پانامہ کیس ‘ فیصلے کے بعد کی حکمت عملی پر ن لیگ میں شدید اختلافات


اسلام آباد(نیوزلائن)پانامہ کیس کے متوقع فیصلے کے بعد کی صورتحال کے حوالے سے ن لیگ میں شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ سپریم کورٹ سے متوقع فیصلے کی دونوں صورتوں میں پارٹی کی پالیسی کے حوالے سے شدید اختلافات سامنے آرہے ہیں۔نیوزلائن کے مطابق پانامہ کیس میں میاں نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ آنے پر پارٹی کا ایک اہم دھڑا فوری الیکشن میں جانے اور خود کو مظلوم ظاہر کرکے عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کے حق میں ہے جبکہ دوسرا دھڑا جس میں پارٹی کے انتہائی اہم رہنما شامل ہیں مسند اقتدار نہ چھوڑنے کے حق میں ہے۔ یہ دھڑا میاں نواز شریف کی جگہ کسی دوسرے رہنما کو وزارت عظمیٰ دینے اور ن لیگ کا اقتدار جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔میاں نواز شریف کی جگہ وزارت عظمیٰ کیلئے شخصیت کی نمائندگی پر بھی ن لیگ میں اختلافات ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کا حمائتی دھڑا عارضی مدت کیلئے وزیر اعظم بنانے کیلئے ایم این اے حمزہ شہباز کا نام پیش کر رہا ہے۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے نام پر شریف فیملی کے اندر ہی بہت اختلافات ہیں حتیٰ کہ مریم نواز اور میاں شہباز شریف ہی ان کے نام پر رضامند نہیں ہیں۔چوہدری نثار کانام بھی اس حوالے سے سامنے آچکا ہے مگر اس پر اتفاق رائے کی بجائے اختلاف رائے زیادہ ہے اور مشاورتی رہنماؤں میں سے ایک رہنما کے علاوہ کوئی اس نام پر متفق نہیں ۔ نیوزلائن کے مطابق سپریم کورٹ سے میاں نواز شریف کے حق میں فیصلہ آنے کے بعد کی صورتحال پر بھی اختلاف رائے عروج پر ہے۔ حق میں فیصلہ آنے پر بھی ایک اہم دھڑا فوری الیکشن کروانے کا حامی ہے اور حق میں فیصلہ آنے کی صورت میں عوام میں اپنے حق میں پائی جانے والے جوش کو کیش کروانے کی رائے دے رہا ہے تاہم حتمی فیصلہ میاں نواز شریف پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

Related posts