ٹیسٹ کرکٹ میں آسٹریلیا کی 5 عبرتناک ناکامیاں

جنوبی افریقہ کے خلاف آسٹریلین ٹیم پہلی اننگز کی طرح دوسری اننگز میں بھی بری طرح ناکام رہی اور میچ میں اننگز اور 80 رنز سے شکست کے ساتھ ساتھ سیریز بھی گنوا دی۔لیکن یہ پہلا موقع نہیں کہ جب آسٹریلین ٹیم کی بیٹنگ کو اس طرح یکدم ڈھا دیا گیا ہو بلکہ حالیہ عرصے کے دوران کئی مواقع پر آسٹریلین بلے باز حریف باؤلرز کے آگے بے بس نظر آئے اور اچھا آغاز ملنے کے باوجود پوری بیٹنگ لائن محض چند اوورز میں ریت کی دیوار ثابت ہو گئی۔یہاں ہم ایسے ہی پانچ میچز کا تذکرہ کر رہے ہیں جب آسٹریلین بلے باز بری طرح ناکام رہے۔

نومبر 2011، کیپ ٹاؤن
اس ڈرامائی ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلرز کو آزمانے کا فیصلہ کیا تو آسٹریلیا نے مائیکل کلارک کی عمدہ بیٹنگ کی بدولت پہلے دن آٹھ وکٹ کے نقصان پر 214 رنز بنائے۔ لیکن اس ٹیسٹ میچ کی اصل خوبصورتی میچ کا دوسرا دن تھا جہاں مجموعی طور پر 23 وکٹیں گریں۔
مائیکل کلارک کے 155 رنز کی عمدہ باری کی بدولت آسٹریلیا نے پہلی اننگز میں 284 رنز بنائے۔ جنوبی افریقہ کی پہلی اننگز کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھی اور 24 رنز کا آغاز ملنے کے بعد پوری ٹیم 96 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔ اس تباہی کے ذمے دار شین واٹسن اور ریان ہیرس تھے جنہوں نے بالترتیب پانچ اور چار وکٹیں حاصل کیں۔
لیکن ابھی کھیل میں ڈرامے کا بڑا حصہ باقی تھا اور ورنون فلینڈر کی تباہ کن باؤلنگ کے سبب آسٹریلیا کی ٹیم صدی میں اپنے کم ترین اسکور 47 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ ایک موقع پر آسٹریلین ٹیم 21 رنز پر نو وکٹ گنوا کر ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے کم ترین اسکور پر آؤٹ ہونے کےخطرے سے دوچار تھی لیکن پیٹر سڈل اور نیتھن لایون نے آخری وکٹ کے لیے 26 رنز جوڑ کر اپنی ٹیم کو اس خفت سے بچایا۔
مشکل وکٹ پر جنوبی افریقہ کو 236 رنز کا ہدف ملا جو میچ کی صورتحال دیکھتے ہوئے آسان ہدف معلوم نہ ہوتا تھا لیکن کپتان گریم اسمتھ اور ہاشم آملا کی سنچریوں کی بدولت جنوبی افریقہ نے آٹھ وکٹ سے فتح اپنے نام کی۔ پہلا میچ کھیلنے والے ورنون فلینڈر کو آٹھ وکٹیں لینے پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
آسٹریلیا نے اس سے قبل اپنے تینوں بدترین اسکور 1888 سے 1902 کے درمیان 14 سال کے عرصے میں بنائے تھے اور 47 رنز پر ڈھیر آسٹریلین ٹیم کی اس کارکردگی پر سابق کینگرو لیگ اسپنر برائس میک کین نے ازراہ مذاق کہا تھا کہ ‘جی ہاں، یہ آسٹریا نہیں، آسٹریلیا ہے’۔ اس میچ میں کینگروز صرف 93 اوورز یعنی 558 گیندیں کھیل سکے تھے۔

