پانچ ہزار والا نوٹ مارکیٹ سے غائب‘ کساد بازاری کا خدشہ

5000اسلام آباد(رپورٹ رانا حامد)پانچ ہزار روپے والے نوٹ مارکیٹ سے بڑی تیزی سے غائب ہو رہے ہیں۔ بہت کم تعداد میں یہ نوٹ مارکیٹ میں زیرگردش ہیں جبکہ مرکزی بنک اور کمرشل بنکوں کے پاس بھی اس نوٹ کی بہت کم تعداد پائی جا رہی ہے۔ نیوز لائن کے مطابق اس کی بڑی وجہ پراپرٹی بزنس میں مندا بتایا جا رہا ہے۔سرمایہ دار ٹولے نے پراپرٹی بزنس میں مندے کے رجحان کے دیکھتے ہوئے اپنا پیسہ پراپرٹی بزنس سے نکالنا شروع کر دیا ہے اور بنکوں کی بجائے نجی لاکروں میں سٹاک کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہزار اور پانچ سو والے نوٹوں کی صورت میں پیسہ سٹاک کرنا کسی قدر مشکل ہے جبکہ پانچ ہزار روپے والے نوٹ کی شکل میں بہت بڑی تعداد میں سرمایہ سٹاک کر لیا گیا ہے اور مزید بھی کیا جا رہا ہے۔نیوز لائن کے مطابق سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بھی اسی تناظر میں پانچ ہزار روپے والے کرنسی نوٹ بند کرنے کی سفارش کی تھی جبکہ اقتصادی ماہرین بھی پیسے کو سرکل سے نکال کر سٹاک کرنے کی سرمایہ دار کی منفی سوچ کی روک تھام کیلئے ہی پانچ ہزار روپے والے کرنسی نوٹ‘ ساڑھے سات ہزار‘ پندرہ ہزار اور چالیس ہزار روپے والے بانڈز کی بندش کی تجویز دے رہے ہیں۔

Related posts