پیراڈائز لیکس:دنیا بھر سے 25ہزار ٹیکس چور’’پردہ نشین ‘‘بے نقاب


اسلام آباد(نیوزلائن)پانامہ پیپرز جاری کرنے والے ادارے آئی سی آئی جے نے نئے انکشافات کرتے ہوئے دنیا بھر سے 25ہزار ٹیکس چور کمپنیوں اور افراد کر بے نقاب کر دیا ہے۔پیراڈائز لیکس میں پانامہ ہنگامے میں پھنسنے والے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی امداد کیلئے بھاگم بھاگ پہنچنے والا قطری شہزادہ حماد بن جاسم کی آف شور کمپنی بے نقاب ہوئی ہے۔اور حماد بن جاسم کیلئے مشکلات کھڑی ہو گئی ہیں۔ پیرا ڈائز لیکس کے مطابق ٹیکس چوروں میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ‘ سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز ‘ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز ‘ سابق چیئرمین این آئی سی ایل ایاز خان نیازی‘ قطری شہزادہ حماد بن جاسم کے علاوہ دنیا کی معروف کمپنیاں ای بے‘ مائیکروسافٹ‘ نائکے‘ فیس بک اور ایپل بھی شامل ہیں۔ پیراڈائز لیکس، آئی سی آئی جے نے پانامہ پیپرز کے بعد اپنے انکشافات کی دوسری قسط جاری کر دی، شوکت عزیز نے وزیر خزانہ بننے سے پہلے امریکہ میں ٹرسٹ قائم کیا، سابق وزیر اعظم نے انٹارکٹک ٹرسٹ قائم کیا، جسے برمودا سے چلایا جاتا تھا، اہلیہ اور بچے بینیفشری اونر ہیں۔ شوکت عزیز 1997ء سے 1999ء تک آف شور کمپنی سٹی ٹرسٹ لمیٹڈ کے شیئر ہولڈر اور ڈائریکٹر رہے۔ 1999ء میں شوکت عزیز پاکستان کے وزیر خزانہ بنے۔ 1999ء میں انہوں نے انٹارکٹک ٹرسٹ کے نام سے آف شور کمپنی بنائی۔ اس کمپنی کے بینی فشریز میں ان کی اہلیہ، 3 بچے اور ایک نواسی شامل ہیں۔ شوکت عزیز 2004ء سے 2007ء تک پاکستان کے وزیر اعظم بھی رہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گوشواروں میں اس کمپنی کا ذکر نہیں کیا تھا۔ آف شور لاء فرم ایپل بائی کا برمودا دفتر ان کے مالی معاملات چلاتا تھا۔ نیشنل انشورنس کمپنی کے سابق صدر ایاز خان کی کمپنیاں بھی سامنے آ گئیں۔ ایاز خان نیازی نے 2010ء میں کمپنیاں قائم کیں۔ اس وقت وہ این ای سی ایل کے چیئرمین تھے۔ ایاز خان نیازی کے برٹش اور ورجن آئی لینڈ میں 4 اثاثے سامنے آئے۔ ایاز خان نیازی کے برٹش ورجن آئی لینڈ میں چار آف شور اثاثے ہیں۔ ان میں سے اینڈالوشین ڈسکریشنری نامی ٹرسٹ تھا۔ دیگر 3 کمپنیاں تھیں جو کہ اینڈالوشین سٹیبلشمنٹ لمیٹڈ، اینڈالوشین انٹرپرائزز لمیٹڈ اور اینڈالوشین ہولڈنگز لمیٹڈ ہیں۔ امریکی وزیر کارجہ ریکس ٹیلرسن اور نواز شریف کے دوست قطری شہزادے حماد بن جاسم کا نام بھی پیراڈائز پیپرز میں آ گیا۔ پیراڈائز لیکس میں امریکی صدر کے 13 ساتھیوں کے نام بھی شامل ہیں۔ ان پیپرز میں جن لوگوں کے نام آئے ہیں ان میں سے سب سے بڑی تعداد امریکیوں کی ہے۔ شہزاد سکائی لمیٹڈ کا نام بھی پیراڈائز لیکس میں شامل ہے۔ پیراڈائز پیپرز ایک جرمن اخبار نے حاصل کئے اور آئی سی آئی جے سے شیئر کئے۔ ان میں 1 کروڑ 34 لاکھ سے زائد دستاویزات شامل ہیں جن میں 1950ء سے 2016ء تک کا ڈیٹا کھنگالا گیا۔ پیراڈائز لیکس میں شیرات آئل اینڈ گیس کمپنی کے 3 اکاؤنٹس بھی سامنے آئے ہیں۔ شیرات آئل اینڈ گیس کمپنی نے ڈی ٹی ایچ کی نیلامی کے لئے بولی دی تھی۔ پیراڈائز لیکس میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کا نام بھی شامل ہے۔ ملکہ الزبتھ نے بھی آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کای کی۔ ترک وزیر اعظم کے 2 بیٹوں اور اردن کی سابق ملکہ نور کا نام بھی پیراڈائز پیپرز میں شامل ہے۔ امریکی گلوکارہ میڈونا کا نام بھی پیراڈائز پیراڈائز پیپرز میں شامل ہے۔ ریکس ٹیلرسن ایگزون موبائل کے سابق سی ای او ہیں۔ وزیر تجارت وِلبر روس ڈبلیو ایل روز اینڈ کمپنی کے مالک ہیں اور سپرویژن نامی کمپنی کے وائس چیئرمین رینڈل کوورلز کارلا۴ل گروپ نامی کمپنی میں شراکت دار تھے۔ سعودی عرب کے سابق ڈپٹی وزیر دفاع خالد بن سلطان کا نام بھی آف شور کمپنیاں بنانے والوں کی فہرست میں شامل ہے۔ کینیڈا کے 3 سابق وزرائے اعظم کے نام بھی پیراڈائز لیکس میں شامل ہیں۔ کولمبیا اور لائبیریا کے صدور کے نام بھی پیراڈائز لیکس میں شامل ہیں۔ پیراڈائز پیپرز دنیا کے امیرترین افراد اور کمپنیوں کے خفیہ اثاثوں کی معلومات کا 20 فیصد ہیں۔ ڈائریکٹر آئی سی آئی جے نے دعویٰ کیا ہے کہ دستاویزات اپنے مستند ہونے کی گواہی خود دیتی ہیں۔ مائیکروسافٹ، ای بے، فیس بک، نائیکی اور ایپل جیسی بڑی کمپنیوں اور گلوکار بونو کی بھی آف شور کمپنیاں سامنے آئی ہیں۔ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے مشیر سٹیفن برونفمین بھی آف شور کمپنی کے مالک ہیں لیکس میں دنیا کے 180ممالک کی 25ہزار سے زائد کمپنیوں کی ٹیکس چوری سامنے لائی گئی ہے۔ سینکڑوں افراد کے منی لانڈرنگ کرنے کے بھی ثبوت اس کا حصہ ہیں مزید کئی ایک شخصیات اس میں ملوث نکلیں گی اور بہت سے ناموں کا انکشاف ہونا ابھی باقی ہے

Related posts

Leave a Comment