پاکستان کی پہلی منتخب حکومت کا تختہ الٹے39 برس بیت گئے

کراچی(نیوزلائن)پاکستان کی پہلی منتخب حکومت کا تختہ الٹے آج 39 برس بیت گئے۔ 5 جولائی 1977 کو جنرل ضیاء الحق نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو بر طرف کر کے ملک میں تیسرا مارشل لاء نافذ کیا تھا۔ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے خلاف پیپلز پارٹی آج یوم سیاہ منای۔سنہ 1977 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے بعد جنرل ضیاء الحق نے 5 جولائی کو ملک میں مارشل لاء نافذ کیا اور پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو جیل میں قید کردیا اور بعد ازاں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔آئین کی معطلی اور ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے ملک کی سیاسی بنیادیں ہل گئیں اور 11 سال تک عوام پہ طویل آمرانہ قیادت مسلط کردی گئی جس کے دور حکومت میں جمہوریت پسندوں پر جیلوں میں کوڑے برسائے گے۔جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء نافذ کرتے ہوئے ملک میں 90 روز میں انتخابات کے انعقاد کا وعدہ کیا تھامگر فوجی آمر نے نہ اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے 90روز میں الیکشن کروائے بلکہ ملک کا سیاسی منظر نامہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ ملک میں کرپشن کی سیاست ‘کلاشنکوف کلچر‘ کرپشن کلچر کو فروغ دیا جبکہ وزیر اعظم بھٹو کی اہلیہ نصرت بھٹو اور نوجوان بیٹی پنکی( بے نظیربھٹو)کو ہر ممکن ظلم کا نشانہ بنایا۔بھٹو کو پھانسی کے پھندے پر چڑھا کر عدالتی قتل کی نظیر قائم کر دی۔پاکستان کی عدالتی تاریخ میں یہ پھانسی کی سزا ایک سیاہ باب کے طور پررقم ہے اور یہ پاکستان کا واحد عدالتی فیصلہ ہے جسے کسی عدالت میں نظیر کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

Related posts

Leave a Comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.