڑھ گیا ہے۔

Related posts

Leave a Comment