پنجاب فوڈ اتھارٹی گلی محلوں میں غریبوں کیخلاف کارروائیوں تک محدود



فیصل آباد(ندیم جاوید)پنجاب فوڈ اتھارٹی نے زہریلی اشیاء بنانے والوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور میاں شہباز شریف کے ویژن کے بالکل الٹ کام کرتے ہوئے ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے صوبہ بھر میں اتھارٹی کی کارروائیاں گلی محلوں میں غریب دکانداروں‘ چھوٹے ریسٹورنٹس‘ ریڑھی چھابڑی والوں اور سکولوں کی کینٹینوں تک محدود کر دیا ہے جبکہ زہریلی اشیاء بنانے والوں بارے تمام معلومات اور ثبوت موجود ہونے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی جارہی۔ نیوزلائن کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی کے قیام پر وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اعلان کیا تھا کہ یہ ادارہ گلی محلوں میں غریبوں کو تنگ نہیں کرے گا بلکہ مضر صحت اشیاء بنانے والے بااثر مگرمچھوں کیخلاف کارروائیاں کرے گا۔ وزیر خوراک بلال یٰسین بھی دعویدار تھے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی مضر صحت خوردنی اشیاء بنانے والے مینوفیکچررز کیخلاف ایکشن یقینی بنائے گا۔کچھ عرصہ تک ہوتا بھی ایسا ہی رہا اور کارروائیاں بڑے مگر مچھوں کیخلاف ہی ہوئیں مگر نورالامین مینگل کے ڈی جی تعینات ہونے کے بعد پنجاب فوڈ اتھارٹی نے بااثر افراد کو ریلیف دینے اور غریبوں کو تنگ کرنے کی پالیسی اپنا لی ہے۔پنجاب فوڈ اتھارٹی نے گزشتہ ایک سال کے دوران کسی بڑے مینوفیکچر کیخلاف کارروائی نہیں کی۔گھی‘ دودھ‘ ٹی وائٹنر‘ کولڈ ڈرنک‘ منرل واٹر کو مضر صحت قرار دیا گیا مگر کسی ایک گھی کمپنی کیخؒاف ایکشن نہیں ہو سکا الٹا گھی استعمال کرنے والوں کیخلاف مضر صحت گھی استعمال کرنے کے نام پر ایکشن ہوا۔مضر صحت گھی استعمال کرنا جرم تھا تو وہی گھی بنانے والے کیوں اب تک قانون کی زد میں نہیں آئے۔ کولڈ ڈرنک انسانی صحت کیلئے زہرقاتل قراردیدی گئی اس کا استعمال روکنے کیلئے مختلف آپشن زیر غور اور کارروائیاں جاری ہیں مگر وہ کولڈ ڈرنک بنانے والے کیوں اب تک فرشتے بنا رکھے ہیں۔ پیپسی‘ کوکا کولا‘ آر سی کولا‘ گورمے کولا کیخلاف کیوں ایکشن نہیں لیا جا رہا۔منرل واٹر غیرمعیاری قرار پا چکا ہے اس کا استعمال کرنے والوں کو انتباہ اور بیچنے والے کارروائی کی زد میں ہیں مگر بنانے والے ”معززین“ قرار دئیے جا رہے ہیں۔ ایسی بھی اطلاعات سامنے آئیں کہ ڈی جی نے ”ڈیل“ کرکے مینوفیکچررز کیخلاف کارروائیاں رکوائی ہوئی ہیں۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں دنیا کے سامنے ہیں۔ فوڈ اتھارٹی چھوٹے چھوٹے ریسٹورنٹس کیخلاف کارروائی کرتی ہے۔ گلی محلوں میں دکانداروں کو جرمانے کرتی ہے۔ مگر جہاں کسی بااثر شخص کا ریسٹورنٹ آجائے یا کوئی بڑی فوڈ چین آجائے فوڈ اتھارٹی والے ”کنی کترا کر“نکل جاتے ہیں اور زبانی اعلانات و اشتہارات کا سہارا ڈھونڈنے لگتے ہیں۔اس صورتحال پر عوامی سطح پر بے چینی پائی جا رہی ہے اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کی گلی محلوں اور غریبوں تک محدود کارروائیوں اور ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل کی غریب دشمن پالیسی کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔

Related posts