پھر یہ پھرتیاں کس لیے ؟

مجھے واقعی پلے نہیں پڑ رہا کہ اہلِ سیاست کا مائنڈ سیٹ اس وقت کیا ہے۔وہ چوبیس گھنٹے ایسے کیوں پھرتیاں دکھا رہے ہیں جیسے الیکشن کی ٹرین چھوٹی جا رہی ہو۔اس ملک میں بھلا کون سی آزادی میسر نہیں۔بلکہ بعض آزادیاں تو ایسی خود رو ہیں کہ کوئی بھی حکومت ، فوجی ہو کہ غیر فوجی ، جمہوری ہو یا آمرانہ۔نہ چھین سکتی ہے نہ عطا کر سکتی ہے۔یہ وہ آزادیاں ہیں جو ہم نے اپنے زورِ بازو سے کمائی ہیں۔باقی دنیا کے لیے جو چھوٹ خواب ہے ہمارے ہاں روزمرہ کی حقیقت ہے۔شائد اسی لیے ہم انھیں فار گرانٹڈ لیتے ہیں اور اگر ایسے ہی لیتے رہے تو ایک دن ضرور ہم یہ سب آزادیاں گنوا بیٹھیں گے۔
مثلاً دنیا کے کتنے معاشروں کو ہماری طرح یہ عیاشی میسر ہے کہ چاہیں تو ٹیکس دیں چاہیں نہ دیں۔اپنے نورچشم کو کسی خیراتی اسکول میں داخل کرائیں کہ کانونٹ میں یا پھر کہیں داخل نہ کرائیں۔بینک سے قرضہ لیں یا نہ لیں۔واپس کریں نہ کریں۔چاہیں تو بجلی کا بل میٹر کے حساب سے ادا کریں ، نہ چاہیں تو سامنے کے کھمبے میں کنڈا لگا کے براہ راست بجلی کھینچ لیں جیسے جان کھینچی جاتی ہے۔ چاہیں تو رشوت لیں نہ دل چاہے تو نہ لیں۔آپ کی مرضی کہ زید کو ووٹ دیں یا بکر کو یا پھر کسی کو نہ دیں۔
گوشت ، سبزی ، دال اور ضروریاتِ زندگی کی سب اشیا بھلے کسی دام خرید کر کسی بھی دام بیچیں یا نہ بیچیں۔ خالص بیچیں کہ ملاوٹ کرکے۔جعلی بیچیں کہ اصلی۔کم تول کے بیچیں کہ پلڑے برابر رکھ کے۔ دوا اوریجنل خریدیں کہ دو نمبر۔قسم کھا کے بیچیں کہ بلا قسم۔اپنی خامیوں پر پہلے نگاہ ڈالیں کہ دوسروں کی خامیاں گننے میں عمر گذاردیں۔ون وے کو صرف جانے کا راستہ سمجھیں کہ آنے جانے کا۔ سگنل توڑیں کہ سبز بتی کا انتظار کریں۔گاڑی کا لائسنس جیب میں رکھیں یا کرنسی نوٹ ہی پولیس کانسٹیبل کو بطور لائسنس دکھلا دیں۔
کسی سے دھوکا کھالیں کہ خود ہی کو دھوکا دے لیں۔ اپنے ایمان کی پہلے فکر کریں یا دوسرے کی بے ایمانی پر مسلسل نگاہ رکھیں۔کسی کی تخلیق کو اپنے نام سے چھاپ دیں کہ اپنی تخلیق کسی دوسرے کے نام سے بیچ دیں۔ قانون بنا کے توڑیں یا توڑ کے بنائیں ، ضابطوں پر کلی عمل کریں کہ جزوی یا بالکل ہی نہیں۔انصاف کے حصول کے لیے کوئی اچھا سا وکیل کرلیں یا پھر جج یا خود ہی منصف بن جائیں۔
وعدہ کرکے مکر جائیں یا مکرنے کے بعد وعدہ کر لیں۔پڑھ لکھ کے نورتن ہو جائیں کہ بنا پڑھے لکھے اکبرِ اعظم۔گالیاں دے لیں کہ کھا لیں۔بھکاری بن کے کما لیں کہ کمائی لٹا کر بھکاری ہو جائیں۔دل چرالیں کہ مال۔ دروازہ کھٹکھٹا لیں کہ دیوار کود کے گھس جائیں۔نہتے رہیں کہ اسلحے کا گودام بنا لیں۔لائسنس لیں کہ نہ لیں ، ایک لائسنس پر ایک ہی کلاشنکوف رکھیں یا ایک لائسنس یافتہ کلاشنکوف کے درجنوں ناجائز بچے پیدا کر لیں۔تجارت کریں کہ اسمگلنگ کو تجارت سمجھ لیں۔
جمہوریت کا جمہورا ہوجائیں کہ آمریت کے گن گائیں۔آدھے آمر اور آدھے ڈیموکریٹ بن جائیں یا پھر ڈیمو کریٹک آمر۔اصول پسندی کی سولی پر لٹکتے رہیں کہ بے اصولی کی گنگا میں نہاتے ہوئے بھی خشک رہیں۔ اپنے کو نصیحت کریں کہ دوسروں کی ٹوہ میں لگے رہیں۔ سفید جھوٹ بولیں کہ کالا سچ۔رو لیں کہ ہنس لیں۔ادھار کو آمدنی سمجھیں کہ آمدنی کو ادھار اتارنے کا زریعہ۔
