پنجاب: نومنتخب وائس چیئرمین اختیارات کیلئے عدالت جانے کو تیار


high-court
پنجاب کے بلدیاتی نظام بارے ندیم جاوید کی رپورٹ : پنجاب حکومت کے مبہم اور غیر کارآمد بلدییاتی نظام کے خلاف نومنتخب بلدیاتی نمائدوں نے ایک مرتبہ پھر عدالتی چارہ جوئی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مرتبہ کوئی سیاسی جماعت نہیں پنجاب کے کئی شہروں کے یونین کونسلوں کے نومنتخب وائس چیئرمین عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی تیاری کر رہے۔ وائس چیئرمینوں کو حق‘ اختیارات اور خاص طور پر ضلع کونسل و میئر شپ کے الیکشن میں ووٹ استعمال کرنے کا حق دلانے کیلئے ہائیکورٹ میں رٹ کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔اطلاعات ہیں کہ پنجاب کے دوسرے بڑے شہر کے شہری حلقوں کے ایک سو سے زائد نومنتخب وائس چئیرمینوں کا ایک اجلاس ہوا جس میں طے کیا گیا کہ ہائیکورٹ میں رٹ کی جائے جس میں نئے بلدیاتی نظام کے بنیادی خدوخال کو چیلنج کیا جائے۔نئے بلدیاتی نظام میں وائس چیئرمین کو عضو معطل کی ہی حیثیت دی گئی ہے اور تمام تر اختیارات چیئرمین کو دے دئیے گئے ہیں۔یونین کونسلوں کے علاوہ کارپوریشن‘ ضلع کونسل‘ میونسپل کمیٹیوں کے وائس چیئرمینوں کا حال بھی ویسا ہی ہونے جا رہا ہے جیسا یونین کونسل میں ہے۔اس حوالے سے وائس چیئرمینوں کے متعدد اجلاس ہو چکے ہیں اور انہوں نے ہائیکورٹ میں رٹ کیلئے ڈرافٹ بھی فائنل کر لیاہے۔ ذرائع کے مطابق ایسے ہی اجلاس لاہور‘ گوجرانوالہ‘ سرگودھا‘ ملتان‘ بہاولپور اور بعض دوسرے شہروں میں بھی ہوئے ہیں جس میں وائس چیئرمینوں نے پنجاب کے نئے بلدیاتی نظام کو اس حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا اور وائس چیئرمین اپنے لئے اختیارات حاصل کرنے کیلئے عدالت جانے پر آمادہ ہیں۔ایسے میں پنجاب سے اس حوالے سے کئی ایک رٹ پٹیشن ہائیکورٹ میں ہانے کا امکان ہے جن میں وائس چیئرمین اپنے لئے اختیارات کی استدعا کرنے کے ساتھ الیکشن کے آخری مرحلے کو رکوانے کیلئے حکم امتناعی حاصل کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

Related posts