ٹیکس چور ٹیکسٹائیل سیکٹر کے گردگھیرا تنگ‘دو سوتھوک فروشوں کی لسٹ تیار

فیصل آباد(ندیم جاوید)ٹیکس چور ی میں ملوث دو سوکپڑا ڈیلرز کی لسٹیں تیار کر لی گئیں ہیں جن کے حوالے سے رپورٹس ہیں کہ وہ سالانہ350ارب روپے سے زائد کا کپڑا فروخت کرتے ہیں اور ایک پائی کا ٹیکس نہیں دیتے۔ لسٹوں میں دھاگے کا کام کرنیوالی سوتر منڈی اور کپڑے کی تھوک میں فروخت کرنیوالی مارکیٹوں کے بڑے بڑے نام شامل ہیں اور آئندہ چند روز میں ان کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد میں بڑے پیمانے پر ٹیکسٹائل سیکٹر کے ٹیکس چوری میں ملوث ہونے کی رپورٹس سامنے آ رہی تھیں ۔ایف بی آر نے اس حوالے سے انکوائری کی تو سامنے آیا کہ فیصل آباد میں سالانہ 350ارب روپے سے زائد کا دھاگہ اور کپڑا ٹیکس نیٹ میں لائے بغیر فروخت کر دیا جاتا ہے اور اس نیٹ ورک میں شامل شہر کے دو سو بڑے تاجر ایک پائی کا بھی ٹیکس نہیں دیتے۔ اربوں روپے کا روزانہ کاروبار کرنیوالی سوتر منڈی ‘ محمدی مارکیٹ‘ مکی مارکیٹ‘ ٹاٹا بازار‘ کلاتھ بورڈ وغیرہ کے دو سو بڑے تھوک فروش مکمل طور پر ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ یہ سیلز ٹیکس ادا کرتے ہیں اور نہ ہی انکم ٹیکس کے نام پر ایک پائی جمع کرواتے ہیں۔ایف بی آر نے بنکوں کے ریکارڈ اور دیگر معلومات کی بنیاد پر انکوائری کر کے دو سے بڑے ٹیکس چور تاجروں کی لسٹ تیار کر لی ہے چند روز میں ان کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فیصل آباد کے چند بڑے نام والے تاجر آئندہ چند روز میں ایف بی آر کی پکڑ میں آجائیں گے اور ان سے چوری کی گئے ٹیکس اگلوانے کیلئے ہر طرح کے اقدامات کرنے کا امکان ہے

Related posts