پنجاب: محکمہ جنگلات کی دو لاکھ ایکڑ اراضی پر بااثر افراد کے قبضے

فصل آباد(ندیم جاوید)فیصل آباد اور بھکر سمیت پنجاب بھر میں محکمہ جنگلات کی دو لاکھ ایکڑ اراضی پر بااثر افراد نے قبضہ کر لیا۔ محکمہ جنگلات کے افسران قبضہ مافیا کے محافظ بن گئے۔ جنگلات کے رقبے پر قبضہ کرنے اور سالانہ اربوں روپے کی آمدن حاصل کرنے والوں میں بڑے بڑے سیاستدان‘ ارکان اسمبلی اور اعلیٰ سرکاری افسران شامل ہیں۔ قیمتی سرکاری اراضی کا قبضہ واگزار کروانے کی تمام کوششیں محکمہ جنگلات اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں چھپی بیٹھی کالی بھیڑوں کی وجہ سے ناکام ہو گئیں۔نیوز لائن کے مطابق پنجاب میں محکمہ جنگلات کی اراضی پر بااثر افراد قبضے جما کر جاگیردار بنے بیٹھے ہیں محکمہ جنگلات کی اراضی پر قبضہ جمانے والوں میں ارکان اسمبلی‘ اہم سیاسی شخصیات اور بیورو کریسی کی اہم شخصیات شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق محکمہ جنگلات کی سب سے زیادہ اراضی بھکر ڈویژن میں بااثر افراد کے قبضے میں ہے۔ بھکر میں ایک لاکھ ایکڑ اراضی پر بااثر افراد قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔اراضی پر قبضہ مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی غضنفر عباس چھینہ‘ علاقے کی بااثر سیاسی شخصیات نوانی فیملی نے جم رکھا ہے اور زرخیز اراضی پر کاشت کرکے سالانہ اربوں روپے کی فصل حاصل کرتے ہیں۔ڈائریکٹر جنگلات‘ ڈی سی او‘ڈسٹرکٹ کلکٹر اور بیورو کریسی کے دیگر اہم کل پرزے بااثرقبضہ مافیا کے سرپرست اور مددگار بنے ہوئے ہیں۔ نوانی فیملی اور چھینہ کے درمیان جنگلات کی اراضی پر قبضہ جمانے اور ایک دوسرے سے زیر قبضہ اراضی زبردستی چھیننے اور اپنے قبضے میں رکھنے کیلئے باقاعدہ جنگ ہوتی رہتی ہے۔بھکر ڈویژن کے جنگلات کی اراضی لیہ‘ مظفر گڑھ‘ جھنگ ڈی جی خان تک پھیلی ہوئی ہے اور اکثر علاقوں میں زرخیز اراضی بااثر افراد کے قبضے میں ہے۔ذرائع کے مطابق بھکر کے بعد راجن پور میں جنگلات کی اراضی کا بہت بڑا حصہ بااثر افراد کے قبضے میں ہے۔اس کے علاوہ فیصل آباد‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ چیچہ وطنی‘ قصور‘ بہاولپور‘ ساہیوال‘ سرگودھا‘ ملتان‘میں بھی جنگلات کی اراضی پر بااثر افراد قبضے جمائے ہوئے ہیں۔محکمہ جنگلات کے حکام کے مطابق پنجاب بھر میں جنگلات کی دو لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی پر بااثر افراد قبضہ جمائے ہوئے ہیں۔ محکمہ جنگلات کے اپنے ہی اعلیٰ افسران قبضہ مافیا کی سرپرستی کرتے اور قبضہ مافیاز سے بھاری نذرانے لیتے ہیں اور قبضہ واگزار کرانے کی عملی طور پر کوشش ہی نہیں کی جاتیں۔

Related posts