اپنے عقیدے کو افضل جانیں کہ دوسرے کے عقائد کا بھی احترام کریں۔نفرت کا نشانہ بنیں یا بنا لیں۔مظلوم کے ساتھ کھڑے رہیں یا ظالم اور مظلوم دونوں کا ساتھ دیں۔جہالت کو علم سمجھیں یا علم کو جہالت سے پردہ کروا کے رکھیں۔کم علموں کی لا علمی کو منافع بنائیں یا انھیں اپنے علم کے منافع میں شریک کریں۔شرافت کے کمبل میں دبکے رہیں یا شریفانہ وضع قطع سے اپنی کمینگی چھپائیں۔ زبانی جمع خرچ میں زندگی گذار دیں کہ اپنے حصے کا حقِ خدمت خاموشی سے ادا کر جائیں۔
خرد کا نام جنوں رکھ چھوڑیں کہ جنوں کا خرد۔ میں کو ہم سمجھیں یا ہم بطور میں استعمال کرلیں۔ دولت کے نشے میں دوسروں کو نہ بھول جائیں کہ دوسروں کے خواب سستے داموں خرید کر دولت مند ہوجائیں۔لڑیں کہ لڑائیں۔باہر خوشی تلاش کریں کہ اپنے اندر ہی خوشیوں کا باغ لگا لیں۔ ناک سے آگے کچھ نہ دیکھیں کہ دوسروں کی ناک نیچی نہ کروائیں۔دین پھیلائیں کہ دین فروش بن جائیں۔خود بھی جہاد کریں کہ دوسروں کو ہی جہاد پر روانہ کرتے رہیں۔
قتل کریں اور اور پھر عدالت کے باہر مقتول کے خاندان کو ترغیب ، دھونس یا رقم کی چمک دکھا کر معافی تلافی خرید لیں اور عدالت کو ماموں بناتے ہوئے سیٹی بجاتے ہوئے نکل لیں یا کھلے دل سے اقبالِ جرم کرکے ضمیر کی دائمی تپش سے بچیں۔بے بسی کے ہاتھوں طاقت کی تابع ایف آئی آر کا رزق بن جائیں یا پھر اپنے حق کے لیے گریبان کے آخری تار تک لڑیں۔
یا کسی اور کے جرم کا پھندہ اپنے گلے میں فٹ کروا کے عدالتی حکمِ امتناعی کے باوجود جیلر کے ہاتھوں پھانسی پر جھول جائیں۔آپ کے ورثا کو احتجاج کرنے ، آپ کی لاش ایک آدھ گھنٹہ سڑک یا ریلوے لائن پر رکھ کے ٹریفک معطل کرنے، ٹائر جلانے اور کسی پریس کلب کے باہر انصاف کی دہائی میں دو تین روز تادمِ مرگ بھوک ہڑتال اور میڈیائی کیمروں کی آنکھیں سینکنے کی مکمل آزادی ہے اور ریاست کو بھی مکمل حق ہے کہ وہ آپ کے ورثا کے غم میں برابر کی شریک ’’ ہو کر تحقیقات اور پانچ دس لاکھ روپے ہرجانے کا اعلان کر کے آگے بڑھ جائے۔
آپ کو پوری آزادی ہے کہ حقیقت ثابت ہوجائے تو کھلے دل سے قبول کرلیں یا جو دل کہتا ہے اسے ہی حقیقت جانیں۔زندگی بھر مخلص دوستتلاش کرتے رہیں کہ خود بھی مخلص دوست بننے کی کوشش کریں۔ہنر پر سانپ بن کے بیٹھ جائیں کہ ہنر پر بیٹھے سانپ کو ہٹا کر خزانہ دوسروں کے لیے کھول دیں۔
خود کو ہی مسلمان سمجھتے رہیں یا اپنے سے مختلف سوچ رکھنے والوں کو بھی دین کے دائرے میں شامل سمجھیں۔ نماز نماز کی طرح پڑھیں یا ٹکریں مارنے کو ہی زریعہِ ثواب جانیں۔غریبوں اور لاچاروں کو پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دیں یا خود ان کے پاؤں پر کھڑے ہوجائیں۔سب کچھ آپ کی دسترس میں ہے
تعجب ہے کہ ایسے ملک میں جہاں آپ کچھ بھی پوری آزادی اور اطمینان کے ساتھ کر سکتے ہیں وہاں مزید حقوق کے لیے دھرنے ، عدالت کے اندر اور باہر بھاشن بازی اور اکیس انچ کی اسکرین پر روزانہ ناٹک رچانے سے کیا حاصل۔کیا آپ کو ریاست کے وعدے پر قطعاً اعتبار نہیں کہ قانون ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی ؟
یعنی اے کوڑھ مغز لوگو ریاست کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب سب کو سب کچھ پیروںتلے روندنے کی چھوٹ ہے تو پھر قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت مانگنا بنتا نہیں ہے۔
کوئی پابندی نہ چاہے، ایسی آزادی کہاں
(خود میری خواہش سے نکلا سلسلہ زنجیر کا ( عبید اللہ علیم

وسعت اللہ خان

Related posts