ٹائپ رائٹر اور “کی بورڈ” کی دلچسپ تاریخ


magic-keyboard-large
کی بورڈ کی ترتیب جو کہ ھم ہر روز استعمال کرتے ہیں کی کہانی کافی قدیم ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کی بورڈ کی ترتیب خود کی بورڈ کی ابتداء سے بھی پرانی ہے اور کچھ کا خیال ہے کہ کی بورڈ ٹائپ رائٹر کے متغیرات میں سے ہے۔
تاہم، دلائل کے اعتبار سے کہانی کا آغاز 1875 سے کرتے ہیں، جب “کستوفر شولس” نے ایمس ڈنسمور کے اشتراک سے پہلے سے موجود کی بورڈ میں کچھ جدت طرازی کا اطلاق کیا تاکہ حروف کی ترتیب بہت زیارہ قریب نہ ہو اور پنچنگ بارز مخالف سمت میں آئیں۔
کی بورڈ کی مقبول ترتیب جو ہم معتدد مواقعوں میں استعمال کرتے ہیں کیورٹی کہلاتی ہے جو کہ پہلے پانچ حروف کو کی بورڈ کے اوپر والے بائیں کونے میں جوڑ کر بنائی گئی ہے۔
کی بورڈ کی ترتیب کے پیچھے جو کہ عجیب بات ہے کوئی سوچ یا نظریہ کارفرما نہیں ہے بلکہ ابتدائی ڈیولپرز کے واقعات اور ٹیسٹ شامل ہیں۔
ڈیولپرز ایک ایسے نظام کی تلاش میں تھے جو نہ صرف کارآمد ہو بلکہ ٹائپسٹ کے ہاتھوں کے لیے آرام دہ بھی ہو کیورٹی کو ابتدا میں متعارف کرانے کے بعد نظام نتیجہ کے طور پر اسی ترتیب سے جڑا رہا اور یہ ترتیب لوگوں کے ذہنوں میں رچ بس گئی۔
اگر ہم ٹائیپنگ کی تاریخ کے مزید اوراک پلٹے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ٹائپ رائٹر کی وہ اقسام جنہیں آج کے دور میں باسہولت نہیں سمجھا جاتا وہ 1714 کے دور کے تھے۔بعد کے سالوں میں، مشین کو کئی اختراح نے مزید سہولت اور آسانی کے لیے دوبارہ ایجاد کیا۔
تاہم، ایک بڑے تجارتی پیمانے پر ٹائپ رائٹر کو متعارف کرانے کا سہرا تاریخی طور پر شولس کے سر جاتا ہے جس نے اپنی پوری زندگی اس مشین کی ترتیب کو انسانی زندگی کا حصہ بنانے کی کوششوں میں صرف کر دی۔
typewriter

شولس کا سب سے پہلے ٹائپ رائٹر سے واسطہ اس وقت پڑا جب وہ ملواکی میں اخبار کے ایڈیٹر تھے اور وہاں انہوں نے ٹائپ سیٹنگ کی مشین بنانے کی کوشش کی تاہم وہ اس میں بری طرح ناکام ہو گئے اور بعد میں انہوں نے مکمل طور پر اس خیال کو ترک کر دیا۔ تاہم وہ ٹائپ رائٹر سے زیادہ دیر کے لئے دور نہیں رہ سکے۔
شولس نے 1866 میں کامیابی کے ساتھ ایک نمبرنگ مشین کو ڈیزائن اور پیٹنٹ کیا۔اس مشین سے کتابوں کے صفحات، ٹکٹوں اور دیگر اشیاء پر ہندسے (نمبر) لکھے جا سکتے تھے۔
اس کے فورا بعد شولس اور سول کو اپنی مشین ایک وکیل اور شوقین موجد، کارولس گلیڈن کو پیش کرنے کا موقع ملا اسے ابتدائی طور پر یہ مشین بہت پسند آئی لیکن اس کا خیال تھا کہ اس مشین کو مزید کارآمد بنایا جا سکتا ہے آگر اس میں صرف ہندسوں(نمبروں) کی بجائے الفاظ لکھے جا سکیں۔
شولس فورا ہی اس خیال سے متفق ہوا اور اس پر کام کرنا شروع کیا. اس نے تفصیل سے ممکنہ امکانات کا تجزیہ کیا تاکہ باضابطہ طور پر الفاظ لکھنے والی مشین کو دوبارہ تخلیق کیا جا سکے۔
شولس کو بالاخر 1867 میں بڑی کامیابی ہوءی جب ساءنٹیفک امریکن میں ایک مضمون ان کی نظروں سے گزرا جس میں مشین کے نمونے جس جون پرات نے ‘پترٹائپ’ کہا پر روشنی ڈالی گئ تھی۔
شولس نے اس نمونے کا تجزیہ کیا اور اس کا خیال تھا کہ وہ اس نمونے میں کچھ تبدیلیاں کر کے اپنی مشین کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
گلیڈن نے شولس اور سول کے ساتھ اس نئ کوشش میں شمولیت اختیار کی اور جلد ہی یہ تینوں مشین بنانے میں کامیاب ہو گءے جسے شولس نے ‘تائپ رائٹر’ کا نام دیا لیکن باقیوں نے اسے بنیادی دو سفید اور کالی کیز کی قطار کی وجہ سے ‘لٹرری پیانو’ کہنا شروع کر دیا۔
کی بورڈ میں صفر اور ایک کے ہندسے نہیں تھے اور یہ کام آئی اور او کے حروف سے چلایا جاتا تھا،اگلے پانچ سال خاص طور پر شولس کے لئے سخت ثابت ہوئے کیونکہ وہ اپنے دن رات کی بورڈ کی ترتیب کو کامل و بہترین بنانے کی کوششوں میں صرف کرتا تھا۔
شولس نے ایمنس ڈنسمور کے بگرم فریقونسی کے علم سے بھی استفادہ حاصل کیا. گزشتہ سالوں میں سارفین کے لیے ٹائپنگ کو مزید آرام دہ بنانے کے لیے کافی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
کیورٹی نظام کافی تبدیلیوں کے بعد تخلیق کیا گیا اور شولس کے مطابق اس میں کافی حد تک تبدیلیاں ہو چکی تھیں نئ ترتیب میں الفاظ پورے کی بورڈ میں پھیلے ہوئے تھے کہ تائپسٹ کو اپنی انگلیوں کو ہلانا پڑتا تھا جس سے سٹرین کے خطرے کو کم کیا جا سکتا تھا اور ٹائپنگ بار کولیشن کے خطرے کو بھی کم کیا جا سکتا تھا۔
جیسا کہ نیا کیورٹی نظام زیادہ سے زیادہ مقبول ہو گیا ہے اور لوگ اس کے عادی ہو گئے ہیں تو اسی لیے اس میں مزید ترامیم کرنا غیر موثر لگتا ہے۔

Related posts