ٹرمپ کی جیت مشکوک‘ مشی گن میں دوبارہ گنتی کا حکم

واشنگٹن(نیوزلائن) آٹھ نومبر کو ہونے والے امریکا کے صدارتی انتخابات پر شک کے سائے گہرے ہونے لگے۔ ایک وفاقی جج نے ریاست مشی گن میں صدارتی انتخابات کے موقع پر پڑنے والے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا ہے۔ گرین پارٹی سربراہ جل سٹائن نے مشی گن میں صدارتی انتخابات کے دوران ڈالے گئے ووٹوں کیخلاف درخواست دائر کی تھی۔ ڈسٹرکٹ جج مارک گولڈ سمتھ نے اتوار کے دن سماعت کی۔ جج کا کہنا تھا کہ صدارتی انتخابات کی شفافیت پر اٹھنے والے سوال کے باعث یہ ضروری ہو گیا ہے کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی جائے۔ انہوں نے مقامی الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی 13 دسمبر تک مکمل کر لی جائے۔ جل سٹائن نے مشی گن یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر، سائنس اور انتخابی مبصرین کی رائے پر عمل کرتے ہوئے مشی گن، وسکونسن اور پینسلوینیا میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست دی تھی۔ کمپیوٹر ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ووٹنگ کے لئے استعمال کی مشینوں اور کمپیوٹروں کو ہیک کیا گیا تھا۔ ڈیٹرائٹ سٹی کے الیکشن ڈائریکٹر ڈینئل بیکسٹر نے بھی مقامی میڈیا کو بتایا تھا کہ آنکھوں کو سیکن کرنے والی ستاسی مشینیں انتخاب والے دن خراب ہو گئی تھیں۔ دوسری جانب جل سٹائن نے کہا ہے کہ 75 ہزار مشتبہ ووٹوں کے باعث وفاقی جج نے یہ حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا اس عمل سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا، لیکن لوگوں کا نظام پر اعتماد بڑھ جائے گا کہ انتخاب آزاد اور شفاف تھے۔ ان تینوں ریاستوں میں نومنتخب صدر بہت تھوڑے ووٹوں کے فرق سے کامیاب ہوئے تھے۔ ریاست مشی گن میں انہوں نے ہلیری کلنٹن کو دس ہزار سات سو چار ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔

Related posts