پامانہ لیکس: شریف فیملی کے جھوٹ پکڑے گئے

اسلام آباد(نیوزلائن)تحریک انصاف کے رہنماجہانگیر ترین نے کہا ہے کہ شریف خاندان نے دبئی کی مل بیچ کر سرمایہ اکٹھا کرنے سمیت جو 3 کہانیاں بنائی تھیں، آج ان سب کا بھانڈہ پھوڑ دیاہے اور دبئی کی سٹیل مل بیچ کر سرمایہ جدہ یا لندن بھیجنے کی بات کو عدالت میں غلط ثابت کر دیا ہے، عدالت کو شریف خاندان کی جانب سے پیش کی گئی دستاویزات سے ہی ثابت کر دیا ہے کہ دبئی سٹیل مل جب بیچی گئی تو وہ خسارے میں تھی، ابھی قطری شہزادے کے خط پر اس سے جرح کیلئے کوئی درخواست نہیں دی اور ابھی صرف 2 پوائنٹس پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ آج پانامہ لیکس کیس کی سماعت کے دوران نعیم بخاری نے عدالت کے سامنے بحث کرتے ہوئے جو باتیں کی ہیں ان میں سے چند نمایاں چیزیں یہ ہیں کہ وزیراعظم نے جو اسمبلی میں تقریر کی اس میں انہوں نے غلط بیانی کی، قوم سے خطاب میں بھی غلط بیانی کی اور جو دبئی سٹیل مل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 12 ملین درہم وہاں سے ملے ، جو ان کے تمام کیس کی بنیاد ہے، اس بارے میں بھی غلط بیان کی گئی۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہم نے آج سب باتوں کا صفایا کر دیا ہے اور انہیں کے دئیے ہوئے اعداد و شمار اور دستاویزات سے ہم نے عدالت کے سامنے تجزیہ پیش کیا ہے کہ دبئی کی مل جب بیچی گئی تو وہ خسارے میں تھی اور یہ ایک بینک کرپٹ پراجیکٹ تھا جس سے ایک پیسہ بھی نہیں کمایا گیا۔ ان کی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ جب مل بیچی گئی تو سعودی عرب کی طرف سے اس میں شامل کئے گئے21 ملین درہم کے علاوہ 14 ملین درہم یعنی ایک کروڑ چالیس لاکھ درہم بھی اس کے ذمہ واجب الادا تھے۔ یہ مل 1980میں 12 ملین کی بیچی گئی یعنی جب اسے فروخت کیا گیا تو اس کا کم از کم نیٹ خسارہ 2 ملین درہم تھا اور اگر ایک اور طرح سے حساب کیا جائے تو یہ خسارہ 9 ملین درہم بنتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اب سوال یہ ہے کہ قطر سے متعلق ان کی ساری کہانی، جو اپنی جگہ غلط ہی ہے، مگر اسے خود انہوں نے ہی بنیاد بنائی تھا، وہ آج ختم ہو گئی ہے اور ہم نے یہ دکھا دیا ہے کہ یہ مل خسارے میں تھے۔ اگر یہ کہتے ہیں کہ 12 ملین درہم دبئی سے گئے تو اس کا کوئی کاغذی ثبوت نہیں ہے ، اس طرح آج اس ساری کہانی کا بھانڈا پھوڑ دیا گیا ہے ۔جہانگیر ترین نے کہا کہ وزیراعظم نے قوم سے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ 2005میں جدہ کی فیکٹری بیچی تو وہ سرمایہ حسن اور حسین کو کاروبار کرنے کیلئے دیا یعنی یہ سارا معاملہ 2005کے بعد ہوا جبکہ ہم نے دستاویزات پیش کی ہیں کہ حسن نواز 2001 سے لندن میں کروڑوں پانڈز کا بزنس کر رہے ہیں اور 2005 سے پہلے لندن میں جو پراپرٹی خریدی وہ پیسے کہاں سے آئے ؟ان کا کہنا تھا کہ 12-A ایون فیلڈ ہاس مے فیئر کے پانچویں فلیٹ کی دستاویزات بھی ہیں جن میں اس کی قیمت 3 لاکھ 65 ہزار پانڈ ہے اور یہ 2004میں خریدا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ حسن نواز جو 1999میں طالب علم تھے اور کہتے تھے کہ لندن میں رہائش کا خرچ گھر والے دیتے ہیں، 2001میں اتنے بڑے بزنس مین کیسے بن گئے اور انہوں نے کروڑوں پانڈ کی جائیداد 2005سے پہلے جو لی وہ پیسے کہاں سے آئے؟ایک سوال کے جواب میں جہانگیر ترین نے کہا کہ ابھی قطری شہزادے کے خط پر اس سے جرح کیلئے کوئی درخواست نہیں دی اور ابھی صرف 2 پوائنٹس پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے

Related posts