پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کیساتھ آج بھی غلاموں جیسا سلوک


فیصل آباد(احمد یٰسین)پنجاب حکومت تھانوں ‘ کچہریوں‘ جیلوں کا ماحول تبدیل کرنے کے دعوے اور نعرے تو بہت لگاتی ہے مگر عملی طور پر ایسا کچھ بھی کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائی۔ جیلوں کا ماحول آج بھی ایسا ہی ہے کہ قیدیوں کیساتھ غلاموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ آج بھی ’’وڈے جیلر‘‘ کے آنے پر شہنشاہ معظم کی آمد کا بگل بجتا ہے اور ’’با ادب با ملاحظہ ہوشیار۔۔ عالی پناہ تشریف لاتے ہیں‘‘کی عملی تفسیت پیش کی جاتی ہے۔ نیوزلائن کے مطابق فیصل آباد سمیت پنجاب بھر کی جیلوں میں آج بھی قیدیوں کیساتھ غلاموں جیسا سلوک روا رکھا جا تا ہے۔ جیل مینوئل نام کی کوئی چیز ہے اور نہ قیدیوں کو کسی قسم کے کوئی حقوق حاصل ہیں۔ جیلوں میں پہنچ جانے والے حوالاتی ہوں یا سزا یافتہ قیدی ‘ انہیں ہر قسم کے انسانی حقوق سے محروم کردیا جاتا ہے۔ جیل پہنچ جانے والے شہریوں کو جیل کے اندر پہنچتے ہی سر کے بال بے ڈھنگے انداز میں مونڈھ کر اس کا استقبال کیا جاتا ہے۔ جیل میں قیدی کو طرح طرح سے جسمانی و ذہنی اذیت سے دوچار کیا جا تا ہے اور اس سے انسان کہلوانے کا حق بھی چھین لیا جاتا ہے۔ جیل پہنچ جانے والا صرف ایک غلام رہ جاتا ہے جس کیساتھ کسی بھی قسم کا سلوک روا رکھنے کا اختیار جیل افسران کو حاصل ہوتا ہے۔ جیلر کی آمد کا آج بھی شہنشاہوں کی طرح اعلان ہو تا ہے ‘ قیدیوں کو اس کا استقبال کرنا ہوتا ہے اور کرنا بھی ایسے ہوتا ہے کہ گردن جھکائے ‘آنکھیں بچھائے‘ سر نیہوڑے‘ہاتھ باندھے‘ گھٹنے زمین سے لگائے‘ نگاہیں نیچی ‘ سانسیں بھی ہونٹوں کے اندر بند‘ آواز تو بہت دور کی بات کسی کو اونچی سانس لینے کی بھی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ’’شہنشاہ معظم‘‘ کی شان میں گستاخی کرنے کی کسی جرأت کرنے کی اجازت کسی بھی قیدی کو نہیں دی جا سکتی۔ قیدیوں کیساتھ جیل عملے کا روئیے بھی غلاموں سے کم نہیں ہوتا ۔ جیلوں میں قیدیوں کا کھانا انتہائی ناقص‘ تشدد عام‘ علاج معالجے کی سہولیات ندارد‘ ڈاکٹر ناپید‘ قیدی ہر بنیادی حق سے محروم‘ قیدیوں کیساتھ ناروا روئیے‘ عملہ حاکم‘ جیلر شہنشاہ‘ قیدی غلام۔ پنجاب کی جیلوں میں اس سے ہٹ کر کوئی قانون‘ کوئی ضابطہ نہیں ہے۔

Related posts