اگست 2015، ٹرینٹ برج
انگلینڈ میں کھیلی جا رہی ایشز سیریز 2015 کے چوتھے ٹیسٹ میچ میں اسٹورٹ براڈ کی تباہ باؤلنگ کے سامنے بے بس پوری آسٹریلین ٹیم 18.3 اوورز میں 60 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی سب سے چھوٹی پہلی اننگز قرار پائی۔ آسٹریلیا کی جانب سے مائیکل کلارک اور مچل جانسن ڈبل فیگر میں داخل ہونے والے بلے باز تھے جبکہ سب سے زیادہ اسکور 14 رنز کے ساتھ ایکسٹراز کا رہا۔ اسٹورٹ براڈ نے کیریئر کی بہترین باؤلنگ کرتے ہوئے 15 رنز کے عوض آٹھ وکٹیں لیں۔ اس میچ میں اننگز اور 78 رنز سے شکست کے بعد آسٹریلین کپتان مائیکل کلارک نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کمان اسٹیون اسمتھ کو سونپ دی تھی۔

اگست 2016، گال
سری لنکا کے خلاف آسٹریلیا کی کارکردگی ہر خاص و عام کے لیے حیران کن تھی جہاں میزبان ٹیم کے پہلی اننگز کے اسکور 281 رنز کے جواب میں آسٹریلیا نے ایک وکٹ کے نقصان پر 54 رنز بنا لیے تھے لیکن پھر رنگنا ہیراتھ اور دلوروان پریرا کی کرشماتی باؤلنگ کے سامنے پوری آسٹریلین ٹیم 52 رنز کے اضافے سے نو وکٹیں گنوا کر 106 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
اس بدترین کارکردگی کے سبب اس وقت کی عالمی نمبر ایک ٹیسٹ ٹیم میچ میں واپسی نہ کر سکی اور 229 رنز سے شکست کھا کر سیریز بھی گنوا بیٹھی جبکہ تیسرے ٹیسٹ میں شکست کے بعد انہیں سری لنکا جیسی ٹیم کے ہاتھوں 3-0 سے وائٹ واش کی خفت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ عالمی نمبر ایک کے منصب سے محروم ہو گئے۔ اس میچ میں بھی آسٹریلین ٹیم مجموعی طور پر صرف 501 گیندیں کھیل سکی تھی۔

نومبر 2016، پرتھ
اس ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ نے پہلی اننگز میں 242 رنز کا مجموعہ اسکور بورڈ کی زینت بنایا جس کے جواب میں آسٹریلیا نے بغیر کسی نقصان کے 158 رنز بنا کر اپنی پوزیشن مستحکم کر لی تھی۔ لیکن جیسے ہی ڈیوڈ وارنر 86 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو ٹیم کی دس وکٹیں 86 رنز کے اضافے سے گر گئیں اور وہ مضبوط پوزیشن میں ہونے کے باوجود صرف دو رنز کی برتری لے سکے۔
مہمان جنوبی افریقہ نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور دوسری اننگز میں 540 رنز بنا کر 177 رنز سے فتح حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سیریز میں بھی 1-0 سے برتری حاصل کی۔

نومبر 2016، ہوبارٹ
بارش سے متاثرہ اس ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں آسٹریلین ٹیم بری طرح ناکامی سے دوچار ہو کر محض 85 رنز پر ڈھیر ہوئی، دوسرے اینڈ پر موجود کپتان اسٹیون اسمتھ بے بسی کے عالم میں کھلاڑیوں کی پویلین واپسی کا منظر دیکھتے رہے جس کے ذمے دار ورنن فلینڈ تھے جنہوں نے 21 رنز کے عوض پانچ وکٹیں لیں۔کوئنٹن ڈی کوک کی سنچری اور باووما کی نصف سنچری کی بدولت مہمان ٹیم نے پہلی اننگز میں 241 رنز کی برتری حاصل کی۔
آسٹریلین ٹیم نے اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق نہ سیکھا اور دوسری اننگز میں بھی پوری ٹیم 161 رنز پر آؤٹ ہو کر میچ میں اننگز اور 80 رنز سے شکست کھا کر سیریز بھی گنوا بیٹھی۔ بارش سے ایک دن کا کھیل ضائع ہونے کے سبب محض دو دن اور ایک سیشن پر محیط اس ٹیسٹ میچ کی دوسری اننگز میں آسٹریلیا نے 40 رنز کے اضافے سے آخری آٹھ وکٹیں گنوائیں اور مجموعی طور پر صرف 93 اوورز بیٹنگ کر سکی :-

Related posts