ٹیوٹا کالجز میں محکمہ تعلیم کے اساتذہ‘ عملے کی غیرقانونی تعیناتی


فیصل آباد(عاطف چوہدری)سپریم کورٹ کے حکم اور پنجاب حکومت کے نوٹیفکیشن کے برخلاف ٹیوٹا کے زیرکنٹرول کالجوں میں محکمہ تعلیم کے اساتذہ اور عملے کی تعیناتی کا انکشاف ہوا ہے۔ غیرقانونی تعیناتیاں کئی سالوں سے کی گئی ہیں اور انہیں واپس اپنے اصل محکموں میں بھجوانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے۔نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد سمیت پنجاب بھر میں ٹیوٹا کے کالجوں ‘ انسٹی ٹیوٹس میں ایسے اساتذہ اور عملے کی تعیناتیاں کی گئی ہیں جو ٹیوٹا کے ملازمین نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضح حکم دے رکھا ہے کہ تمام سرکاری محکموں کے ملازمین کو ان کے اصل محکموں میں بھجوایا جائے مگر اس کے باوجود ٹیوٹا سنٹرز میں غیرقانونی تعینات اساتذہ اور عملے کو واپس ان کے محکموں میں بھجوانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے۔ٹیوٹا کے ملازمین کا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم کے ملازمین کی ٹیوٹا سنٹرز میں تعیناتی غیرقانونی بھی ہے اور ان کے ساتھ زیادتی بھی ہے۔ محکمہ تعلیم کے اساتذہ کوالیفکیشن میں کم ہونے کے باوجود ڈیپوٹیشن اور دیگر تعیناتیوں کی وجہ سے پروموشن لے جاتے ہیں جبکہ انہیں محرومی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔محکمہ تعلیم کے ملازمین کی ٹیوٹا سنٹرز میں تعیناتیاں روکی جائیں۔ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے انہیں واپس ان کے اصل محکموں میں بھجوایا جائے۔

Related posts