ٹرمپ کے جیتتے ہی امریکی ریاستوں میں آزادی کیلئے جدوجہد کا آغاز

californiaتجزیہ کار ڈونلڈ ٹرمپ کے جیتنے کی صورت میں امریکہ کے توڑ پھوڑ سے دوچار ہونے کی پیش گوئیاں کر رہے تھے اور امریکی ریاست کیلیفورنیا سے ان پیش گوئیوں کے درست ثابت ہونے کا آغاز ہو گیا ہے، جہاں کے عوام نے ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد امریکہ سے علیحدگی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق کیلیفورنیا کے عوام نے روایتی طور پر ڈیموکریٹس کو ووٹ دیتے ہوئے اپنی ریاست سے ہلیری کلنٹن کو فتح سے ہمکنار کیا تاہم جب مجموعی نتائج سامنے آنے پر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ہو گئے تو ریاست میں شدید مایوسی چھا گئی اور ریاست کے شہریوں نے امریکہ سے علیحدگی کا مطالبہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر #CalExitکا ٹرینڈ شروع کر دیا جو وہاں سرفہرست جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کیلیفورنیا کی علیحدگی کے لیے باقاعدگی ایک گروپ بنا دیا گیا ہے جس کا نام”یس کیلیفورنیا انڈیپنڈنس کیمپین“ ہے۔ اس گروپ کا کہنا ہے کہ ”کیلیفورنیا دنیا کی 6ویں بڑی معاشی طاقت ہے۔ اس ریاست کی معاشی طاقت فرانس سے زیادہ اور آبادی پولینڈ سے بڑی ہے۔کیلیفورنیا کا موازنہ امریکہ کی دیگر ریاستوں کے ساتھ نہیں بلکہ دیگر ممالک کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔“گروپ کے لیڈر لوئس میرینیئلی کا کہنا ہے کہ ”ڈونلڈ ٹرمپ کے جیتنے کے بعد بہت زیادہ لوگ سوشل میڈیا پر کیلیفورنیا کی آزادی کی مہم میں شامل ہو رہے ہیں اور اسے تقویت مل رہی ہے۔“ واضح رہے کہ امریکی آئین میں بھی ریاستوں کے امریکی وفاق سے علیحدہ ہونے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ امریکی سپریم کورٹ بھی ایک مقدمے میں یہ اشارہ دے چکی ہے کہ کوئی بھی ریاست انقلاب یا ریاستوں کی رضامندی سے علیحدہ ہو سکتی ہے:۔

Related posts